روس کو ’عالمی تنہائی‘ کی جانب دھکیلنے میں کامیاب رہے: امریکہ

منگل کو ایک پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ کونسل معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔

پانچ اپریل 2022 کی اس تصویر میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں روسی اور امریکی نمائندے شریک ہیں(اے ایف پی)

روس نے ایک غیر معمولی اقدام میں یورپی یونین کی سیاسی اور سلامتی کمیٹی (پی ایس سی) کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ امریکہ فروری کے بعد سے روس کو عالمی تنہائی کی جانب دھیکنے میں غیر معمولی حد تک کامیاب رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ کریملن کا یہ اقدام ماسکو اور اس کے اقوام متحدہ میں شراکت داروں کے درمیان بگڑتے تعلقات کی علامت ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک روسی سفارتی ذرائع نے بتایا کہ ماسکو کا یہ فیصلہ یوکرین کی صورت حال سے جڑا ہوا ہے۔

ایک اور مغربی سفارت کار نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں یاد نہیں ہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد سے سلامتی کونسل کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہو۔

سلامتی کونسل اور پی ایس سی کے درمیان سالانہ غیر رسمی اجلاس 2019 سے کرونا کی وبا کے باعث اب تک منعقد نہیں ہو پایا تھا۔

 توقع ہے کہ بدھ کے اجلاس میں یورپی یونین کے اقوام متحدہ کے ساتھ ان ممالک کے بارے میں بات چیت کی جائے گی جن کے ساتھ دونوں عالمی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔

یوکرین پر حملے کے بعد سے ماسکو اور اقوام متحدہ میں بعض رکن ممالک کے درمیان تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک روس کو انسانی حقوق کونسل سمیت اقوام متحدہ کے کئی اداروں سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ کونسل معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کونسل فروری کے بعد سے ’روس کو عالمی تنہائی‘ کی جانب دھکیلنے میں غیر معمولی حد تک کامیاب رہی ہے۔

تھامس گرین فیلڈ نے صحافیوں کو بتایا: ’یہ ایک اہم کامیابی ہے۔ ہم جنرل اسمبلی میں روس کی مذمت کرنے والی آوازوں کو یکجا کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن ایسا اس لیے ہوا کہ سلامتی کونسل میں اس کے لیے بہت زیادہ حمایت موجود تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا: ’روس سلامتی کونسل میں تنہائی کا شکار ہے اور جب بھی ہم سلامتی کونسل میں روس کے حوالے سے بحث کرتے ہیں تو وہ دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ہم یہ اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ یوکرین پر اپنے ظالمانہ حملے کو ختم نہیں کر دیتا۔‘

دوسری جانب روسی افواج نے منگل کو ماریوپول میں مزاحمت کی آخری ٹھکانے سٹیل مل پر حملے تیز کر دیے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ روسی بمباری سے تباہ ہونے والے پلانٹ سے انخلا کرنے والے شہری اب نسبتاً محفوظ ہو گئے ہیں۔

یوکرین کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر اوسنت لبرانی نے کہا کہ پلانٹ سے انخلا کی کوششوں کی بدولت 101 افراد، جن میں خواتین، بوڑھے اور 17 بچے شامل ہیں، سٹیل مل کے نیچے بنکروں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے دو ماہ بعد پہلی بار دن کی روشنی دیکھی۔

ایک انخلا کرنے والی خاتون نے اے پی کو بتایا کہ وہ ہر رات پلانٹ میں یہ سوچ کر سوتی تھیں کہ انہیں اگلی صبح دیکھنا نصیب نہیں ہو گی۔

54 سالہ ایلینا تسیبلچینکو نے بتایا: ’آپ تصور نہیں کر سکتے کہ بم شیلٹر میں رہنا کتنا خوفناک ہوتا ہے۔ آپ نمی والے تہہ خانے میں بیٹھے ہوں اور یہ بمباری سے ہل رہا ہو۔‘

انخلا کرنے والے ماریوپول سے تقریباً 140 میل شمال مغرب میں بسوں اور ایمبولینسوں کے قافلے میں یوکرین کے زیر کنٹرول علاقے میں قائم خیموں میں پہنچے جو ہفتوں سے گرم کھانے، ڈائپرز اور بیرونی دنیا سے روابط جیسی سہولیات سے محروم تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا