بھارت میں گرمی سے بچاؤ کے دیسی طریقے

یورپ میں دھوپ کی شدت سے مقابلے کے لیے لوگ سر پر ہیٹ رکھنے یا گردن کے گرد کپڑا لپیٹنے کی بجائے مختصر لباس پہن کر ہاتھ میں بیئر لیے گھر سے باہر نکل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس طرح انہیں گرمی سے تحفظ نہیں ملتا۔

ہندو پنڈت بارش کے لیے پوجا کے عمل میں (اے ایف پی)

فرانس نے شدید گرمی کے پیش نظر شہریوں کو ہوشیار رہنے کے لیے جو انتباہ جاری کیا ہے اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ انتباہ گرمی کی شدت 45.9 درجے سینٹی گریڈ تک جا پہنچنے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ یہ درجہ حرارت ملک کے جنوبی گاوں گالارگ لے مونتیو میں ریکارڈ کیا گیا۔

اس ماہ شمالی بھارت میں بھی درجہ حرارت 50 درجے سینٹی گریڈ سے بڑھ گیا ہے۔ کچھ لوگوں کو حیرت ہوگی کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟

جب یورپ میں گرمی انتہا پر تھی اس وقت بھارت اور ہمسایہ ملک پاکستان میں بھی درجہ حرارت کئی دہائیوں بعد  سب سے زیادہ تھا۔

اطلاعات کے مطابق مئی کے وسط سے پڑنے والی شدید گرمی کی وجہ سے بھارت میں 130 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ درست اعدادوشمار دستیاب نہ ہونے کے پیش نظر گرمی کی شدت سے ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جون کے دوران 48 درجے سینٹی گریڈ کا ریکارڈ درجہ حرارت رہا۔ مغرب میں راجستھان کی ریاست سے لے کر مشرقی ریاست بہار تک گرمی نے ایک بڑے علاقے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

بھارتی شہروں، قصبوں اور دیہات میں کئی ہفتے سے زوروں کی گرمی پڑ رہی ہے۔ یہ صورت حال ہلاکت خیز ہوسکتی ہے۔  

بھارت کی پہلی پبلک ہیلتھ یونیورسٹی ’ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ گاندھی نگر ‘ کے ڈائریکٹر دلیپ ماوالنکر کہتے ہیں کہ جب درجہ حرارت 37 درجے سینٹی گریڈ سے بڑھتا ہے تو انسانی جسم کے درجہ حرارت بھی اضافہ ہونے لگتا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے انسان کو زیادہ پسینہ آتا ہے جس کا مطلب ہے کہ دل کو زیادہ سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت حال ایسے افراد جن کا دل، گردے اور دوران خون کا نظام کمزور ہو ان کے اندرونی اعضا کام چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں اورنتیجے کے طور پر وہ ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں زیادہ تر بچے اور معمر افراد شامل ہوتے ہیں۔

دلیپ ماوالنکر کے مطابق جوان اور صحت مند افراد میں بھی اگر جسم کا درجہ حرارت 40 درجے سینٹی گریڈ سے بڑھ جائے تو دماغ کام چھوڑنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں جسم کے درجہ حرارت میں فوری کمی نہ ہونے کی صورت میں دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ جسم کے درجہ حرارت میں فوری کمی نہ ہونے کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلتا ہے۔

سائنسدان کہتے ہیں کہ 2018 میں یورپ میں دو مرتبہ شدید گرمی کی لہر کا سبب زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔ پھر بھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس وقت جو گرمی پڑ رہی ہے اس کا سبب موسمیاتی تبدیلی کس حد تک ہے ؟

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سال موسم گرما میں بھارت میں جو درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا وہ زیادہ تو ہے لیکن مئی اور جون میں ہر سال ہونے والی معمول کی تبدیلی کی وجہ سے متوقع درجہ حرارت کے لحاظ سے حد کے اندر ہے۔

’ ٹرانسفارم رورول انڈیا فاونڈیشن ‘ سے وابستہ ماہر، سنجیو پھنسالکر بھارتی ریاست مہاراشٹر کے بڑے شہر ناگپور کے نواح میں دیہی علاقے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہر سال موسم گرما میں درجہ حرارت 47، 48 درجے سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں باقی دنیا اور خاص طور پر جنوبی ایشیا میں پلنے پڑھنے والے نوجوان شدید گرمی کے مسئلے نمٹنے کے لیے روائتی بھارتی طریقوں سے بہت کچھ سیکھ  سکتے ہیں۔

سنجیو پھنسالکر سیدھی سادی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں شدید گرمی میں گھر سے باہر نکلنے سے پہلے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہییے۔ پانی پینے کے لیے پیاس لگنے کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ناگپور میں جب کوئی شدید گرمی میں سر اور کانوں کو کپڑے سے ڈھانپے بغیر گھر سے باہر نکلتا ہے تو کوئی بھی اجنبی کا اس کا راستہ روک  کر اسے ایسا کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ سنجیو پھنسالکرکے مطابق شدید گرمی میں بہت زیادہ ٹھنڈے مشروبات تو بالکل نہیں پینے چاہییں کیونکہ یہ انسانی جسم کا درجہ حرارت فوری طور پر کم  کردیتے ہیں اور یہ عمل نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ شدید گرمی میں گرما گرم چائے کی ایک پیالی کو بہترین مشروب قرار دیتے ہیں۔

سنجیو پھنسالکر نے ایک مشورہ اور دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کو ضروری کام  کی وجہ سے شدید گرمی میں بھی گھر سے نکلنا پڑے تو اس صورت میں اسے چاہییے کہ اپنا کام صبح جلد شروع کر کے شام تک ختم کر لے۔ اس دوران 11 سے شام پانچ تک وقفہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے گرمی سے نمٹنے کے لیے مختلف علاقوں میں مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جو بنیادی اور سادہ اصول ہیں۔ 

سنجیو پھنسالکر مانتے ہیں کہ گرمی کے مسئلے سے نمٹنے کے کچھ غیرروائتی طریقے بھی ہیں۔ ریاست مہاراشٹر کے دیہات میں جب شدید گرمی میں لوگ  دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں تو وہ بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں وہ گرمی سے نمٹنے کے لیے غیر روائتی طریقے استعمال کرتے ہیں۔

سنجیو پھنسالکر نے ان غیر روائتی طریقوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں شدید گرمی میں گھر سے باہر نکلنے وقت لوگ پیاز دو ٹکڑوں میں کاٹ کر ساتھ رکھ لیتے ہیں جسے جسم پر ملا جاتا ہے۔ سنجیو کے مطابق وہ اس عمل کی حکمت تو نہیں جانتے لیکن وہ بس بتا رہے ہیں لوگ ایسا کرتے ہیں۔ لوگوں کے خیال میں پیاز انسان کو گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔

بھارتی ریاست بہار میں شدید گرمی میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سفید چنے کے آٹے سے تیار کیاگیا ‘ ستو ‘ پیا جاتا ہے۔ آٹے کو پانی میں کھول کر بنائے اس مشروب میں ذائقے کے لیے نمک اور کالی مرچ ڈالی جاتی ہے۔

نئی دہلی میں بہار سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل ماوالنکر کہتے ہیں کہ سفید چنے کے آٹے سے بنے ’ ستو ‘ میں نمک ڈالا جاتا ہے اس لیے وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ مشروب یورپ میں بھی پسند کیا جائے گا یا نہیں۔

ماوالنکر کے خیال میں اس ’ ستو ‘ سے جسم کو خوراک ملتی ہے۔ اس میں فولاد اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کا عام طور پر بھارتی شہریوں کو کمی کا سامنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گرمی سے بچنے کے لیے پیاز کو جلد پر ملنے کی بجائے اسے سلاد کے ساتھ کھانے کا رواج پورے بھارت میں ہے لیکن گرمیوں میں پیاز کی افادیت کے سلسلے میں کوئی باضابطہ تحقیق نہیں ہوئی بس چند طلبہ نے مضامین لکھے ہیں۔

بھارت میں گرمی سے بچاؤ کا ایک اور روائتی طریقہ ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں شروع ہونے والے ’ ہیٹ ایکشن پلان ‘ کا حصہ ہے۔ سرکاری طور پر شروع ہونے والا یہ پہلا پروگرام ہے جسے کام میں لاتے ہوئے 2015 میں شہر میں سینکڑوں انسانی جانیں بچائی گئیں۔

ہیٹ ایکشن پلان کے تحت کارکنوں کو دن میں کام کے دوران وقفے کی سہولت دی گئی۔ 45  درجے سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت والے دنوں کے بارے میں پیشگی خبردار کیا گیا۔ بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی گئی کہ عام شہریوں کے لیے شام کے اوقات میں درختوں والے پارک اور باغات کھلے رکھے جائیں۔ اس سے پہلے انہیں صرف امیر لوگوں کے لیے کھولا جاتا تھا جہاں وہ صبح اور شام کو سیر کرتے تھے۔

ہسپتالوں کو حکم دیا گیا کہ شدید گرمی کے دنوں میں ایمبولینس گاڑیوں میں برف کے بلاک ساتھ رکھے جائیں اور وارڈوں میں ائرکنڈیشنز کا اہتمام کیا جائے۔ وارڈوں عملہ بھی موجود ہو۔ ایسے پروگرام  بھی شروع کئے گئے جن کے تحت لوگوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ گھر کی دھات سے بنی چھت پر سفید رنگ کریں تاکہ شہر سے گرمی کو بھگایا جا سکے۔

دلیپ ماوالنکرکے مطابق ایکشن پلان تو متعارف کرا دیا گیا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کئی سال گزر جانے کے باوجود لگ بھگ صرف 15 شہروں میں اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانس میں گرمی کی شدت سے نمٹنے کے لیے جدید خطوط پر ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ جس کا یورپ کو سامنا ہے اور بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے آئندہ بھی ہو گا، وہ یہ  ہے کہ لوگ ایک تو گرم موسم کے لیے تیار نہیں ہیں اوردوسرے گرمی کی وجہ سے لاحق ہونے والے خطرات پر توجہ نہیں دے رہے۔ پھر یورپ کا بنیادی ڈھانچہ بھی ایسا نہیں ہے کہ 40 درجے سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا مقابلہ کر سکے۔

بھارت میں مکانات روائتی انداز میں تعمیر کئے گئے ہیں۔ گارے سمیت سیمنٹ اور چونے کی آمیزش سے موٹی دیواریں بنائی گئی ہیں۔ چھتیں اونچی اور موٹی ہیں تا کہ گرمیوں میں گھر کو ٹھنڈا رکھا جا سکے۔

سنجیو پھنسالکر کہتے ہیں کہ یورپی مکانات ایسی خصوصیات سے محروم ہیں۔ گھروں میں عام طور پر ائرکنڈیشن اور پنکھے تک نہیں لگائے گئے۔ یورپ میں دھوپ کی شدت سے مقابلے کے لیے لوگ سر پر ہیٹ رکھنے یا گردن کے گرد کپڑا لپیٹنے کی بجائے مختصر لباس پہن کر ہاتھ میں بیئر لئے گھر سے باہر نکل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس طرح انہیں گرمی سے تحفظ نہیں ملتا۔

سنجیو پھنسالکر کے مطابق بھارت میں لوگ گرم موسم کے عادی ہیں۔ خاص طور پر دیہات میں رہنے والوں کو اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کیسے دکھائی دیتے ہیں۔ یورپی لوگ گرم موسم میں اپنے بچاو کی بجائے فیشن کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے ہوسکتا ہے یہ عادت انہیں لے ڈوبے۔ سنجیو پھنسالکرکے خیال میں انسان ایسا ہی ہے۔ ان کے مطابق بھارت شہروں میں لوگوں کو یورپی فیشن کی عادت پڑتی جا رہی ہے۔ دہلی، ممبئی اور دوسرے شہروں میں نوجوان، لباس اور انداز میں یورپ کی نقل کرنے لگے ہیں۔

دلیپ ماوالنکرکے مطابق بھارت میں لوگ اور خاص طور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے آپ کو گرم موسم کو برداشت کرنے کا عادی بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ ائرکنڈیشن والی عمارتوں میں رہتے اور کام کرتے ہیں جبکہ ای سی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت میں صرف دو فیصد لوگوں کو ائرکنڈیشن کی سہولت میسر ہے۔

دلیپ ماوالنکربتاتے ہیں کہ بھارت میں آنے والے دنوں میں بڑے شہروں میں پانی کی قلت کا خطرہ منڈلا رہا ہے لیکن اس صورت حال میں حکومت سوئی ہوئی ہے۔ جب گرمی اور پانی کی قلت کی مصیبت اکٹھی نازل ہوگی تو شہروں میں رہنے والوں کی زندگی پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

دلیپ ماوالنکر کے مطابق بھارت میں انتہائی گرم موسم کے مسئلے نمٹنے کے لیے روائتی طریقے دوبارہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں دونوں محاذوں پر کام کرنا پڑے گا یعنی پانی کی فراہمی اور گرم موسم برداشت کرنے کی طاقت میں اضافہ۔ ماوالنکر کے مطابق مستقبل میں گرمی کی شدت بڑھے گی۔ ایسی صورت میں ائرکنڈیشن کی بجائے پانی بقا کا بڑا ہتھیار ہوگا۔

 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت