مدرسہ پنج پیر جہاں 50 ہزار طلبہ دورہ تفسیر مکمل کرتے ہیں

خیبر پختونخوا کے شہر صوابی کا گاؤں پنج پیر قرآن کی اشاعت و تبلیغ کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی کا گاؤں پنج پیر قرآن کی اشاعت و تبلیغ کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔

یہاں گذشتہ 84 سالوں سے ہر رمضان میں دورہِ تفسیر القرآن ہوتا ہے جو 27ویں شب کو اختتام پذیر ہوتا ہے۔

اس دورے کا آغاز 1938 میں معروف عالم دین مولانا محمد طاہر پنج پیری نے کیا تھا۔

مولانا طاہر کے بیٹے اور حقیقی جانیشن شیخ القرآن مولانا محمد طیب طائری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مولانا محمد طاہر نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے اپنی پختون سرزمین کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور گاؤں پنج پیر سے قرآن کی اشاعت و تبلیغ کے مشن کا آغاز کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ابتدا میں درس میں کم لوگ شامل تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کا حلقہ اثر بڑھتا گیا اور پھر آپ کے شاگرد لاکھوں تک پہنچ گئے۔‘

مولانا طاہر نے نصف صدی تک پنج پیر میں شیخ التفسیر کی حیثیت سے اسلامی علوم کی تدریسی خدمات انجام دیں جن سے لاکھوں علما نے شرف حاصل کیا جب کہ ان کے بعد مولانا محمد طیب اپنے والد کے قرآن فہمی کے اس مشن کو گذشتہ 36 سالوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مولانا طیب کہتے ہیں کہ انگریز دور سے شروع ہونے والے پشتو زبان میں اس دورہِ تفسیر القرآن کو پختون سرزمین میں بہت جلد پذیرائی ملی اور افغانستان اور ایران سے بھی طلبہ کی بڑی تعداد اس دورہ میں شریک ہوتی آئی ہے جس کی بدولت آج افغانستان میں ان کے شاگردوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

مدرسہ دارالقرآن پنج پیر میں ماہ شعبان کی دسویں تاریخ سے 27ویں رمضان تک عوام اور طلبہ کے لیے پشتو زبان میں دورہِ تفسیرالقرآن ہوتا ہے جب کہ شوال میں علما کے لیے چھوٹے دورے کا اردو زبان میں اہتمام کیا جاتا ہے۔

مولانا طیب کے بقول قرآن کی ترویج و اشاعت میں پنج پیر کے مقامی لوگوں کا بہت تعاون رہا ہے اور اسی بدولت آج یہ گاؤں قرآن کی مناسبت سے عالمی شہرت کا حامل ہے۔

’یہاں دنیا کا سب سے بڑا دورہِ تفسیر القرآن ہوتا ہے‘ جس میں کم و بیش 50 ہزار طلبہ ہر سال ملک کے مختلف علاقوں اور بیرون ممالک سے شرکت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس بار دورہ تفسیر میں کل 45 ہزار طلبہ شریک ہیں جن کے قیام و طعام کا مدرسہ میں انتظام کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے پنج پیر کے مکینوں نے اپنی بساط کے مطابق یہاں قائم ڈیڑھ سو مساجد میں ان کے ٹھہرنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا۔

تعداد زیادہ ہو جانے پر لوگوں نے اپنے حجروں اور گھروں میں بھی مہمانوں کو ٹھہرایا اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا