امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب کا شیڈول جاری

کئی ہفتوں سے جاری اندازوں کو بالآخر وائٹ ہاؤس اور سعودی حکام نے ختم کر دیا جب یہ اعلان ہوا کہ امریکی صدر جو بائیڈن جولائی میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے جس کی دعوت انہیں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے دی تھی۔

وائٹ ہاؤس اور سعودی حکام نے امریکی صدر کے دورہِ سعودی عرب کی تصدیق کی ہے جو آئندہ ماہ جولائی کی 15 اور 16 تاریخ کو ہو گا۔

بائیڈن سعودی فرمانروا اور ولی عہد سے ملیں اور گلف تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک سمیت مصر، عراق اور اردن کی نمائندگی پر مشتمل ایک اجلاس میں شریک ہوں گے۔

عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے صدارتی دورے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ دورے سے ’تاریخی تزویراتی شراکت داری کو روغ ملے گا‘ ایک ایسے وقت میں جب ’عالمی چیلنجز جیسا کہ عالمی معیشت، صحت، ماحول اور بین الاقوامی تنازعات کے دوران ہمارے ممالک کے درمیان شراکت داری پہلے سے زیادہ اہم ہے تاکہ دنیا بھر میں امن، ترقی اور پائیداری کو فروغ دیا جا سکے۔‘

سعودی عرب کے اس دورے کے ایجنڈے میں یمن میں اقوام متحدہ کے طے کردہ امن معاہدے کی حمایت بھی شامل ہے۔

اس معاہدے کے بعد سات سال پہلے جنگ شروع ہونے کے بعد سے پہلی مرتبہ خطے میں سب سے زیادہ پرامن دور آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے امریکہ صدر جو بائیڈن کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے کہا ہے کہ ’وہ (صدر بائیڈن) خطے میں معاشی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے جس میں نئے بنیادی ڈھانچے اور ماحول دوست اقدامات سمیت ایران سے دھمکیوں کا مقابلہ، انسانی حقوق کو آگے بڑھانے، عالمی توانائی اور خوراک کی سکیورٹی پر بات کریں گے۔‘

عرب نیوز نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے ایک سینئیر امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ’یمن امن معاہدے  کے حصول میں سعودی ولی عہد کا کردار ایک مثال ہے کہ امریکہ کو خطے میں قیام امن اور سکیورٹی کے لیے سعودی عرب کے ساتھ شامل ہونے کی ضرورت کیوں ہے۔‘

امریکہ صدر اپنے دورے کا آغاز 13 جولائی کو اسرائیل سے کریں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم کی نفتالی بنیت کی مخلوط حکومت کمزور پوزیشن میں ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم ایک اور الیکشن کو رکوانا چاہتے ہیں تاکہ بینجمن نیتن یاہو اقتدار میں نہ آ سکیں اور اس دوران ایران کے ایٹمی پروگرام میں پیش قدمی پر اسرائیل کے وہی تحفظات ہیں جو سعودی عرب کے ہیں۔

اسرائیل میں صدر بائیڈن ایک اقتصادی فورم آئی ٹو یو ٹو کے اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شامل ہوں گے جس کی بنیاد گذشتہ سال رکھی تھی اور اس میں اسرائیل، بھارت، متحدہ عرب امارات اور امریکہ شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن مقبوضہ مغربی کنارے کا دورہ بھی کریں گے تاکہ ’فلسطینی حکام سے مشاورت کر سکیں اور دو ریاستی امن حل کے لیے اپنی مضبوط حمایت کو دہرا سکیں  جس میں فلسطینی افراد کے لیے بھی برابری کی سطح پر سکیورٹی، آزادی اور مواقع شامل ہیں۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کا دورہ سعودی عرب الیکشن مہم میں ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے موقف میں وقفہ دینے کے مترادف ہے جس میں انہوں نے سعودی عرب کو ’تنہا‘ کرنے پر بات کی تھی۔ اب بائیڈن کو امریکہ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ جو بائیڈن کا دو روزہ سعودی عرب کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی قیادت میں تیل پیدا کرنے والے ممالک (اوپیک پلس) نے تیل کی پیداوار بڑھانے پر رضا مندی ظاہر کی ہے تاکہ روس پر مغربی پابندیاں لگنے کے بعد پیدا ہونے والی کمی کا ازالہ کیا جائے اور بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کا مقابلہ ہو سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا