مدینہ واقعہ: سعودی عرب کی پانچ پاکستانیوں کی گرفتاری کی تصدیق

سعودی عرب نے ایک بیان میں کہا کہ مدینہ منورہ کی پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے، جنہوں نے پاکستانی شہریت کی حامل خاتون اور ان کے ساتھیوں پر اس وقت نازیبا الفاظ سے حملہ کیا جب وہ مسجد نبوی کے صحن میں موجود تھے۔

سعودی عرب نے جمعرات کو مدینہ منورہ میں پاکستانی وفد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے پانچ افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔

سعودی سکیورٹی حکام نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا کہ مدینہ منورہ کی پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے، جنہوں نے پاکستانی شہریت کی حامل خاتون اور ان کے ساتھیوں پر اس وقت نازیبا الفاظ سے حملہ کیا جب وہ مسجد نبوی کے صحن میں موجود تھے۔

اس سے قبل پاکستان میں سعودی سفارت خانے نے بعض پاکستانی شہریوں کے گرفتار کیے جانے کی تصدیق کی تھی لیکن تعداد نہیں بتائی گئی۔

سعودی سفارت خانے کے ترجمان فواز عبدالله العثيمين نے جمعے کو ایک بیان میں پاکستانیوں کی سعودی عرب میں گرفتاریوں پر کہا کہ ’جی ہاں یہ صحیح ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ان میں سے بعض کو قواعد کی خلاف ورزی اور مقدس مقامات کی توہین کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔‘

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکومتی عہدیداران کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں ہونے والی نعرے بازی کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سعودی حکام سے مناسب کارروائی کرنے کی درخواست کرنے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی جماعت کے لیے لوگ اکٹھے کرکے مخالفین کے خلاف ’گالم گلوچ مشکل بات نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کسی جماعت کے لیے سو دو سو بندے اکٹھا کرنا اور اپنے مخالفین کے خلاف گالم گلوچ کرنے کے لیے بھیجنا کیا مشکل ہے، یہ ہمارے لیے بھی مشکل نہیں ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم ریکارڈ سامنے لا رہے ہیں کہ کس طرح یہاں سے منصوبہ بندی کی گئی۔ باقاعدہ یہ کہا گیا کہ دیکھیے گا کہ کل ان کے ساتھ وہاں کیا سلوک ہوتا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر جمعرات سے مدینہ سے کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں ایک ہجوم حکومتی وفد میں شامل چند اراکین کے خلاف بظاہر ’چور‘ اور  ’غدار‘ کے نعرے لگا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کراچی کے آفیشل اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں سعودی سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ شاہ زین بگٹی اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی آمد کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پیچھے لوگ نعرے بازی کر رہے ہیں اور ویڈیوز بنا رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: مسجد نبوی میں سیاسی نعرے بازی: ’شرمندگی کی بات ہے‘

اپنی پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ ’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کے کسی اور ملک کا بھی نام آئے کہ ان کا وفد وہاں موجود تھا ور اس ملک کے لوگوں نے وہاں بدتمیزی کی۔ شاہ زین بگٹی پر جسمانی تشدد کیا گیا اور مریم اورنگزیب کو بھی ہراساں کیا گیا۔‘

رانا ثنا اللہ نے مزید بتایا کہ ’ہماری وزارت سعودی حکومت سے درخواست کرنے جارہی ہے کہ وہ اس بارے میں مناسب ایکشن لیں اور ان لوگوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ان کی شناخت بتائیں۔‘

’اول تو یہ کہ انہیں واپس بھیجا جانا چاہے، یہ لوگ وہاں رہنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ دوسرا ہم وزارت قانون سے بھی پوچھیں گے کہ ان کے خلاف یہاں مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے مسلم لگ ن پنجاب کے صدر کی حیثیت سے کارکنوں کو کہا کہ ’کوئی اس قسم کا قدم نہیں اٹھانا۔‘

رانا ثنا نے واضح کیا: ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نہیں کرسکتے، لیکن ہم سمجھتے ہی کہ طویل مدت میں اس سے سیاست تلخ ہوگی۔ یہ نہ تو جمہوریت اور نہ ہی اس ملک کے لیے بہتر ہے۔‘

رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’کہا گیا کہ ان کے لیے گھروں سے نکلنا مشکل ہوجائے گا۔ہم نے تو گھروں سے نکل کر جیلوں میں جاکر آپ کے ظلم کو برداشت کیا اور ایک لمحہ بھی ہماری استقامت میں لرزش نہیں آئی۔‘

’آپ نے ہمارے خلاف جھوٹے کیسز بنائے، ہم نے یہی کہا کہ ہم کل تک اپنے لیڈر کے ساتھ 100 فیصد تھے، آج ہزار فیصد ہیں۔‘

دوسری جانب رانا ثنا اللہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ’اس عمل سے پوری دنیا میں مسلمانوں کا دل دکھا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان