پنجاب: سبسڈی کے بعد سستے آٹے، چینی کی فراہمی آج متوقع

پنجاب حکومت کی آٹے پر دو سو ارب روپے کی سبسڈی کا اطلاق آج سے ہونا ہے اور سستے آٹے اور چینی کی پنجاب کے 36اضلاع میں آج سے اوپن مارکیٹ میں دستیابی متوقع ہے۔

15 مئی 2018 کی تصویر میں روالپنڈی میں شہری ایک مارکیٹ میں آٹا خرید رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے آٹے پر دو سو ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا ہے (اے ایف پی)

پنجاب میں وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کے آٹے اور چینی پر سبسڈی کے اعلان اور حکومت اور فلور ملز مالکان کے درمیان مزاکرات کے بعد عوام کو سستے آٹے اور چینی کی فراہمی آج سے متوقع ہے۔

اس اقدام سے مہنگائی سے تنگ عوام کو ریلیف ملنے پر لوگوں کے کچن اخراجات تو کم ہوں گے مگر ماہرین معیشت کے مطابق حکومت کی جانب سے بلاتفریق سبسڈی سے معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے اور سٹاک مارکیٹ بھی متاثر ہوتی ہے۔

آٹے کی قیمتوں میں کمی کیسے کی جارہی ہے؟

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت کے گندم کی برآمداد پر پابندی کے فیصلے کے بعد رواں ہفتے عالمی مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 500 ڈالر فی ٹن سے زائد ہو گیا ہے، جو پاکستان میں چار ہزار روپے فی من (تقریباً 40 کلوگرام) بنتا ہے۔

حکومت کے مطابق سستی اور پاکستان میں کاشت کی گئی گندم کسانوں کو پورے پیسے دے کر خریدی گئی ہے۔ رواں سال کسانوں سے 2200 روپے فی من ریٹ پر گندم ایک سال کے لیے خرید کر سٹاک کی گئی۔

وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی جانب سے حالیہ اعلان کے مطابق عوام کے لیے 10کلو آٹے کا ریٹ 650 کے بجائے 490 روپے کردیا گیا ہے۔

 اس اقدام پر حکومت کو200 ارب روپے کی سبسڈی دینی پڑے گی اور سستا آٹا پنجاب کے 36اضلاع میں آج سے اوپن مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔

فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین عاصم رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فلور ملز ایسوسی ایشن کے ساتھ مذاکرات کیے اور پیشکش کی کہ حکومت انہیں 2200 روپے کی بجائے 1750روپے من کے حساب سے گندم دے گی لہذا انہیں آٹے کا 10کلو کا تھیلہ 490 روپے میں فراہم کرنا ہوگا اور اس فیصلے کا اطلاق مخصوص پوائنٹس کی بجائے اوپن مارکیٹ میں ہوگا یعنی کہیں سے بھی آٹا خریدیں تو اسی ریٹ پر دستیاب ہوگا۔

عاصم کے بقول: ’ہمیں آئندہ سیزن تک 51لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ہے اور حکومت کے پاس 50لاکھ ٹن کا ذخیرہ موجود ہے لہذا سستا آٹا فراہم کرنے سے آٹے کی قلت پیدا نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے سبسڈی کے بعد آٹے کی ہمسایہ ممالک میں سمگلنگ کی روک تھام کا مکمل بندوبست نہیں کیا تو آٹے کا شدید بحران آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو نجی طور پر کسانوں سے گندم خرید کر چکیوں میں آٹا فروخت کرتے ہیں ان پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا یعنی چکی مالکان آٹا اسی قیمت پر فروخت کریں گے جس پر انہوں نے کاشت کاروں سے خریدی ہے اس معاملے میں حکومتی عمل دخل نہیں ہوتا۔

چینی کی قیمت کم کرنے کے اقدامات

حکومت پنجاب نے چینی پر بھی سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے اور شوگر ملز سے مزاکرات کرکے انہیں بھی سبسڈی دے کر چینی کی قیمت فی کلو 70 روپے سے کم رکھنے پر آمادہ کر لیا ہے۔

اس معاملے پر پنجاب کے حکام نے شوگر ملز کو سٹاک مارکیٹوں میں مقررہ قیمت پر چینی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبے میں چینی کی طلب و رسد میں توازن رکھنے کے ذمہ دار کین کمشنر پنجاب ذمان وٹو نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے شوگر ملز مالکان کو آمادہ کیا ہے کہ وہ پنجاب اور پاکستان کی ضرورت کے مطابق چینی پوری فراہم کریں۔

حکومت نے شوگر ملز مالکان کو کم قیمت چینی کی مد میں سبسڈی کی رقم کی ادائیگی سے متعلق بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومت کے مطابق آئندہ سیزن تک ایک لاکھ میٹرک ٹن سستی چینی پنجاب میں فراہم کی جائے گی۔

حکومت کی ہدایت پر شوگر ملز مالکان 70روپے فی کلو سے کم قیمت پر چینی مارکیٹ میں فراہم کریں گے اور اس پر عمل درآمد بھی سختی سے کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج سے مخصوص پوائنٹس پر چینی 70روپے فی کلو دستیاب ہوگی جبکہ اس سے پہلے 80 سے 85 روپے کلو تک چینی فروخت ہو رہی ہے۔

سبسڈی کے معیشت پر اثرات

مختلف ادوار میں حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتوں پر سبسڈی دیتی ہیں لیکن اس کی باقائدہ منصوبہ بندی نہ ہونے پر مستحقین سے زیادہ غیر مستحق لوگ فائدہ اٹھا لیتے ہیں جس کا نقصان مجموعی معیشت پر دباؤ کی صورت میں ہوتا ہے۔

معروف ماہر معیشت الماس حیدر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر ریاست اپنے غریب طبقے کو مالی مشکلات سے بچانے کے لیے ضروری اشیا پر انہیں سبسڈی دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ہر حکومت اپنے انداز میں مختلف چیزوں پر سبسڈی دیتی ہے، کوئی بجلی کی قیمت میں رعایت، کوئی پیٹرول کی قیمت اور بعض کھانے پینے کی اشیا رعایتی قیمت پر شہریوں کو فراہم کرتی ہیں۔

ان کے مطابق: ’لہذا موجودہ حکومت پنجاب نے بھی لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے آٹے اور چینی کی قیمت میں رعایت دی ہے یعنی مارکیٹ ریٹ زیادہ ہے اس پر سبسڈی دی گئی ہے جو کے غریب لوگوں کے لیے ہونی بھی چاہیے۔ مگر منصوبہ بندی نہ ہونے پر اس کے ثمرات سے مستحق سے زیادہ صاحب حیثیت اور مالدار لوگ مستفید ہوتے ہیں۔‘

الماس حیدر کے بقول جس طرح چینی اور آٹے پر بلا تفریق سبسڈی دی گئی ہے اس سے معیشت پر دباؤ بڑھے گا قرضے لے کر سبسڈی دینا غریب ملکوں میں ہی ممکن ہے کیونکہ اس سے سٹاک مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’مثال کے طور پر آٹا گھریلو استعمال سے زیادہ چھوٹے بڑے ہوٹلوں میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن وہ روٹی مہنگی ہی فروخت کرتے ہیں۔ اسی طرح چینی کا استعمال گھریلو کی نسبت کمرشل زیادہ ہوتا ہے، مٹھائیوں اور مشروربات میں استعمال ہوتی ہے، تو ان سرمایہ کاروں کو چینی کم ریٹ پر دینے سے کیا فائدہ؟‘

انہوں نے کہا کہ حکومتیں اگر سبسڈی دینا چاہتی ہیں تو انکم سپورٹ پروگرام یا بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ کی صورت میں دیں تاکہ مستحق لوگوں تک ہی امداد پہنچے نہ کہ مالداروں کو اس کا فائدہ ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان