لڑکیوں کی تعلیمی پابندی پر طالبان میں اختلافات کا انکشاف

پاکستان میں طالبان کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے پر قیادت کی سطح پر اختلافات ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اس سے تحریک ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

26 مارچ 2022 کو لی جانے والی اس تصویر میں افغان خواتین اور لڑکیوں کو ہائی سکول دوبارہ کھولنے کے حق میں کابل میں مظاہرے کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے (تصویر: اے ایف پی فائل)

ماہرین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان کی پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک کے انتہائی قدامت پسند افراد اس اسلام پسند گروپ پر سخت کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اس سے اقتدار کی کشمکش ظاہرہوتی ہے جس کی وجہ سے افغانستان کی ناامید آبادی کو اہم امداد نہ ملنے کا خطرہ ہے۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق اس پابندی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر غم و غصہ دیکھا گیا ہے اور یہاں تک کہ طالبان تحریک کے بہت سے لوگ بھی اس فیصلے سے بوکھلا گئے ہیں۔

طالبان کے ایک سینیئر رکن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ حکم افسوسناک تھا۔ سپریم لیڈر نے خود مداخلت کی۔‘

اے ایف پی سے بات کرنے والے تمام طالبان حکام نے موضوع کے حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس موضوع پر بات کی۔

اگست2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد گذشتہ ماہ پہلی بار کھولے جانے کے چند گھنٹوں بعد لڑکیوں کے لیے ثانوی (سیکنڈری) سکول بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ چونکا دینے والا یوٹرن شہر قندھار میں اس گروپ کی قیادت کے خفیہ اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔

حکام نے کبھی بھی اس پابندی کا جواز پیش نہیں کیا، البتہ یہ کہتے رہے ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم ’اسلامی اصولوں‘ کے مطابق ہونی چاہیے۔

لیکن طالبان کے ایک سینیئر عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوند زادہ اور کچھ دیگر سینیئر شخصیات ’اس معاملے پر انتہائی قدامت پسند‘ ہیں اور اس بحث پر حاوی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں دو گروہ یعنی شہری اور انتہائی قدامت پسند ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے علما کے ایک گروپ بشمول چیف جسٹس عبدالحکیم شرائی، وزیر مذہبی امور نور محمد ثاقب اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کے وزیر محمد خالد حنفی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’انتہائی قدامت پسندوں نے یہ راؤنڈ جیت لیا ہے۔‘

افغانستان پر بہت زیادہ کام کرنے اور لندن سے تعلق رکھنے والے محقق ایشلے جیکسن نے کہا کہ علما خود کو حکومتی فیصلوں سے خارج محسوس کرتے ہیں اور لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کرنا ان کے اثر و رسوخ کو بحال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’عوامی رابطوں سے دور رہنے والی اس اقلیت کے بہت زیادہ اثرورسوخ‘ نے ملک کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے جو افغانوں کی بڑی اکثریت اور زیادہ تر قیادت کے لیے بہتر ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) کے تجزیہ کار گریم سمتھ نے کہا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قندھار طالبان کی سیاست کے لیے کشش ثقل کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔‘

طالبان کے ایک سینیئر رکن نے کہا کہ سخت موقف رکھنے والے ان ہزاروں جنگجوؤں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا تعلق انتہائی قدامت پسند دیہی علاقوں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’عورت کا گھر سے باہر نکلنا بھی ان کے لیے غیر اخلاقی ہے، تو تصور کریں کہ انہیں تعلیم دینے کا کیا مطلب ہے۔‘

طالبان رکن نے کہا کہ اخوند زادہ ’جدید، سیکولر تعلیم‘ کے خلاف ہیں کیوں کہ وہ اس کو سابق مغربی حمایت یافتہ صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دور حکومت کی زندگی سے جوڑتے ہیں۔‘

’یہ ان کا عالمی نقطہ نظر ہے‘

امریکی قیادت میں جب افواج نے 2001 میں سخت گیروں کو بے دخل کرنے کے بعد ان کا قبضہ ختم کر دیا تھا اس کے بعد گذشتہ سال طالبان اقتدار میں واپس آئے تھے۔

طالبان کے دو ادوار حکومت کے درمیان 20 سالوں میں لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دی گئی اور خواتین تمام شعبوں میں روزگار حاصل کرسکتی تھیں حالانکہ اس دوران ملک سماجی طور پر قدامت پسند رہا۔

کارکن اور اسلامی اسکالر تفسیر سیاہ پوش نے کہا کہ افغانستان میں لڑکیاں ہمیشہ علیحدہ کلاس رومز میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور اسلامی نصاب پر عمل پیرا رہی ہیں لہذا پابندی سے لگتا ہے کہ طالبان صرف ’بہانے بنا کر خواتین کے حقوق دبانا چاہتے ہیں۔‘

پاکستان میں طالبان کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے پر قیادت کی سطح پر اختلافات ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اس سے تحریک ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ مسئلہ زیربحث ہے۔۔۔۔ لیکن ہم اپنی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اس صورتحال کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی طالبان کی بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنے اور افغانستان کے انسانی بحران سے نمٹنے کی خاطر امداد بڑھانے کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

جیکسن نے کہا کہ نہ اخوند زادہ اور نہ ہی ان کے قریبی لوگ اس عالمی حکم نامے کو ’مکمل طور پر سمجھتے ہیں یا سراہتے ہیں جس میں عالمی حمایت کو خواتین کے حقوق کے احترام سے جوڑا گیا ہے۔‘

یہاں تک کہ طالبان کے کچھ اعلیٰ حکام بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔

قندھار سے تعلق رکھنے والے طالبان کے ایک عہدیدار نے اسلامی سکول کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں (انتہائی قدامت پسندوں) بتا رہے ہیں کہ ملک چلانا مدرسہ چلانے سے مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ سخت حکم آنے تک سب کچھ بالکل ٹھیک تھا۔ یہ ہمارے قائد کی طرف سے آیا ہے لہذا ہمیں اس پر عمل کرنا ہوگا لیکن ہم اسے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

آئی سی جی کے ساتھ وابستہ گریم سمتھ نے کہا کہ اس پابندی سے طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے حکومتوں کی رضامندی میں کمی آئی ہے۔

’اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کے اندر انہیں کس کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین