بھارت: مریض کے گردے کی 200 سے زائد پتھریاں نکال لی گئیں

حیدرآباد کے اوار گلینگلز گلوبل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ان سینکڑوں پتھریوں کو لیپروسکوپی کے ذریعے نکالا۔

بھارتی شہر احمد آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز اینڈ ریسرچ سنٹر میں 6 فروری 2013 کو ایک گردے کے مریض کو سٹیم سیلز فراہم کیے جا رہے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت کی جنوبی  ریاست تلنگانہ میں ڈاکٹروں نے 56 سالہ شخص کے گردے سے ایک گھنٹے طویل سرجری کے بعد 206  پتھریاں نکالی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ریاست کے مشترکہ درلحکومت حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے شخص کو چھ ماہ سے کمر کی بائیں جانب شدید درد تھا۔

بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے ان کی تکلیف میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

حیدرآباد کے اوار گلینگلز گلوبل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے پتھریوں کو لیپروسکوپی جیسے ’کی ہول سرجری‘ بھی کہا جاتا ہے، کے ذریعے نکالا۔  اس طریقہ کار میں سرجن کو جلد پر زیادہ بڑا کٹ نہیں لگانا پڑتا۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ کہ مریض مقامی طور پر تجویز کردہ دوا استعمال کر رہا تھا جس سے اسے وقتی آرام ملتا۔ تاہم یہ درد ان کے روزمرہ کے معمولات کو متاثر کر رہا تھا۔

گردے کی پتھری یا نیفرولیتھیاسس اس وقت بنتی ہے جب خون میں موجود فضلہ کرسٹل بن کر گٹھلیاں بن جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہسپتال کے ایک سینئر کنسلٹنٹ یورولوجسٹ ڈاکٹر پولا نوین کمار نے کہا کہ:’بعض ابتدائی تحقیقات اور الٹراساؤنڈ ٹیسٹ سے بائیں گردے میں متعدد کیلکولی (بائیں گردے کی پتھری) کی موجودگی کا انکشاف ہوا اور سی ٹی سکین کے ساتھ اس کی دوبارہ تصدیق کی گئی۔

’مریض سے مشاورت کی گئی اور انہیں ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی کی ہول سرجری کے لیے تیار کیا گیا جس کے دوران تمام کیلیکولی (پتھریوں) کو نکال دیا گیا جن کی تعداد 206 تھی۔

آپریشن کے ایک دن بعد مریض کو گھر بھیج دیا گیا۔

ڈاکٹروں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارت میں ہیٹ ویو کے دوران گردے کی پتھری سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی ک استعمال کریں۔

2018 میں دہلی کے ایک ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کی ہول سرجری کے ذریعے 45 سالہ مریض کےگردے کی 856 پتھریاں نکالی تھیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت