افغان ٹیم کو آسان حریف مت سمجھیں

یاد رکھنا چاہیے کہ ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا جب افغانستان نے پاکستان کو وارم اپ میچ میں شکست دی تھی۔

اے ایف پی

‎پاکستان ٹیم نے بڑے دنوں بعد شائقین کرکٹ کو نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ ‎کے خلاف جیت کر  خوش کر دیا اور کافی حد تک ان کی دیرینہ ناراضی ختم ہوتی نظر آ ئی۔ ‎اگرچہ ابھی  افغانستان اور بنگلہ دیش کے خلاف سخت میچ باقی ہیں لیکن عوام سیمی فائنل میں پہنچنے کی امید زندہ ہونے پر  بھی دلی مسرت محسوس کر رہے ہیں۔

‎بھارت سے شکست کے بعد‎ پاکستانی ٹیم سخت دباؤ میں تھی۔ ٹیم، میڈیا اور شائقین، سب کی شدید تنقید کا نشانہ بنی ہوئی تھی۔ میں سمجھتی ہوں کہ زیادہ تر کھلاڑی اس تنقید  کے مستحق بھی تھے کیونکہ ان کی کارکردگی پروفیشنل معیار کے مطابق نہیں تھی۔ ٹیم کی سلیکشن پر بہت بحث ہوئی ہے خاص طور جس میں حسن علی اور شعیب ملک جیسے  آؤٹ آف فارم کھلاڑی شامل ہیں۔ مجھے حیرت تھی کہ حارث سہیل جیسے باصلاحیت کھلاڑی باہر بیٹھے اپنے ناخن چبا رہے تھے۔ لیکن بھارت کے خلاف انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم انتظامیہ نے حارث سہیل اور شاہین آفریدی کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو صورتحال نے بہتری کی طرف  یوٹرن لے لیا۔

‎ میری  نظر میں  پہلے میچ میں زیادہ رنز دینے کے باوجود بھی  آفریدی  اچھی بولنگ کر رہے تھے کیونکہ دوسرے سپل میں وہ بہت ہی اچھی لینتھ پر گیند کر رہے تھے اب ان کو صرف نئی گیند  سے محمد عامر کے ساتھ مل کر اچھی بولنگ کرنے کی ضرورت تھی۔ ہم نے دیکھا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف شاہین آفریدی نے اچانک نئی گیند کے ساتھ بہترین بولنگ کی۔ اس کا کریڈٹ کوچز اور سب جوانوں کو جاتا ہے جنہوں نے آف ڈیز میں سخت محنت کی۔ آفریدی نے فل لینتھ پر بولنگ کی اور بلے بازوں کو مجبور کیا کہ وہ فرنٹ فٹ نکل کر کھیلیں۔ انہوں نے شارٹ گیندیں نہیں کرائیں جس سے بیٹسمین کو پل کرنے اور کٹ مارنے کے مواقع نہیں ملے۔ اگر بولر بیٹسمین کو گیندیں بیٹ کرا رہا ہو تو دیکھنے والا آسانی سے کہہ سکتا ہے کہ بولر نئی گیند کے ساتھ انصاف کر رہا ہے۔ آفریدی نے حسن علی کی جگہ لی‎ اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ حسن کچھ عرصہ سے  شارٹ گیندیں کرا رہے تھے جس کے باعث بلے باز انہیں پل اور کٹ مار رہے تھے۔ حسن نے صورتحال کو سمجھ کر ایڈجسٹمنٹ نہیں کی۔ لیکن آفریدی نے دماغ استعمال کرتے ہوئے ایک خراب گیم کے بعد ایڈجسٹمنٹ کر لی۔ میں انگلینڈ میں گیند کی صحیح لینتھ سمجھنے پر اس نوجوان کو سلام پیش کرتی ہوں اور میری نظر میں ٹیم کی کامیابی میں آفریدی اور عامر کا بڑا ہاتھ ہے۔

‎اس جوڑی نے پاکستانی ٹیم کو پہلے دس اوورز میں زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کی وہ صلاحیت مہیا کی  جو کسی بھی ٹیم کے لیے نہایت ضروری ہوتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں آفریدی نے ثابت کیا کہ اگر وہ نئی گیند کے ساتھ صحیح لینتھ پر بولنگ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ میچ جتوانے والا بولر ہے۔ شاہین آفریدی کی نئی گیند کے ساتھ تین وکٹوں نے گرین شرٹس کے لیے میچ جیتنا ممکن بنایا اور ٹارگٹ کو ممکن حد میں رکھا ۔ میرے نزدیک نیوزی لینڈ کے میچ میں مین آف دی میچ  شاہین آفریدی تھے جنہوں نے کیوی بلے بازوں کو تمام وقت فرنٹ فٹ پر رکھا اور نیوزی لینڈ کی ٹاپ آرڈر کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اچھی  لینتھ پر گیند کریں گے۔ باؤنسر صرف بیٹسمین کو سرپرائز دینے کے لیے اچانک مارا جائے تو ہی کارآمد ہوتا ہے اس بےجا استعمال سودمند نہیں ۔

‎ مینجمنٹ کا دوسرا اچھا فیصلہ  حارث سہیل کی ٹیم میں شمولیت تھی جنہیں شعیب ملک کی جگہ لایا گیا تھا۔ میرے نزدیک شعیب ملک کی کارکردگی ہمیشہ اوور ریٹ کی گئی ہے ۔ حارث سہیل نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں اپنی پرفارمنس ثابت کی اور پھر کیویز کے مضبوط بولنگ اٹیک کے خلاف  سکور  چیز کرنے کے دباؤ کا بہت خوبصورت انداز میں سامنا کیا، اور اس طرح اپنی صلاحیت کا لوہا منوا لیا۔ انہوں نے سپن اور فاسٹ بولنگ کو پوری طرح آسانی کے ساتھ کھیلا اور دباؤ کے لمحات کو سکون کے ساتھ گزار دیا۔ انہوں نے میچ وننگ اننگز کھیلی اور میچ کے ہیرو بابر اعظم کے ساتھ مل کر پارٹنرشپ بنائی۔ کیویز کے خلاف جیت کا سب سے اچھا پہلو یہ ہے کہ بابر اعظم نے اپنے ناقدین کے منہ بند کر دیئے۔ انہوں نے آخر تک بیٹنگ کی اور اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی طرف سے پہلی سینچری بنائی اور ٹورنامنٹ میں موجود باقی نو ممالک کی ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں اور پاکستان کے لیے سیمی فائنل میں پہنچنے کی امید پیدا کر دی۔

‎پاکستان نے اس میچ میں کیچ بھی نہیں گرائے۔ سرفراز نے دو بہت اچھے چانسز پکڑے۔ ولیم سن کا کیچ بہت اہمیت کا حامل تھا۔ اس کے علاوہ لیگ سپنر بولر وکٹ کیپر کے لیے آسان نہیں ہوتا لیکن سرفراز نے شاداب کی بال پر کین ولیم سن کا ایک مشکل کیچ پکڑ کر سب کو حیران کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 

‎عمومی طور پر اب فیلڈرز بالاخر اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں مگر اس میں مزید بہتری ہو سکتی ہے۔ خصوصا دائرے کے اندر فیلڈرز کو مزید تیز ہونے اور سنگلز روکنے کی ضرورت ہے۔ تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں فیلڈنگ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ جس میں پاکستان نے سات کیچ گرائے تھے، اس سے کہیں بہتر تھی۔ 

‎میں جو بات کہنا چاہ رہی ہوں وہ یہ ہے کہ ٹیم میں دو تبدیلیوں، بلے بازوں کی طرف سے بہتر حکمت عملی، بولرز کی طرف سے لینتھ میں بہتری اور کیچ پکڑنے سے کتنا بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔ ہم ایک ہارنے والی ٹیم سے اچانک خطرناک ٹیم بن گئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ  ٹیم کا انتخاب اور تینوں شعبوں میں بہتری کتنی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے گزشتہ کالموں میں بار بار ان باتوں پر زور دیتی رہی ہوں۔ کل پاکستان کا میچ افغانستان کے خلاف ہے جو ٹورنامنٹ کی ابھی تک ناقابل شکست ٹیم بھارت کو ہرانے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ اس لیے افغانستان کو آسان نہیں سمجھا جا سکتا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے خلاف اسی جذبے کے ساتھ کھیلے جو اس نے نیوزی لینڈ کے خلاف دکھایا تھا۔ 

‎افغان ٹیم میں تین شاندار سپنرز، مجیب الرحمن، رشید خان اور محمد نبی شامل ہیں۔ بلے بازوں کو ان تین شاندار سپن بولرز کو بہت سمجھداری اور شاید بہت احتیاط کے ساتھ کھیلنا ہو گا۔

‎افغانستان کے خلاف میچ اگلے مرحلے میں جانے کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کے بعد ٹورنامنٹ کی محنتی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف کھیل کی حکمت عملی بنا سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم حقیقی ڈارک ہارس ہے لیکن اس سے پہلے پاکستان کو آج ناقابل اعتبار افغانستان کے خلاف کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایک بات یقینی ہے کہ پاکستان کے پاس گنجائش نہیں کہ وہ افغانستان کو آسان حریف نہ سمجھے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا کہ جب افغانستان نے انہیں وارم اپ میچ میں شکست دی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ