ڈاکٹر ابراہیم اور مسجد کی کہانی

امریکہ میں ایک پناہ گزین کے کیمپ میں مقیم افغان خاتون کو جب ایک ایتھوپیائی ڈاکٹر نے ایک انمول تحفہ دیا تو ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

افغانوں کے اس کیمپ میں وہ کھڑکی جہاں سے بچوں کو کھانے پینے کی اشیا ملتی ہیں (تصویر: ثروت نجیب)

(ثروت نجیب افغانستان سے نقلِ مکانی کرکے امریکہ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہیں، جہاں سے وہ افغانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی روداد رقم کرتی ہی۔)

ڈاکٹر ابراہیم کا نام سنتے ہی جو حلیہ میرے دماغ میں بنا وہ کسی لمبے چوڑے عربی، پاکستانی یا بھارتی کا تھا کیونکہ اگر وہ افغان ہوتا تو نرس مجھے ضرور بتاتی۔

مگر نرس نے صرف اتنا کہا کہ ’ڈاکٹر ابراہیم آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘ ’کیوں؟‘ میں کرسی پہ بیٹھی انگلیاں چٹخانے لگی۔ میرا بیٹا اس دن ٹھیک نہیں تھا، بس منہ لٹکائے کرسی پہ بیٹھا خاموشی سے اپنا جوتا گھورے جا رہا تھا۔

تھوڑی دیر بعد ایک سیاہی مائل چمکتی آنکھوں والی، نحیف سی خاتون آ کر میرے پاس رک گئی اور ہاتھ بڑھا کر کہا، ’میں ہوں ڈاکٹر ابراہیم۔‘

میں نے ساری حیرانی چھپاتے ہوئے خود کو متعارف کروایا جبکہ وہ مجھے غائبانہ طور پہ پہلے سے جانتی تھی۔ انہوں نے کہا دراصل جب نرس نے انہیں بتایا کہ مجھے کسی ترجمان کی ضرورت نہیں تو ان کا دل چاہا کہ وہ ممجھ سے باتیں کریں۔ انہوں نے نہایت مہربانی سے میرے چاروں بچوں کا نئے سرے سے علاج شروع کرنے کا عندیہ دیا۔

ان کا اپنا نام عالیہ تھا۔ ابراہیم ان کے والد کا نام تھا۔ امریکہ میں اکثر لوگوں کو نام کے دوسرے حصے سے ہی پکارا جاتا ہے اس لیے عالیہ کا نام ابراہیم پڑ گیا۔ مگر ڈاکٹر عالیہ نے کہا جب لوگ مجھے ابراہیم بلاتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ آج جس مقام پہ میں ہوں وہ میرے والد کی وجہ سے ہے۔

ڈاکٹر عالیہ کا تعلق ایتھوپیا سے تھا۔ ان کے والد موذن تھے۔ 11 بہن بھائیوں میں ان کا نمبر چھٹا تھا۔ موذن ابراہیم نے سارے بچوں کو پڑھا لکھا کر اعلیٰ عہدوں پہ پہنچایا۔ کوئی انجینیئر کوئی ڈاکٹر اور کوئی پروفیسر بن گیا۔ ایک دن سب بچوں نے والد کو کہا، ’اب آپ کو مسجد میں اذان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک تو اللہ کا دیا بہت ہے دوسرا آپ کی عمر اب ڈھلتی جا رہی ہے۔‘

والد نے حیرانی سے بچوں کو دیکھا اور کہا، ’اذان دینا کبھی میری ضرورت نہیں تھی میں تب بھی اپنی خوشی سے اذان دیتا تھا اور اب بھی اسی لیے مسجد جاتا ہوں کہ پانچ وقت لوگوں کو فلاح کے راستے پہ لانے کا اعلان کر سکوں۔ عمر کا کیا ہے جب تک آواز ساتھ دیتی رہے گی اذان دیتا رہوں گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر عالیہ نے کہا اب ہم سب بہن بھائی فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ایک موذن کی اولاد ہیں۔ میں نے پوچھا، ’11 بچے امریکہ جیسے ملک میں پالنا مشکل نہیں تھا؟‘

ڈاکٹر عالیہ ابراہیم بولی، ’کیوں نہیں۔ بہت مشکل تھا سب کی پڑھائی کے اخراجات برداشت کرنا انہیں اچھا کھلانا اچھا پہنانا۔ میں تو خود حیران ہوں میرے والد نے تن تنہا کیسے اتنے بچے پالے۔‘

پھر انہوں نے افغانستان میں ہونے والے حالات پہ دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے مجھے تسلیاں دیں قرآنی آیات کا ورد کر کے ان کا ترجمہ کیا۔ ہجرت کے اجر گنوائے۔ وہ اتنی نفیس اور دھیمے مزاج کی خاتون تھیں کہ دل چاہا انہیں سنتی رہوں۔ میری نظر میں ایتھوپیا بھوک اور فاقوں بھرا ایک غریب ملک تھا اور ان کی عوام نجانے کیسے زندگی گزارتی ہے، اس کا کبھی سوچا تک نہیں تھا۔ ڈاکٹر عالیہ ابراہیم سے مل کر میرے دل میں ایتھوپیا کے لوگوں کے لیے اضافی محبت پیدا ہونے لگی۔

وہ میری لینڈ میں ہمیں سپانسر کرنے کو بھی تیار ہو گئیں۔ ہر ضرورت پوری کرنے کا عہد بھی کر لیا، مگر میں نے کہا بس دعا میں یاد رکھنا۔

انہوں نے کہا جانے سے پہلے میں تمھیں کچھ دینا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے جب وہ واپس لوٹیں تو انہوں نے مجھے قرآن کا تحفہ دیا۔ آہ! قرآن۔ میری آنکھیں چھلک پڑیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نجانے کتنے عرصے بعد قرآن اٹھا رہی تھی۔ زندگی اتنی تیز چلی کی قرآن بھی ڈیجیٹل ہو گیا۔ سب کچھ سمارٹ فون میں سمٹ گیا۔ پھر عرصہ ہوا کبھی غلاف میں لپٹے قرآن کو کھولنے کا موقع نہ مل سکا۔

اس دن اچانک مجھے ایک اجبنی دیس کی ایک مسلمان خاتون نے وہ تحفہ دیا جس کی مجھے توقع نہ تھی۔ میں ایک بار کیمپ کی مسجد میں گئی تھی تلاوت کرنے، پتہ چلا کہ سب قرآن غائب ہو چکے ہیں۔ جس کے ہاتھ قرآن لگا وہ سینے سے لگا کر کمرے میں لے گیا۔

مسجد وہاں چوپال بنی ہوئی تھی۔ بزرگ عورتیں وہاں لیٹ کر گپیں ہانکتی تھیں، چھوٹے بچے ادھر ادھر لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے، نوجوان لڑکیاں ٹانگیں پسارے موبائل فون میں غرق ہوتیں۔ جب وہ امریکی مددگار لڑکی مسجد کا رستہ بتاتی دروازے تک لے آئی اور کہا، ’یہ رہی تمہاری مسجد،‘ تومجھے لگا کسی میں کامن روم میں آ گئی ہوں جہاں عورتیں بچوں کے بدبودار ڈائپر بدل رہی تھیں اور ابرو بنانے والی لڑکیوں کے قہقہے تھے کہ چھت سے ٹکرا رہے تھے۔

جیسے ہی امریکی خاتون نے منہ موڑا میں دوسرے دروازے سے باہر نکل گئی۔ خواتین کو مجلس کرنے کے الگ سے ایک خیمہ چاہیے تھا جب نہیں ملا تو اللہ کا گھر کام آ گیا۔ سب نے وہیں ڈیرے ڈال دیے۔ وہیں کھایا پیا، نماز پڑھی، سستایا۔ اللہ معاف کرنے والا ہے یہ ان کی مجبوری تھی کیونکہ مسجد ہی وہ جگہ تھی جہاں سب عورتیں مل بیٹھ کر وقت گزار سکتی تھیں۔

خیر ڈاکٹر عالیہ نے مجھے تاج کمپنی پاکستان کے دو قرآن پاک کے نسخوں کے علاوہ  چند تسبحیں بھی دیں۔ بلکہ ان کے تھیلے میں جتنی تسبیحیں تھیں وہ سبھی مجھے دے دیں۔ انہوں نے کہا چار سو قرآن وہ اب تک افغان مہاجرین کو تحفہ دے چکی ہیں اور تسبیحیں تو اس نے خود بھی نہیں گنیں۔

ڈاکٹر عالیہ ابراہیم نے کہا جب مجھے پتہ چلا کہ افغان آ رہے ہیں تو یہاں کام کرنے کی ہامی بھر لی اور جتنے قرآن اس دکان پہ تھے سب خرید لیے یہ سوچ کر کہ کپڑے، خوراک، دوا سب مل جائے گا مگر قرآن کون دے گا افغان مہاجرین کو؟

ان کا تھیلا خالی ہو چکا تھا۔ میں قرآن کو سینے سے لگائے جب واپس آ رہی تھی تو سارے راستے میں صرف یہی سوچ رہی تھی کہ انسان اگر واقعی دل سے کوئی تمنا کرے تو خدا ضرور سنتا ہے اور پوری کرتا ہے۔ پہلی بار مجھے اپنی چاہت پہ کوئی پشیمانی نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے دل میں کہا کہ کاش قرآن کے بجائے میں نے کچھ اور مانگ لیا ہوتا۔ بےشک ہر مشکل کے بعد راحت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ