پاکستان میں شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے ترقیاتی منصوبے

پاکستان کے کئی شہروں میں شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے ترقیاتی منصوبے موجود ہیں۔ سیدو شریف، وانا، سوات اور لاہور میں موجود ان چار فلاحی منصوبوں کی تفصیلات جو شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے تعاون سے مکمل ہوئے۔

شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کی یہ تصویر ان کے 2009 میں دورہ پاکستان کے موقع پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کے دوران کی ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ خليفة بن زايد آل نهيان جمعہ 13 مئی کو 73 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے انتقال پر متحدہ عرب امارات میں 40 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

1948 میں پیدا ہونے والے شیخ خلیفہ متحدہ عرب امارات کے دوسرے صدر اور ابوظہبی کی امارات کے 16ویں حکمران تھے اور تین نومبر 2004 کو متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران بنے تھے۔

تاریخی اعتبار سے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے تعلقات میں ہمیشہ مضبوطی ہی دیکھی گئی ہے جس کی مثال وہ منصوبے ہیں جو مختلف ادوار میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں شروع کیے گئے ہیں۔

پاکستانی حکمران بھی متعدد بار اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ’مشکل‘ وقت میں جن ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا ان میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ ’پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور قریبی تعاون پر مبنی تاریخی دیرینہ برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔‘

انہوں نے شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کی جانب سے اقتصادی وفد پاکستان بھیجنے پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

جبکہ شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے انتقال پر پاکستان کے وزیراعظم نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات ایک دوراندیش لیڈر اور پاکستان کے بہترین دوست سے محروم ہو گیا ہے۔‘

ویسے تو متحدہ عرب امارات کے پاکستان میں منصوبوں کی  فہرست طویل ہے تاہم یہاں ہم ان چند منصوبوں پر نظر ڈالتے ہیں جو شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے نام پر ہیں۔

شیخ خليفة بن زايد آل نهيان ہسپتال، سیدو شریف

متحدہ عرب امارات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے شہر سیدو شریف میں بنائے جانے والے اس ہسپتال کا مقصد وہاں کے لوگوں کی مشکلات دور کرنا ہے۔

چونکہ سوات کے لوگوں کو علاج کی غرض سے دوسرے علاقوں میں جانا پڑتا تھا جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا تھا۔

اسی وجہ سے متحدہ عرب امارات کی مالی امداد سے سیدو شریف میں سو بستروں پر مشتمل ہسپتال کا 2016 میں افتتاح کیا گیا۔

اس ہسپتال کی تعمیر پر کل پانچ عشاریہ پانچ ملین ڈالرز کی لاگت آئی۔ اس ہسپتال کا بنیادی مقصد حملہ خواتین اور نومولود بچوں کو طبی امداد فراہم کرنا ہے۔

شیخ خليفة بن زايد آل نهيان ہسپتال سیدو شریف میں کل تین شعبے ہیں اور تین ہی آپریشن تھیٹر بھی دستیاب ہیں۔

شیخ خليفة بن زايد آل نهيان روڈ، وانا

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے نام پر ایک روڈ موجود ہے۔

یہ روڈ شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے احکامات پر تعمیر کی گئی جس کا مقصد اس علاقے کے لوگوں کی سفری مشکلات کو کم کرنا تھا۔

وانا میں موجود شیخ خليفة بن زايد آل نهيان روڈ 50 کلومیٹر طویل اور نو میٹر چوڑی اس سڑک پر پانچ پل بھی بنائے گئے ہیں۔

یو اے ای پی اے پی کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق اس منصوبے پر 38010000 ڈالرز کی لاگت آئی۔

شیخ خليفة بن زايد آل نهيان پل، سوات

پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں جو علاقے متاثر ہوئے ان میں ایک سوات بھی تھا۔

ان بارشوں اور سیلابی ریلوں نے سوات میں بھی کافی تباہی مچائی جس کی زد میں کئی سڑکیں اور پل بھی آئے تھے۔

شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے احکامات پر اس علاقے میں ایک پل کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جس کا افتتاح اپریل 2013 میں کیا گیا۔

یہ پل سوات کے تقریباً 15 قصبوں اور 45 دیہاتوں کو جوڑتا ہے اور اس کی تعمیر پر کل 10510000  ڈالرز کی لاگت آئی۔

پل تقریباً 448 میٹر طویل اور 10 میٹر سے زیادہ چوڑا اور 10 میٹر اونچا ہے۔

اس کے علاوہ سوات ہی میں شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے نام پر ایک اور پل بھی موجود ہے، جس پر کل 12460000 ڈالرز کی لاگت آئی تھی۔

شیخ خليفة بن زايد آل نهيان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، لاہور

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے نام پر ایک میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج بھی موجود ہے۔

یہ کالج ان کے والد شیخ زاید بن سلطان آل نهيان کی امداد سے بننے والے معروف ہسپتال شیخ زاید ہسپتال کا حصہ ہے۔

شیخ زاید ہسپتال کی بنیاد چھ نومبر 1973 میں رکھی گئی تھی اور اس کا افتتاح آٹھ ستمبر 1986 میں کیا گیا تھا جس کے لیے شیخ زاید بن سلطان آل نھیان نے 300 ملین کی امداد دی تھی۔

بعد میں اسی ہسپتال میں شیخ خليفة بن زايد آل نهيان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج بنایا گیا جس کا افتتاح 23 مارچ 2009 کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نے کیا تھا۔

یہ وہ چند منصوبے ہیں جو پاکستان میں شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے نام پر موجود ہیں۔ ان منصوبوں کے علاوہ شیخ خليفة بن زايد آل نهيان کے خاندان کی دیگر شخصیات کے نام پر بھی پاکستان میں بڑے اور چھوٹے منصوبے موجود ہیں جن کی فہرست طویل ہے۔

اس فہرست کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں امدادی کاموں کی تفصیلات کے لیے بنائی گئی ویب سائٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں تقریباً 60 منصوبے ہیں۔ اسی طرح صاف پانی کے منصوبوں کی تعداد 76 ہے جبکہ صحت کے شعبوں میں نو منصوبوں پر کام کیا گیا ہے۔

اس تحریر کے لیے ویب سائٹ www.uaepap.org سے مدد لی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا