بورس جانسن کا پناہ گزینوں کی ای ٹیگنگ کے فیصلے کا دفاع

اس بات کی تنبیہ کیے جانے کے باوجود کہ یہ ان لوگوں کا تاثر ’مجرمانہ‘ طور پر پیش کرے گی، وزیر اعظم جانسن نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ لوگ غیر قانونی طور پر ملک میں آنے کے بعد ’روپوش‘ نہ ہو سکیں۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن 18 جون 2022 کو یوکرین کے کیئف سے واپس آنے کے بعد لندن کے مغرب میں آر اے ایف برائز نورٹن پہنچنے کے بعد میڈیا کے ارکان سے بات کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ہوم آفس کے اس ’ظالمانہ‘ منصوبے کا دفاع کیا ہے جس میں برطانیہ پہنچنے والے پناہ گزینوں کو چھوٹی کشتیوں یا لاریوں میں ہی الیکٹرانک ٹیگ لگایا جانا ہے۔

اس بات کی تنبیہ کیے جانے کے باوجود کہ یہ ان لوگوں کا تاثر ’مجرمانہ‘ طور پر پیش کرے گی، وزیر اعظم جانسن نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ لوگ غیر قانونی طور پر ملک میں آنے کے بعد ’روپوش‘ نہ ہو سکیں۔

وزیر اعظم جانسن نے یہ بھی اصرار کیا کہ حکومت کچھ پناہ گزینوں کو افریقی ملک روانڈا بھیجنے کی اپنی متنازع پالیسی کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ وزرا کو اس حوالے سے منگل کو بھیجی جانے والی پہلی پرواز آخری لمحات میں قانونی وجوہات اور یورپیین کورٹ آف ہیومن رائٹس کی وجہ سے روکنا پڑی تھی۔

ہوم آفس کا کہنا ہے کہ یہ 12 ماہ تک ٹیگ کرنے والی پائلٹ سکیم ان بالغ افراد پر لاگو ہوگی جنہوں نے ’غیر ضروری اور خطرناک راستوں‘ سے برطانیہ کا سفر کیا ہے اور اس سے یہ چیک کیا جائے گا کہ آیا اس طرح کی ٹیگنگ پناہ کے دعویداروں کے ساتھ باقاعدہ رابطے کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے اور یہ کہ ان کے دعوے زیادہ موثر طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ہوم آفس کے مطابق یہ نظام اعداد و شمار بھی اکٹھا کرے گا کہ کتنے لوگ مفرور ہیں اور اگر کشتیاں برطانوی ساحلوں پر پہنچ چکی ہوں تو پناہ کے متلاشی افراد کو حراست میں لینے اور انہیں نکالنے پر غور کیا جا سکتا ہے جس کے تحت انتظامی گرفتاری یا ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

جن لوگوں کو ٹیگ لگایا گیا ہے انہیں باقاعدگی سے حکام کو ذاتی طور پر رپورٹ کرنا ہو گی، انہیں کرفیو یا ’آنے یا نکلنے کی زون‘ میں رکھا جا سکتا ہے یا بعض جگہوں جانے سے روکا جا سکتا ہے اور تعمیل کرنے میں ناکامی کی صورت میں انہیں واپس حراست میں لیا جا سکتا ہے یا ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

ہفتے کو اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے جانسن نے کہا: ’یہ (برطانیہ) ایک بہت ہی فراخ دلی سے خیرمقدم کرنے والا ملک ہے۔ یہ بالکل درست ہے اور مجھے اس پر فخر بھی ہے لیکن جب لوگ یہاں غیر قانونی طور پر آتے ہیں اور جب وہ قانون توڑتے ہیں یہ ضروری ہے کہ ہم یہ ان میں فرق کریں۔‘

ان کے بقول: ’ہم اپنی روانڈا پالیسی میں بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پناہ کے متلاشی ملک کے باقی حصوں میں غائب نہیں ہوسکتے۔‘

انہوں نے اس بات کا انکشاف اس وقت کیا ہے جب 12 ماہ کا یہ پائلٹ منصوبہ جمعرات کو شروع ہوچکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن ناقدین نے اس منصوبے کو ’سخت اور سزا دینے کے مترادف‘ قرار دیا ہے۔

اہم ضمنی انتخاب سے پہلے ویک فیلڈ کے دورے پر لیبر پارٹی کے رہنما سر کیر سٹارمر نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم پر اس پالیسی کو لے کر ’شہ سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’میں اس حوالے سے ایک سنجیدہ ردعمل کا خواہاں ہوں کیونکہ کوئی نہیں چاہتا کہ (انگلش) چینل کے ذریعے خطرناک سفر ممکن ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہر کوئی ان گروپس پر قابو پانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے فرانسیسی حکام کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اور درحقیقت ان گروپس سے نمٹنے کے لیے اپ سٹریم کام کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ایسی حکومت ہیں جو نیشنل کرائم ایجنسی سے کٹوتیوں کے لیے کہہ رہی ہے تو آپ ایسا نہیں کریں گے۔‘

جنگ زدہ کیئف کے غیر اعلانیہ دورے سے واپسی کے بعد رائل ایئر فورس برائز نورٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئےوزیر اعظم جانسن نے یہ بھی کہا کہ وزرا کو یقین ہے کہ پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کی پالیسی قانونی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں حکومت کو روانڈا کے لیے ٹیکس دہندگان کی مالی اعانت یعنی پانچ لاکھ پاؤنڈ سے چلائی جانے والی پہلی پرواز کو روانگی سے چند منٹ قبل اس وقت ترک کرنا پڑا تھا جب کچھ پناہ گزینوں کو قانونی سزا میں رعایت دی گئی تھی۔

تقریباً چار پناہ گزینوں کو طیارے میں سوار ہونا تھا لیکن آخری لمحات میں انسانی حقوق کی یورپی عدالت (ای سی ایچ آر) کے جج نے ان اپیلیں منظور کر لیں۔

وزیر اعظم جانسن نے کہا: ’اس ملک کی ہر ایک عدالت نے کہا کہ اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھ رہے۔ اس ملک میں کسی عدالت نے بھی اس پالیسی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جو کہ بہت حوصلہ افزا بات تھی۔

ان کے بقول: ’سٹراسبرگ (پرواز) کی آخری لمحات میں تاخیر عجیب واقعہ تھا۔ آگے دیکھتے ہیں کہ اس حوالے سے کیا ہوتا ہے۔ میں نے اس بارے میں کچھ دلچسپ قانونی تبصرہ پڑھا ہے۔ لیکن ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کی قانونی حیثیت پر ہمیں بہت اعتماد ہے اور ہم اس پالیسی پر عمل درآمد کریں گے۔‘

بدھ کو برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے کہا تھا کہ ہوم آفس کے اہلکار پہلے سے ہی اگلی پرواز کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں لیکن حکومت نے اس بارے میں کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کر دیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا