’جب ترقی کرتے ہیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنس جاتے ہیں‘

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اقتصادی سروے 2021-22 کی پیش کرتے ہوئے 4.8 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد کی شرح نمو کا دعویٰ کیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اقتصادی سروے 2021-22 کی پیش کرتے ہوئے 4.8 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد کی شرح نمو کا دعویٰ کیا ہے۔

اسلام آباد میں پیر کی شام پیش کیے جانے والے اقتصادی سروے میں جولائی 2021 سے اپریل 2022 کے دوران جی ڈی پی، زراعت، خدمات اور صنعتی شعبے کے اہداف کے حصول کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور خرم دستگیر کے ہمراہ اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ بدقسمتی یہ ہے کہ جب ہم ترقی کرتے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنس جاتے ہیں۔

تاہم اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارہ، درآمدات کے طے شدہ اہداف حاصل کرنے سے دور رہا، جبکہ بچت، سرمایہ کاری سمیت گندم اور کپاس کے پیداواری ٹارگٹ بھی حاصل نہیں ہو پائے۔

اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی آبادی 22 کروڑ 47 لاکھ ہے۔ پاکستان کے 8 کروڑ 28 لاکھ افراد شہروں میں رہتے ہیں، جبکہ 14 کروڑ 19 لاکھ افراد دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔

اس مضمون میں ہم رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت کے حوالے سے بعض ’بہترین‘ اور چند ’بدترین‘ چیزوں کا جائزہ لیں گے۔

شرح نمو

گذشتہ سال جون میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے مالی سال 2021-22 کا بجٹ پیش کیا تھا، جس میں مجموعی ملکی پیداوار یا جی ڈی پی کی شرح کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا تھا۔

تاہم اقتصادی سروے میں گذشتہ سال جولائی سے اس سال اپریل تک جی ڈی پی کی شرح 5.97 رہی۔

اسی طرح زرعی شعبے کی شرح نمو 3.5 فیصد کے ہدف کی نسبت 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ صنعتی شعبے کی نمو 6.6 فیصد کے ہدف کے برخلاف 7.2 فیصد تک پہنچ گئی۔

سروے کے مطابق خدمات کے شعبے میں نمو کی شرح 4.7 فیصد کی امید رکھی گئی تھی جو 6.2 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی سے مارچ 18-2017 میں شرح نمو 6.10 فیصد تھی، جبکہ جولائی سے مارچ  22-2021 میں شرح نمو 5.97 فیصد رہی۔

قرضے

اقتصادی سروے کے مطابق مارچ 2022 تک سرکاری قرضے 44 ہزار 366 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ رواں مالی سال کے نو ماہ میں قرضوں میں ساڑھے چار ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

سروے رپورٹ کے مطابق مارچ 2022 تک مقامی قرض کا حجم 28 ہزار ارب روپے سے زائد رہا۔ اسی عرصے میں بیرونی قرضہ 16 ہزار 290 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

رواں مالی سال کے نو ماہ میں غیر ملکی قرضے 2689 ارب روپے بڑھے۔ جولائی تا مارچ ملکی قرضے میں 1811 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

مارچ 2022 تک مقامی قرض کا حجم 28 ہزار ارب روپے سے زیادہ رہا۔ مارچ 2022 تک بیرونی قرضہ 16 ہزار 290 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

زراعت و لائیو سٹاک

اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے میں روزگار میں کمی آئی، جو 39.2 فیصد سے کم ہو کر 37.4 فی صد رہا۔

تاہم سروے میں دعویٰ کیا گیا کہ لائیو سٹاک کے شعبے کی بڑوھتی 2.38 فیصد سے بڑھ کر 3.26 فی صد تک پہچ گئی۔

سروے میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ملک میں رواں مالی سال کے نو مہینوں کے دوران فصلوں کی پیداوار 3.48 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہوئی، جبکہ اہم فصلوں کی پیدوار 5.83 فیصد سے بڑھ کر 7.24  فیصد رہی۔

اقتصادی سروے میں دلچسپ امر کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملک میں ’گدھوں کی تعداد میں مسلسل تیسرے سال بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے‘۔

سروے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد ایک لاکھ کے اضافے کے ساتھ 57 لاکھ ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ مالی سال میں ملک میں گدھوں کی تعداد 56 لاکھ تھی۔

اس کے علاوہ رواں مالی سال گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، ان دونوں جانوروں کی تعداد باالترتیب چار لاکھ اور دو لاکھ رہی۔

ٹیکس مراعات

اقتصادی سروے کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران مختلف ٹیکسوں کی مد میں مجموعی طور پر 1757 ارب روپے سے زیادہ کی چھوٹ دی، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 399 ارب 66 کروڑ روپے کی انکم ٹیکس چھوٹ سیلز ٹیکس کی مد میں ایک ہزار 14 ارب روپے کی چھوٹ شامل ہیں۔

اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 342 ارب 89 کروڑ روپے کی چھوٹ دی گئی، آزاد، ترجیحی تجارتی معاہدوں کے تحت 46 ارب 10 کروڑ روپے کی کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ بھی دی گئی۔

ایکسپورٹ سے متعلق 51 ارب روپے سے زائد کی کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ دی گئی اور الاؤنسز کی مد میں 10 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد کی انکم ٹیکس رعایت بھی دی گئی۔

مہنگائی

رواں سال کے بجٹ میں ملک میں مہنگائی کی اوسط شرح کا ہدف آٹھ فیصد رکھا گیا تھا۔ تاہم پاکستان اقتصادی سروے کے مطابق اشیا کی قیمتوں میں 13.3 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سروے میں اشیا کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے، خاص طور پر خام تیل اور خوردنی تیل کو ملکی قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا گیا۔

سروے میں بتایا گیا ہے كہ جولائی سے مارچ 2017-18 كے دوران پاكستان میں مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد تھی جو جولائی سے مارچ 2021-22 کے عرصے میں 10.8 فیصد رہی۔

اسی طرح ملک میں مجموعی سرمایہ کاری 16.1 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں صرف 15.1 فیصد رہی۔

سروے رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں کرنٹ اکاونٹ خسارے کا ہدف دو ارب 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔

تجارتی خسارہ

اقتصادی سروے کے مطابق جولائی 2021 تا مئی 2022 تجارتی خسارہ 43 ارب 33 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا، تجارتی خسارے کا ہدف 28 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مقرر تھا۔

جولائی تا مئی کے دوران درآمدات 72 ارب 18 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، درآمدات کا ہدف 55 ارب 26 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔

سروے رپورٹ کے مطابق جولائی تا مئی برآمدات  28 ارب 84 کروڑ  ڈالر  رہیں۔ برآمدات کا ہدف 26 ارب 83 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان