سبز کتاب: بچوں کو ماحولیات سے آشنا کرنے کی جانب قدم

ڈاکٹر احتشام نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’دیکھنے میں تو یہ 100 صفحات پر مشتمل کتاب ہے لیکن اسے لکھنے اور بنانے ہمیں پونے دو سال لگ گئے۔‘

یہ کتاب سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایک پہلا قدم ہے (سکرین گریب)

دنیا بھر میں ہونے رونما والی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب ہی اس وقت کشمکش کا شکار ہیں کہ آنے والے وقتوں میں کرہ ارض کا موسم اور کتنا بدلنے والا ہے۔

پاکستان میں بھی اس برس گرمی گذشتہ برسوں کی نسبت نہ صرف وقت سے پہلے آئی بلکہ اتنی شدت سے آئی کہ لوگوں کے ہوش اڑ گئے۔ کیا ہم ان موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے تیار ہیں یا کوئی ایسی کوشش کر رہے ہیں کہ آئندہ آنے والے برسوں میں اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کو کچھ دیر تک ان تبدیلیوں کے اثرات سے بچا سکیں؟

اسی سوچ کے ساتھ گذشتہ کئی مہینوں سے جنوبی پنجاب میں ایک کوشش جاری تھی، جس کا نام ’بچوں کی سبز کتاب‘ ہے۔ 

یہ منصوبہ ہے جنوبی پنجاب کے سیکریٹری ایجوکیشن ڈاکٹر احتشام انور کا جو پہلے بھی تعلیم کے شعبے میں ایسے منصوبوں کی ابتدا کرچکے ہیں جو مختلف اور کارآمد ہوں۔

’بچوں کی سبز کتاب‘ ہے کیا؟

یہ کتاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پہلا قدم ہے۔

ڈاکٹر احتشام نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’دیکھنے میں تو یہ 100 صفحات پر مشتمل کتاب ہے لیکن اسے لکھنے اور بنانے ہمیں پونے دو سال لگ گئے۔‘

اس کتاب میں موسمیاتی تبدیلی اور اس سے جڑے متعلقہ معاملات جیسے جنگلات، زراعت، ہارٹی کلچر اور دیگر مضمون شامل ہیں۔

یہ کتاب کتنی عمر کے بچوں کے لیے ہے؟ 

ڈاکٹر احتشام کے مطابق: ’ہم نے اس منصوبے کو کہیں نہ کہیں سے شروع کرنا تھا اور اس کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے تھی۔ ہم نے دیکھنا تھا کہ اس کتاب کو پڑھنے والا اتنا چھوٹا بچہ بھی نہ ہو جو ماحولیاتی تبدیلی جیسے مضمون کو نہ سمجھ سکے۔ نہ ہم نے اتنا بڑا بچہ لینا تھا کہ وہ بالکل ایسی عمر میں ہو جس کی عادتیں پختہ ہو چکی ہوں اور اس کی شخصیت میں تبدیلی لانا مشکل ہو۔  بچہ وہ ہونا چاہیے تھا جو خود کو بڑا محسوس کرنا شروع ہو گیا ہو، ذمہ داری محسوس کرتا ہو۔ اس لیے ہم نے ساتویں جماعت کے 11 سے 12 سال کے بچوں کو ٹارگٹ کیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ کتاب ایک لڑکے خضر اور لڑکی گُل کے کردار کے گرد گھومتی ہے، جو چھٹی اور ساتویں جماعت کے طالب علم ہیں۔

ڈاکٹر احتشام کے مطابق: ’ہم نے یہ کردار اس لیے چنے کہ جب بچے اس کتاب کی کہانیاں پڑھنا شروع کریں تو انہیں لگے کہ ان کی اپنی  بات ہو رہی ہے۔ اسے کتاب کی شکل دینے سے قبل پورا ایک سال ہم اس کتاب کا مواد ایک سات سالہ بچے کے ساتھ شیئر کرتے رہے صرف یہ جاننے کے لیے کہ اس عمر کے بچے کا ذہنی درجہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چار ماہ پہلے اس کتاب کی کچھ شکل جب سامنے آئی تو انہوں نے خود ملتان کے ایک سرکاری سکول میں ساتویں جماعت کے بچوں کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر یہ کتاب پڑھانی شروع کی۔ انہوں نے تین ماہ اسے پڑھایا تاکہ بچوں سے بات چیت میں یہ سمجھ سکیں کہ کتاب میں مزید کیا بہتری لائی جا سکتی ہے۔

کیا ایسا کرنے سے کتاب میں کوئی تبدیلی آئی؟ اس حوالے سے ڈاکٹر احتشام کا کہنا تھا کہ سکول میں کچھ ماہ پڑھانے سے بھی تبدیلیاں آئیں اور پھر انہوں نے مسودہ کتاب کی وب سائٹ www.thechildrengreenbook.net پر بھی جاری کیا اور اس پر فیڈ بیک مانگا۔

انہوں نے بتایا: ’ویب سائٹ پر ہمیں کافی کمنٹس آئے جو اچھے ہی تھے لیکن بعض لوگوں نے اس کتاب کی ہارڈ کاپیز ہمیں تجاویز کے ساتھ بھیج دیں کہ ہمیں کتاب میں کیا کچھ ٹھیک کرنا چاہیے۔‘

ڈاکٹر احتشام کے مطابق کتاب کو اقوام متحدہ کے تعلیمی اور ثقافتی ادارے یونسکو بھی بھیجا گیا جن کی جانب سے دریائے سندھ کو مزید واضح طور پر بیان کرنے کی تجویز آئی۔

انہوں نے کہا: ’دریائے سندھ کو پاکستان کی لائف لائن بھی کہا جاتا ہے۔ پانچ ہزار سال سے چلنے والا دریا مزید 100 سال بھی مشکل سے چلے گا اور یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ یونیسکو نے تجویز دی کہ پانی کے حوالے سے ایک کہانی اس کتاب میں ڈالی جائے، جس کے بعد ہم نے پانی کہانی کے نام سے کتاب میں ایک اور باب کا اضافہ کیا۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ یونیسکو کی حالیہ رپورٹ ’ہر سکول کو کلائمٹ کے لیے تیار کرنا‘ کے مطابق دنیا میں کسی بھی جگہ موسمیاتی تبدیلی کو سکولوں میں بطور ایک مضمون نہیں پڑھایا جارہا۔ اسی لیے ’بچوں کی سبز کتاب‘ کے منصوبے کی کامیابی کے بعد پاکستان دنیا کے لیے ایک ٹرینڈ سیٹر کے طور پر سامنے آئے گا۔ 

یونیسکو اس کتاب کے لیے کیا کر رہا ہے؟ 

اس حوالے سے جب یونیسکو پاکستان سے رابطہ کیا گیا تو ہیڈ آف ایجوکیشن ظفر حیات ملک نے بتایا کہ ان کا ادارہ پنجاب حکومت کے منصوبے کی پوری حوصلہ افزائی کرے گا۔

ان کا کہنا تھا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جنوبی پنجاب کی جانب سے یہ کتاب ایک بہترین قدم ہے۔ ہم سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کے ساتھ مل کر اس کی 15 سے 20 ہزار کاپیاں چھپوائیں گے اور جنوبی پنجاب کے سرکاری سکولوں میں اسے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر پڑھانا شروع کریں گے اور پھر اسے بڑے پیمانے پرلے کر جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ جب ایک مرتبہ یہ کتاب کامیاب ہو گئی تو اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لے جایا جاسکتا ہے جیسے کہ اس کے ٹریول لاگ بن سکتے ہیں، اینیمیٹڈ سٹوریز بن سکتی ہیں اور اس کو ڑیڈیو اور ٹی وی پر براڈ کاسٹ کیا جاسکتا ہے۔ 

کیا کتاب میں پریکٹیکل بھی ہوں گے؟

ڈاکٹر احتشام کا کہنا تھا کہ کتاب کو انتہائی آسان الفاظ میں لکھا گیا ہے کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کا موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے رویہ پروان چڑھایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ کتاب کے ہر باب کے تین حصے ہیں۔ ایک کہانی ہے، دوسرے حصے میں تجزیاتی سوالات ہیں جس میں بچہ اپنا ذہن لگا کر ان سوالوں کا جواب دے گا، اور تیسرے حصے میں دو پریکٹیکل ہیں۔ ایک سکول کے لیے اور ایک گھر کے لیے جو اسے گھر والوں کے ساتھ مل کر کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب کے سرورق پر بھی لکھا ہے ’بچوں کی سبز کتاب گھر بھر کے لیے۔‘

ڈاکٹر احتشام کے مطابق: ’ہم نے اس میں کچن گارڈننگ کا باب بھی رکھا ہے، جس میں ہم نے کچن گارڈننگ کا پورا طریقہ بتایا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اگر گھر میں جگہ نہیں ہے تو کچن گارڈن گملوں میں بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔‘

’اس کے علاوہ اگر کوئی والد اپنے لان کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو اس حوالے سے بھی ہم نے اس کتاب میں سب بتایا ہے کہ کون سے پھول، پودے یا باڑ لگائی جائے۔ اس کے علاوہ گھر میں رکھنے والے پودوں کیا فوائد ہیں اور انہیں کیسے لگایا جاسکتا ہے اس پر بھی ایک باب رکھا گیا ہے۔ یہ وہ معلومات ہے جس پر بچہ گھر جا کر عمل کرے گا اور ان سے اس بچے کا پورا خاندان مستفید ہوگا۔

ڈاکٹر احتشام نے امید ظاہر کی کتاب کو صوبائی اور وفاقی سطح پر سکولوں میں بھی اپنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ ’پاکستان میں بہار ہی نہیں آئی ہم تو سردیوں سے سیدھا گرمیوں میں چلے گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر ماحولیات شیری رحمٰن کی زیر قیادت ایک ٹاسک فورس بھی بنائی ہے۔ ’اب یہ کتاب یا تو میں خود ان کے پاس لے کر جاؤں گا یا پھر ان کے نوٹس میں خود آئے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس کتاب کو ملک بھر میں اپنایا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی کیا جائے گا۔ اس حوالے سے بھی یونیسکو مدد کے لیے تیار ہے کیونکہ وہ اس کتاب کو پورے خطے میں لے کر جانا چاہتے ہیں۔ 

ڈاکٹر احتشام نے بتایا کہ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے معروف ڈائریکٹر سید نور بھی اس کتاب کا سن کر ان سے ملنے ملتان چلے آئے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بغیر کسی معاوضے کے اس کتاب کے ہر باب کے چھوٹے چھوٹے سکٹس، ڈرامے وغیرہ بنا کر ہمیں دیں گے جنہیں ہم جیسے چاہیں استعمال کر پائیں گے۔

سو کے قریب صفحات پر مشتمل اردو زبان کی کتاب رنگ برنگی تصاویر سے بھری ہے اور اس میں جہاں خواتین کو انتہائی مضبوط دکھایا گیا ہے وہیں اس میں کچھ کردار غیر مسلم بھی دکھائے گئے ہیں جو کہ روایات سے ہٹ کر ہے۔ 

اس کتاب کی اس وقت کتنی ضرورت ہے؟

لاہور میں مقیم ماہر ماحولیات رافع عالم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اس منصوبے کو سراہا۔

انہوں نے کہا: ’اس وقت ملک میں جاری ہیٹ ویوز کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ آپ کی آئندہ آنے والی زندگی کی سب سے ٹھنڈی گرمیاں ہوں۔ سب کو معلوم تھا کہ یہ ہوگا اور یہ حالات بد سے بدتر ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب سے پہلے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں تقریباً ایک ڈگری سیلسیئس تک بڑھایا ہے۔ ’ہمیں توقع ہے کہ دہائی کے آخر تک تقریباً کرہ ارض 1.5 ڈگری زیادہ گرم ہو جائے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جتنے زیادہ ہو سکے درخت لگائیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس