یوم القدس: مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد میں اضافہ

یوم القدس کے قریب آتے ہی اسرائیلی قابض افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں گھر گھر چھاپوں میں اضافہ کر دیا ہے اور تشدد کی اس حالیہ لہر میں کم از کم 17 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

اس دن کو منانے کی روایت 1979 سے چلی آ رہی ہے، جس میں مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں اکٹھے ہو کر نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس کے طور پر منایا جاتا ہے اور گذشتہ ایک دہائی سے اس دن کے قریب آتے ہی مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کی جانب سے پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حال ہی میں اسرائیل فورسز مقبوضہ مغربی کناے میں چھاپوں میں تیزی لائی ہے جس سے حالیہ چند ہفتوں میں کم از کم 17 فلسطینی مارے گئے ہیں۔

گھر گھر چھاپوں میں یہ تیزی حالیہ پر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں دیکھی گئی جب کم از کم دو فائرنگ کے واقعات میں تین اسرائیلی پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد ہلاک ہوئے۔

بدھ کی رات بھی ایسے ہی ایک واقعے میں قابض اسرائیلی افواج نے فلسطینی علاقے جنین میں چھاپہ مارا۔ اس دوران انہوں نے فائرنگ کر کے ایک نوجوان کو قتل کر دیا۔

یہ رواں ہفتے پر تشدد کارروائی کا دوسرا واقعہ تھا جس میں اسرائیلی افواج نے رات گئے گھر گھر چھاپوں کے دوران کسی فلسطینی نوجوان کو قتل کیا ہو۔

یوم القدس کیا ہے؟

فلسطین سمیت دنیا بھر میں مسلمان رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس کے طور پر مناتے ہیں۔

اس دن کو منانے کی روایت 1979 سے چلی آ رہی ہے جس میں مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں اکٹھے ہو کر نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔

یوم القدس پر پاکستان میں بھی فلسطینیوں کے حق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔

اس سال بھی پاکستان میں مختلف تنظیموں نے رمضان کے آخری جمعے یعنی جمعتہ الوداع کی نماز کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق گذشتہ ہفتے کے اختتام پر فلسطین فاؤنڈیشن نامی ایک تنظیم کی اسلام آباد شاخ کے زیر اہتمام یوم القدس کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا۔ اس کانفرنس میں شرکا نے پاکستان بھر میں یوم القدس منانے کا اعلان کیا تھا۔  

فلسطین میں مسلمان اس روز بیت المقدس میں جمع ہوتے ہیں۔ رمضان کے آخری جمعے کی نماز ادا کرتے ہیں اور اسرائیلی قابض افواج کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔

گذشتہ سال 7 مئی 2021 کو یوم القدس پر ایسے ہی ایک احتجاج کے دوران مسجد اقصیٰ کے احاطے میں سینکڑوں فلسطینی اور اسرائیلی پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔

اس جھڑپوں میں کم از کم 163 فلسطینی اور چھ اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

بہت تھوڑے وقت میں زخمیوں کی اس قدر زیادہ تعداد کے پیش نظر فلسطینی ہلال احمر کو ایک فیلڈ ہسپتال کھولنا پڑا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فلسطینی گروپ حماس کے رہنما اسماعیل رضوان کا بیان رپورٹ کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی یوم القدس پر ہمارا پیغام ہے کہ ہم فلسطینی عوام کے اصولوں پر سر تسلیم خم کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خاص کر بیت المقدس جو فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے۔ اس پر قبضے پر ہم کہتے ہیں کہ بیت المقدس اور الاقصیٰ کے خلاف آپ کے جرائم کو جاری نہیں رہنے دیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا