امریکہ کا قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کا خیرمقدم

امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان جیلینا پورٹر کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

25  مارچ 2000 کی تصویر میں راولپنڈی میں چک لالہ ایئر بیس پر اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی پاکستان آمد پر نصب امریکہ اور پاکستان کے پرچم (اے ایف پی)

امریکہ نے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اس علامیے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو سابقہ حکومت کو گرانے میں کسی قسم کی بیرونی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ 

واشنگٹن میں جمعے کو ایک پریس بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان جیلینا پورٹر سے سوال کیا گیا کہ ’پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کوئی غیر ملکی سازش نہ ہونے کے حوالے سے جو بات کی گئی، آپ اس پر کیا تبصرہ کریں گی؟‘

نائب ترجمان جیلینا پورٹر نے جواباً کہا: ’ہمارا شروع سے یہی موقف ہے کہ ان افواہوں میں قطعی کوئی صداقت نہیں ہے، اس لیے ہم اس بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں یہ بات واضح کرنا چاہوں گی کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس نے ہمیشہ ایک مضبوط، خوشحال اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھا ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا 38 واں اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’خفیہ اداروں نے مراسلے کی تحقیقات کیں، اور دوران تحقیقات کسی غیر ملکی سازش کے ثبوت نہیں ملے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر سمیت مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔

رواں ماہ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس تھا جس کی سربراہی وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔

اجلاس میں امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کو موصول ہونے والے مراسلے پر بات کی گئی۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے کمیٹی کو مراسلے کے پس منظر اور مندرجات سے متعلق بریفنگ دی۔

قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلے کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد اپنے گذشتہ اجلاس کے فیصلے کی بھی توثیق کی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق: ’قومی سلامتی کمیٹی کو ملک کی صف اول کی سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک بار پھر آگاہ کیا کہ انہیں کسی سازش کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔‘

’لہٰذا قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلے کے مندرجات کا جائزہ لینے اور سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ کوئی غیرملکی سازش نہیں ہوئی ہے۔‘

یاد رہے کہ اس معاملے پر پاكستانی دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور سے احتجاج بھی كیا تھا جبکہ امریکہ متعدد بار مبینہ خط اور ’سازش‘ کے الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ