کیا پاکستان کے فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات ہیں؟

اٹلی، جرمنی اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اسلام آباد سے متعلق آرا میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہیں۔

پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں ڈالا تھا (تصویر: ایف اے ٹی ایف)

دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے اہداف پورے کرنے کے باعث برلن (جرمنی) میں جاری فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف یا فیٹف) کے اجلاس میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے حوالے سے امکانات ’روشن‘ قرار دیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد کے پر امید ہونے کی دوسری بڑی وجہ بعض یورپی اور امریکی ممالک کے اس جنوبی ایشیائی ریاست سے متعلق موقف میں تبدیلی بتائی جاتی ہے جس کے باعث انہوں نے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلوانے کی کوششیں کیں۔

سفارتی امور کے تجزیہ کارمحمد مہدی کا کہنا تھا کہ اٹلی، جرمنی اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اسلام آباد سے متعلق آرا میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہیں۔

سفارتی حلقوں میں اثر رسوخ رکھنے والے محمد مہدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’پہلے تو ہمارا ایف اے ٹی ایف کی گرے سے وائٹ لسٹ میں جانے کا امکان ہے اور ایسا نہ بھی ہوا تو ہمیں بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔‘

ایف اے ٹی ایف دنیا میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والا بین الاقوامی ادارہ ہے جس کے 206 مندوبین اور مبصرین جرمنی کے شہر برلن میں جاری چار روزہ (14 تا 17 جون) اجلاس میں شریک ہیں۔

اجلاس میں شریک مبصرین میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اقوام متحدہ، عالمی بینک، اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس کے نمائندے شامل ہیں۔

اجلاس سے قبل جاری ہونے والے فیٹف سیکریٹیریٹ کے اعلامیے کے مطابق مندوبین مالیاتی نظام کے لیے خطرے کے طور پر شناخت کی گئی بعض چیزوں کا جائزہ لیں گے، جس سے مراد پاکستان اور دنیا کے 22 دوسرے ممالک کی گرے لسٹ میں موجودگی کا جائزہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھیے: ’ایف اے ٹی ایف پر بھارت کا پریشر تھا‘ سوشل میڈیا صارفین

اعلامیے کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے فیصلوں کا اعلان جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان کا نام جون 2018 میں فیٹف کی وائٹ لسٹ سے نکال کر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

منگل کی شام اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہی ہیں، جس میں پاکستان کی جانب سے فیٹف کے 2018 اور 2021 کے ایکشن پلانز پر پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

حنا ربانی کھر، جو پاکستان کی قومی ایف اے ٹی ایف رابطہ کمیٹی کی چیئرپرسن بھی ہیں، ایف اے ٹی ایف کے اجلاس اور عہدے داروں سے ملاقاتوں میں اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنائنسنگ آف ٹیررازم (اے ایم ایل سی ایف ٹی) سے منسلک معاملات پر پاکستان کی شاندار پیش رفت اور حکومتی عزم سے آگاہ کریں گی۔

یہ بھی پڑھیے: ایف اے ٹی ایف کی ’بوتل‘ میں بند پاکستان

امکانات روشن ہیں

اسلام آباد میں سرکاری ذرائع برلن میں جاری فیٹف کے اجلاس سے اچھی خبر موصول ہونے کی امید رکھتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران پاکستان کی دنیا بھر میں سفارتی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔

پاکستان میں منی لانڈرنگ اور متعلقہ معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد نے فیٹف کی جانب سے دیے گئے چالیس اہداف تقریبا پورے کر لیے ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ اب کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل رکھا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیٹف کے جاری اجلاس کے دوران پاکستانی وفد وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کی سربراہی میں اسلام آباد کی جانب سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرے گا۔

‘ایف اے ٹی ایف کے اسی اجلاس میں ایجنڈے پر موجود دوسرے پوائنٹس کے علاوہ پاکستان کی رپورٹ پر بحث ہو گی اور ووٹنگ بھی ہو گی۔‘

محمد مہدی کا خیال تھا کہ کئی یورپی اور امریکی ممالک پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی حمایت کریں گے، اور اس سلسلے میں امریکہ، جرمنی اور اٹلی سر فہرست ہیں۔

یاد رہے کہ اٹلی اس وقت ایف اے ٹی ایف کا کو چئیرپرسن، جبکہ جرمنی جاری فیٹف اجلاس کی صدارت اور میزبانی کر رہا ہے اور اس لحاظ سے دونوں ملکوں کی اہمیت زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔

محمد مہدی نے کہا کہ اٹلی پاکستان کو پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کے سلسلے میں اکٹھے کام کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔

اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل ہی اٹلی کے اہم سرکاری عہدے داروں نے پاکستانی دفتر خارجہ میں اہم ملاقاتیں کی تھیں، جس سے روم کی پاکستان سے متعلق سوچ میں تبدیلی ثابت ہوتی ہے۔

دوسری طرف انہوں نے کہا کہ جرمنی کے بھی اسلام آباد سے متعلق موقف میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:  ایف اے ٹی ایف: اگلے ریویو تک پاکستان گرے لسٹ میں

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی گذشتہ مہینے فوڈ سکیورٹی سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس کے موقع پر امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے اعلامیے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، تعلیم اور دوسرے شعبوں کا ذکر تھا۔

محمد مہدی کے خیال میں پاکستان امریکہ تعلقات میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے جو واشنگٹن میں اسلام آباد سے متعلق کئی سالوں سے موجود سرد مہری میں کمی کا عندیہ دیتی ہے۔

فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے ایک دوسرے سینئیر اہلکار نے یقین ظاہر کیا کہ مشرق وسطی اور دوسرے مسلمان دوست ممالک اور چین کے علاوہ کئی یورپی اور امریکی ملک بھی پاکستان کے حق میں ووٹ استعمال کریں گے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بیشتر یورپی ممالک کے دوروں میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق پاکستانی موقف اور اقدامات کو اجاگر کیا۔

ایف ایم یوعہدےدار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے بتایا کہ پاکستان میں اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاونٹر فنانسنگ آف ٹیررازم رجیم کو لاگو کرنے سے متعلق بہت کام ہوا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ڈیووس کے دورے کے دوران امریکی آن لائن ادائیگیوں کی کمپنی پے پال کے عہدےداروں سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہوں نے پاکستان میں اپنی سروس شروع کرنے کی حامی بھر لی ہے۔

’یہ ثابت کرتا ہے کہ بین الاقوامی ادارے نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی حوصلہ شکنی کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔‘

ایف ایم یو کے عہدےدار نے کہا کہ اسی سال اپریل میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ذریعے لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردی کے الزام میں قید کی سزا نے بھی پاکستان کے لیے آسانیاں پید کیں۔

پاکستان کی مخالفت کون کر سکتا ہے؟

ایف ایم یو کے عہدے دار کے مطابق بھارت ہرصورت ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے ہٹائے جانے کی مخالفت کرے گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہایت ایمانداری سے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پورا کیا اور دنیا ان کوششوں کو ضرور سراہے گی۔

محمد مہدی کا کہنا تھا کہ بھارت کے علاوہ کسی دوسرے ملک کا پاکستان کی مخالفت کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی فیصلے کی منظوری میں ایف اے ٹی ایف کے ایک رکن ملک کی مخالفت سے فرق نہیں پڑتا، تاہم دو مخالف ووٹوں کی صورت میں فیصلہ رد کیا جا سکتا ہے۔

’یہی صورت حال پاکستان کی بھی ہے، صرف بھارت کی مخالفت مسئلہ نہیں ہے لیکن کسی دوسرے ملک کا ہمارے خلاف ووٹ دینا ہمیں گرے لسٹ میں ہی رکھے گا۔‘

ایف اے ٹی ایف کے گذشتہ اجلاسوں میں امریکہ، چین، خلیجی ممالک اور فرانس بھی پاکستان کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کا نام گرے لسٹ سے کیسے نکلے گا؟

ایم ایف یو کے سینیئر عہدے دار نے وضاحت کی کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالے جانے کا فیصلہ فیٹف کے جاری اجلاس میں ہو جائے گا تاہم عملی طور پر یہ کام سال رواں کے آخری سہ ماہی میں مکمل ہوگا۔

یاد رہے کہ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی سربراہ لبنیٰ فاروق نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ عملی طور پر پاکستان کا نام فیٹف کی گرے لسٹ سے اکتوبر میں نکالا جائے گا۔

ایف ایم یو کے عہدےدار کے مطابق موجودہ اجلاس میں اسلام آباد کے حق میں فیصلے کی صورت میں اسی سال جولائی میں ایف اے ٹی ایف کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کرے گا اور منی لانڈرنگ کے خلاف حکومتی و ریاستی اقدامات کا عملی مظاہرہ دیکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وفد کی رپورٹ، جو یقیناً مثبت ہو گی، کے بعد عملی طور پر پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کی کہانی

ایف اے ٹی ایف ایک عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا نگران ادارہ ہے، اور ایسی سرگرمیوں کو روکنے کی خاطر بین الاقوامی معیارات مرتب کرتا ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے معیارات کو اپ ڈیٹ بھی کرتا رہتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف دنیا کے ملکوں کی نگرانی کرتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کو مکمل اور مؤثر طریقے سے لاگو کریں اور تعمیل نہ کرنے والے ملکوں کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2018 سے گرے لسٹ میں رکھا ہوا ہے، جس سے مراد ہے کہ بین الاقوامی اداری نے پاکستان کو اضافہ نگرانی کے تحت رکھا ہے۔

پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی خاطر کئی اہداف دیے گئے جن کی تکمیل کی ناکامی کے باعث 21 اکتوبر 2021 کو اس کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق 2018 سے قبل پاکستان کے بینکنگ اور دوسرے مالیاتی اداروں کے نظاموں میں مبینہ طور پر اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے کمی تھی۔

اسی لیے جون 2018 میں اسے گرے لسٹ میں شامل کیا گیا اور ابتدائی طور پر 10 اہداف پر مشتمل ایکشن پلان پر عمل کرنے کو کہا گیا۔

ان اہداف میں اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد دہشت گرد تنظیموں، افراد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مالی پابندیاں، اثاثوں کی ضبطگی، تفتیش، استغاثہ اور سزاؤں کے حوالے سے موثر کارروائیوں کی سفارشات تھیں۔  

اکتوبر 2021 کے مکمل اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ 

تاہم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروہوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کو کم قرار دیا۔

پاکستان نے جون 2021 میں ایک نئے ایکشن پلان کے حوالے سے خامیوں کو دور کرنے کے لیے عزم ظاہر کیا۔

اس سے قبل 2008میں بھی پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، جو اگلے ہی سال نکال دیا گیا تھا، تاہم 2012 سے 2015 تک کے عرصے کے دوران بھی اسلام آباد ایف اے ٹی ایف کی اضافی نگرانی میں رہا۔

ایف اے ٹی ایف کی ویب سائٹ کے مطابق جب کسی ملک کو نگرانی کے تحت رکھ دیا جاتا ہے تو اسے مقررہ وقت کے اندر نشاندہی کردہ خامیوں کو دور کرنا ہوتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں جانے ملکوں کو دنیا کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے امداد اور قرضوں کے حصول میں  سے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان