ڈپٹی سپیکر، حمزہ شہباز کی درخواستوں پر سپیکر سے جواب طلب

اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ پنجاب کے نامزد امیدوار حمزہ شہباز اور حکومت کے اپنے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں جن کو اعتراض کے بعد صرف اجلاس بلانے کی حد تک منظور کیا گیا۔

(تصویر: لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ)

پنجاب میں بھی سیاسی بحران آئینی بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے مستعفی ہونے اور گورنر پنجاب کی برطرفی سے سیاسی بحران پیدا تو ہوا مگر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے پر آئینی بحران کی شکل اختیار کرگیا۔

اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ پنجاب کے نامزد امیدوار حمزہ شہباز اور حکومت کے اپنے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں جن کو اعتراض کے بعد صرف اجلاس بلانے کی حد تک منظور کیا گیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلی گئیں سپیکر چوہدری پرویز الٰہی اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 اپریل کو جواب طلب کیا ہے۔

عدالت عالیہ کے مطابق سپیکر کے آئینی اختیارات اور اسمبلی رولز آف بزنس میں مداخلت نہیں کی جاسکتی تاہم صرف اجلاس منعقد کرانے سے متعلق درخواستیں قابل سماعت قرار دی گئی ہیں۔ کیونکہ سپیکر کی رولنگ سے متعلق درخواست عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتی۔

درخواستوں میں کیا موقف اپنایا گیا؟

موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے اپوزیشن تو کیا سپیکر کی مرضی کے خلاف اجلاس بلانے پر اپنی جماعت سے ہی تعلق رکھنے والے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے اختیارات ہی واپس لے لیے اور ان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو گزٹ میں درج نہ کر کے 6 اپریل کو اجلاس بھی نہیں بلانے دیا گیا۔

اس معاملہ پر حمزہ شہباز اور دوست محمد مزاری کی جانب سے دو الگ درخواستیں عدالت میں دائر کی گئیں۔

حمزہ شہباز نے درخواست میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور آئی جی پنجاب کو فریق بنایا ہےاور موقف اختیار کیا کہ یکم اپریل سے چیف منسٹر پنجاب کا عہدہ خالی ہے، سیکرٹری اسمبلی اور انتظامی افسران پرویز الٰہی کے غیر قانونی احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے تقرری کے لیے بلا جواز تاخیر کی جا رہی ہے، حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ فریق ہیں، آرٹیکل 130 کے تحت پنجاب اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں ہو سکتا تھا۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ فریقین اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہو چکے ہیں آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب اراکین اسمبلی کو اسمبلی میں داخل کرانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کر کے فوری وزیراعلیٰ کے انتخابات کرائے جائیں اور پنجاب اسمبلی کے احاطے کو سیل کرنے کا اقدام بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔

اس کے ساتھ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ منتخب ڈپٹی سپیکر ہیں، سپیکر چوہدری پرویز الٰہی جو وزارت اعلیٰ کے امیدوار بھی ہیں انہوں نے پہلے سابق گورنر کی جانب سے طے شدہ شیڈول کے مطابق 3 اپریل کو اجلاس بغیر انتخاب کے 6 اپریل تک ملتوی کردیا اور اس کے بعد 6 اپریل کی بجائے 16 اپریل تک ملتوی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل کی یقین دہانی کے مطابق اجلاس 6 اپریل کو بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

اس نوٹیفکیشن کو سپیکرنے اسمبلی گزٹ میں درج نہیں ہونے دیا اور اسمبلی کو بھی بند کردیا۔

جبکہ 5 اپریل کو سپیکر نے ان کے اختیارات واپس لے کر بے اختیار کردیا اور وہ 6 اپریل کو اجلاس کے لیے اسمبلی پہنچے تو اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے دونوں درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر اعتراض لگا دیا اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی نے سماعت کی اور قرار دیا کہ عدالت سپیکر کے آئینی اختیارات اور رولنگ میں مداخلت نہیں کر سکتی تاہم اجلاس منعقد کرانے کی حد تک درخواستیں قابل سماعت ہیں۔

درخواست گزاروں کی رضامندی کے بعد عدالت نے سماعت 11 اپریل کو مقرر کرتے ہوئے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے بغیر وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیسے ہوگا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے متاثرین کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اور اسمبلی رولز آف بزنس کے مطابق سپیکر کے اختیارات میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی تاہم اجلاس بلانے کی حد تک عدالت اپنے اختیارات کا استعمال کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی رولز آف بزنس اور آئین کے مطابق اسمبلی اجلاس اور قائد ایوان کا انتخاب سپیکر کراسکتا ہے اور وہ خود امیدوار ہو تو ڈپٹی سپیکر کراتا ہے۔

’لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک انصاف نے جمع کرا دی جبکہ سپیکر نے ڈپٹی سپیکر کے اختیارات بھی واپس لے لیے ہیں اس لیے اب وہ بھی اجلاس کی صدارت یا وزیر اعلیٰ کا انتخاب نہیں کرا سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں بھی آئین اور اسمبلی رولز آف بزنس میں کہا گیا ہے کہ سپیکر کی مشاورت سے سیکرٹری اسمبلی پینل آف چیئرمین نامزد کریں گے جس میں چار اراکین اسمبلی کے نام شامل کیے جائیں گے اور وہ بھی سپیکر کی مرضی سے لیے جائیں گے۔

ان ممبران میں سے وہ کسی ایک کو چیئرمین بنائیں گے جو اسمبلی اجلاس کی صدارت کریں گے اور قائد ایوان کا انتخاب کرانے کا اختیار بھی انہیں کے پاس ہوگا۔

صفدر شاہین کے بقول اس ساری صورتحال میں بھی سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے اختیارات سے ہی معاملہ آگے بڑھے گا۔

کیونکہ عدالت صرف اجلاس بلانے سے متعلق ہی کوئی حکم دے سکتی ہے مگر ایوان کی کارروائی سپیکر اسمبلی کے اختیارات پر ہی چلے گی۔

انہوں نے کہا کہ جو اپوزیشن نے نجی ہوٹل میں 6 اپریل کو اجلاس منعقد کیا اور اس میں اپوزیشن اراکین نے اکثریت سے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا یہ سارا عمل علامتی ہے اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔

قائد ایوان کا انتخاب وہی آئینی ہوگا جس میں قانونی شرائط پوری کی جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان