گلگت بلتستان کے عوام سے زمین نہ چھینیں!

گلگت بلتستان کے خطے کی ڈیموگرافی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، مقامی لوگ اپنی زمینوں پر غیر مقامی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ عوام حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں کی زمینوں کی رکھوالی کرنے والا قانون ’سٹیٹ سبجیکٹ رول‘ نافذ کیا جائے۔

گلگت بلتستان کے شہر سکردو میں 24 جنوری 2021 کو ایک سیاح شنگریلا ریزارٹ کی تصویر لے رہا ہےا (اے ایف پی)

آج کل گلگت بلتستان کی فضاؤں میں آپ کو یہ نعرہ گونجتا سنائی دیتا ہے کہ عوام کی زمین بنا معاوضہ ادا کیے ان سے چھینی جا رہی ہے۔

یہ وہ خطہ ہے جہاں صرف سیاحت سے وزیر اعظم عمران خان 30 سے 40 ارب ڈالر کمانے کی بات کرتے ہیں، اور جو بلاشبہ دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی علاقوں میں سے ایک ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے چند روز قبل سکردو میں جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ غیر مقامی افراد نے گلگت بلتستان میں زمین خریدنی ہے اور وہ زیادہ پیسے دے کر زمین خریدیں گے، لیکن آپ نے اپنی زمین کا خیال رکھنا ہے۔

بدقسمتی سے گلگت بلتستان کو کبھی ترجیح دی ہی نہیں گئی۔ باوجود اس کے کہ یہاں کے لوگوں نے آزادی کی جنگ لڑ کر متفقہ طور پر پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

ترقی کی جب بات کی جاتی ہے تو گلگت بلتستان کی عوام کی بھی خواہش ہے کہ انہیں دیگر صوبوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔ یہ خطہ بھی حکمرانوں کے لیے اتنا ہی اہمیت کا حامل ہو جتنا پاکستان کا کوئی اورصوبہ۔ یہاں کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت دینا ہے۔

یہاں کے عوام کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی صوبے کی حیثیت ملنے سے یہاں بھی لوگوں کو ترقی کے وہی مواقع مل سکیں گے جو دیگر صوبوں میں بسنے والے شہریوں کو حاصل ہیں۔ لیکن یہ دیرینہ مطالبہ دہائیوں سے قراردادوں اور کاغذوں کی نذر ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں جب میں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید سے ملاقات کے دوران سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ عبوری آئینی صوبے کی حیثیت کے حوالے سے تمام تر کارروائی مکمل ہے یہاں تک کہ دیگر سیاسی جماعتوں کا اس پر اتفاق رائے ہے، اور کوشش ہے جلد اسے عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گلگت بلتستان میں زمین کی خرید و فروخت کے معاملے پر وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے کہا کہ تین ماہ کے لیے زمین کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اسی عرصے میں حکومت قانون سازی مکمل کرے گی۔

جہاں سات دہائیوں سے یہاں کی عوام کو آئینی حیثیت سے محروم رکھا گیا وہاں تین ماہ میں ان کے تحفظ کے لیے قوانین کا بننا، منظور ہونا اور پھر اس کا اطلاق ہو جانا کسی معجزے سے کم نہ ہو گا۔

تاہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان پرعزم ہیں کہ آئندہ چار پانچ ماہ میں گلگت بلتستان کے دیگر شعبوں میں واضح تبدیلی نظر آنا شروع ہو جائے گی، جس میں صحت، تعلیم، توانائی، سیاحت اور پیشہ ورانہ صلاحیت سرفہرست ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند ماہ میں گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں پانچ یونٹ برائے انتہائی نگہداشت (ICU) اور 10 نرسنگ سکول قائم کیے جائیں گے۔

مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کے حقوق کی تحفظ کے لیے جو قانون وضع کیا تھا اسے SSR یعنی سٹیٹ سبجیکٹ رول کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت غیر ریاستی باشندوں کو ریاست جموں و کشمیر میں زمین خریدنے اور مستقل آبادکاری کرنے کی اجازت نہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول تاحال جاری ہے جبکہ گلگت بلتستان میں سال 1974 سے ہی یہ قانون معطل کردیا گیا اور ساتھ ہی یہاں کی بنجر اراضیات کو خالصہ سرکار قرار دیا گیا ہے۔

خطے کی ڈیموگرافی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، مقامی لوگ اپنی زمینوں پر غیر مقامی حیثیت اختیار کر گئے ہیں، ایسے میں گلگت بلتستان کی عوام آئے دن سڑکوں کا رخ کر رہے ہیں۔ وہ حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں کی زمینوں کی رکھوالی کرنے والا قانون ’سٹیٹ سبجیکٹ رول‘ نافذ کیا جائے۔

پاکستان میں اس وقت تاریخی مہنگائی ہے، جہاں ایک طرف عمران خان یہ دعوے کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں اربوں ڈالر لائےجا سکتے ہیں، وہیں یہاں کے معاشی بدحالی کا شکار مقامی افراد اور علاقے کے تحفظ کے لیے قوانین موجود نہیں ہیں۔ ایسے میں یہ مقامی افراد شاید بہت کم قیمت پر اپنی زمینیں فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ جس طرح انہوں نے جی بی میں سیاحت کے فروغ کے لیے ذاتی دلچسپی دکھائی، اسی طرح یہاں کے عوام کے تحفظ کے لیے بھی ذاتی دلچسپی دکھائیں ورنہ دنیا کا یہ خوبصورت ترین علاقہ کنکریٹ کا جنگل نہ بن کر رہ جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ