امریکی صدر جو بائیڈن کی مشرق وسطیٰ آمد

کسی بھی امریکی صدر کا دورہ مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے بےحد اہم ہوتا ہے، لیکن اس بار یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کی وجہ یہ دورہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

27 اکتوبر 2011 کی اس تصویر میں اس وقت کے امریکی نائب صدر جو بائیڈن سابق سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کے ساتھ ریاض میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران(اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

امریکی صدر جو بائیڈن کے دورۂ مشرق وسطیٰ کی وائٹ ہاؤس کی طرف سے باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جس کے بعد میزبان ملک میں تیاریاں عروج پر ہیں۔

بلاشبہ امریکی صدر کا دورۂ مشرق وسطیٰ ہمیشہ ہی اہمیت کا حامل رہا ہے، مگر اس بار معمول سے کہیں زیادہ اہم ہونے کی وجوہات اس خطے میں بھی ظاہر ہیں، امریکہ میں بھی اور یورپ سمیت پوری دنیا میں بھی۔ خود صدر بائیڈن نے بھی اس امکانی دورے کو خصوصا سعودی عرب کے حوالے سے ’ذرا ہٹ کے‘ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ لگتا ہے بعض جگہوں پر ’اب، ورنہ کبھی نہیں‘ والی سوچ کار فرما ہے۔

خطے کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام آگے بڑھنے کا شور ہے۔ جس کے نتیجے میں تیل پیدا کرنے والی عرب ریاستیں ہی نہیں اسرائیل اور امریکہ بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔

روس کے نئے دور کی ابتدا ہو چکی ہے جس کے اثرات سے مشرق وسطیٰ کا بچنا بھی آسان نہیں۔ چین کی اقتصادی میدان میں عالمی سطح کی پیش رفت کے ساتھ سفارتی و سیاسی محاذ پر بھی آگے بڑھنے کے رجحانات براہ راست امریکہ کے لیے پریشانی کے اہم حوالے ہیں۔

افغانستان سے جس ڈھب سے امریکی فوجی انخلا پچھلے سال مکمل ہوا تھا اس کا بھی تقاضا ہے کہ صدر جو بائیڈن امریکی اثر ورسوخ کو کم ہونے سے روکنے کے لیے نئے بندوبست کو بلا تاخیر ممکن بنانے کے ایجنڈے پر عمل شروع کریں۔ اگرچہ سمجھا جاتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اس میں ضروری سرعت نہیں دکھائی جا سکی۔

 ایسے میں برطانیہ کے نئے فوجی سربراہ جنرل پیٹرک سینڈر کا پہلا بیان ’24 فروری کے بعد دنیا تبدیل ہو چکی ہے،‘ صرف برطانیہ کے لیے ایک بڑے انتباہ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ امریکہ کو درپیش کثیر جہتی چیلنجوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔

یہ بڑھتی ہوئی امریکی معاشی ضروریات کا بھی تقاضا ہے اور دنیا میں سیاسی و فوجی بالا دستی کا بھی۔ افغانستان سے نکلنے کے بعد جو دھچکہ امریکہ کو سہنا پڑا ہے اس کے ازالے کی کوشش کے علاوہ خود جو بائیڈن کی اور ان کی جماعت کی ساکھ پر سوال ہیں۔

جو بائیڈن کی عوامی مقبولیت متاثر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کے گراف کو کم از کم مزید نیچے آنے سے روکنے کی کوشش کریں اور اپنے دفتر عمل کو بہتر بنائیں۔

اب رواں برس ماہ نومبر میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات جو بائیڈن اور ان کی جماعت کے لیے ایک اندرونی، فوری اور بڑے چیلنج کے طور پر سامنے ہیں۔ جو بائیڈن انتظامیہ کے دفتر عمل میں کچھ اضافہ کیا جانا ان وسط مدتی انتخابات کی بھی ضرورت ہے۔

بصورت دیگر نہ صرف یہ کہ جو بائیڈن کی صدارت کے معنی بدل جائیں گے بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر وائٹ ہاؤس میں براجمان ہونے کے قریب تر ہو جائیں گے۔ جو بائیڈن کو ان مشکل حالات اور بدلی ہوئی دنیا میں مشرق وسطیٰ کے امکانی دورے سے پیش بندی بھی کرنا ہے، منصوبہ بندی بھی اور خطے میں نئے بندوبست کی طرف بھی بڑھنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ چاہتے ہیں کچھ فوری نوعیت کے ’مفید‘ کام ممکن ہو جائیں یا ان میں نظر آنے والی پیش قدمی ہو، اور کچھ معاملات کی سمت بہتر ہو جائے۔ اس لیے محمد بن سلمان انہیں اچھے لگتے تھے، یا نہیں اس وقت وہ بھی ان کے لیے اتنے ہی اہم ہو چکے ہیں جتنے کے محمد بن سلمان کے لیے صدر جو بائیڈن اہم ہیں۔

اس لیے امریکی صدر کی سعودی عرب آمد کو ہر طرح سے زیادہ سے بامعنی بنانے کے لیے محمد بن سلمان سہ ملکی دورے پر نکل چکے ہیں۔ وہ مصر، اردن اور ترکی میں اہم ملاقاتیں اور مشاورتیں کرنے کی نیت سے موجود ہیں تاکہ بڑے فیصلوں میں اکیلے آگے نہ بڑھیں، دوسروں کو بھی اعتماد میں لے کر فیصلے کریں۔

اس تناظر میں امریکی صدر کے دورۂ مشرق وسطیٰ سے لگ بھگ تین ہفتے قبل اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سہ ملکی دورے سے ایک روز قبل اسرائیلی سابق وزیر خارجہ زپی لیونی نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے سعودی شاہی خاندان کی اہم شخصیت شہزادہ ترکی الفیصل کے ساتھ ایک تصویر ٹویٹ کی ہے۔

وہ ماضی میں اسرائیل کے سخت ناقدین میں شامل رہے ہیں۔ ان کی اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ایران سے ابھرنے والے خطرات پر بھی ان کی نظر ہے۔

ایرانی جوہری اور ڈرون پروگرام کو سمجھنے اور اس پر رائے کے حوالے سے شہزادہ فیصل، امریکہ اور اسرائیلی خدشات میں یکسانیت کا پایا جانا اچنبھے کی بات نہیں۔ جبکہ یمن، لبنان اور عراق وشام میں ایرانی اثرات کے مظاہر بھی متواتر ہوں۔

لہٰذا بعض لوگ اس تصویر کے بنائے جانے اور سامنے لانے کی ٹائمنگ کو محض اتفاق قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ اسرائیلی سابق وزیر خارجہ زپی لیونی نے محض چند روز قبل بنائی ہوئی اس تصویر کو جو بائیڈن کے دورہ مشرق وسطی کے لیے مشترکہ خیر مقدمی ’جیسچر‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔

 اس تصویر کے ٹویٹ ہونے کے فوری بعد میڈیا نے جتنی جگہ دی ہے، وہ بھی اہم ہے۔ گویا دو اہم سعودی واسرائیلی شخصیات کی یہ محض ایک تصویر نہیں ایک نئے دور کی اطلاع کی چغلی کھاتی ہے۔ بعضوں کے نزدیک تو یہ تصویر نہیں جو بائیڈن کے دورے کا عنوان ہے۔

یہ ’مفروضاتی عنوان‘ اس کے باوجود بڑا اہم ہے کہ اسرائیل کی مخلوط حکومت کی آخری ہچکیوں کا وقت ہے۔ عبوری حکومت کی تشکیل ہو رہی ہے اور اگلے اکتوبر تک نئے انتخابات متوقع ہی نہیں، بلکہ یقینی لگ رہے ہیں۔

لیکن دو باتیں اہم ہیں کہ جس طرح امریکہ کے بارے میں یہ معروف بات ہے کہ اس کی حکمت عملی ریاستی نوعیت کی ہوتی ہے، حکومتی انداز کی نہیں۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے اہداف بھی ایسے ہی ہیں کہ حکومت خواہ کسی بھی جماعت یا فرد کی ہو، اسرائیلی اہداف تبدیل نہیں ہوتے۔

لہٰذا امریکہ کی داخلی ضرورتوں اور عالمی مسائل کے ساتھ اسرائیل، مصر، اردن، سعودی عرب اور ترکیہ کے بڑے ایوانوں کے درون خانہ ہونے والی سرگرمیوں کو نکتے ملانے والے ایک سرگرمی کے طور پر ہی لے لیا جائے تو یہ کھیل کافی سنجیدہ مرحلے میں داخل ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ کئی ممالک اور ان کے موجودہ حکمرانوں کے مشترکہ مفادات کا بھی تقاضا ہے۔

ایک دو حوالے اسلامی جمہوریہ پاکستان سے بھی دستیاب ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر کام کرنے والے ایک صحافی کا حالیہ دورہ اسرائیل، پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے زیر کمان اہم سیاسی جماعت کے ایک اہم اور کاروباری سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بڑا تفصیلی بیان، پاکستان میں تقریباً اسرائیل کی مخلوط حکومت جیسی مخلوط حکومت، جس کی اکثریت نقش بر آب کی طرح ہے، بدترین معاشی صورت حال میں امریکہ اور آئی ایم ایف سے حاجات، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے توقعات سب اہم باتیں ہیں۔

پاکستان میں ایک حکومت کے خاتمے کے بعد اس سے بھی کمزور بنیادوں پر کھڑی کی گئی مخلوط حکومت کے ہوتے ہوئے بدترین سیاسی ومعاشی عدم استحکام ہی نہیں، ماہ نومبر میں ’اہم فیصلوں‘ کی ایک عرصے سے جاری بحث بھی موجود ہے۔ اگر اس سب کچھ کو ملا کر دیکھا جائے تو پاکستان کے رجحانات اور حالات کا بننے والا ہیولا مذکورہ بالا منظر نامے سے دوری پر نظر نہیں آتا۔

یقیناً ’گلوبل ویلیج‘ کا حصہ ہونے کے ناطے ایک دوسرے سے تعاون لینا اور ایک دوسرے کو تعاون دینا لازم ہو چکا ہے۔ خصوصا جب حالات یہ بن چکے ہوں کہ ہر کوئی اپنے آپ کو مشکلات میں گھرا ہوا اور فطری طور پر کمزور بھی سمجھنے لگا ہو۔

ان حالات کہ جن میں سب ایک دوسرے کے تعاون کے متلاشی بھی ہیں اور تعاون ’بارٹر‘ کرنے کے لیے تیار بھی۔ تو یہ کہنا دور کی کوڑی لانا ہر گز نہیں ہے کہ جو بائیڈن کے دورہ سعودی عرب کے دوران اہم فیصلوں کا امکان غالب ہے۔

یہ ممکن ہے کہ بعض فیصلے حتمی نوعیت کو نہ چھو پائیں، مگر اصولی فیصلوں یا ابتدائی فیصلوں کے درجے میں ضرور شمار ہو سکیں گے۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں سب فریق باہم ایک دوسرے کے دست وبازو بن کر چلنے پر بھی متفق ہو جائیں اور آنے والے دنوں میں اسی سمت میں اپنے بڑے فیصلوں کے لیے مقامی سطحوں پر مزید تبدیلیوں کے امکانات پیدا کر کے تبدیل شدہ دنیا میں مشرق وسطیٰ کو بھی بدلنے کی راہ مزید ہموار کریں گے۔

مشرق وسطیٰ پہلے ہی اس راستے کا راہی بن چکا ہے۔ ترکی، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کی سوچ میں تبدیلی کے اشاروں سے آگے نکل چکی ہے۔ لیکن نوبت کو یہاں تک لانے میں ’’گاجر اور چھڑی‘‘ کی امریکی حکمت عملی کا گہرا دخل ہے۔

یہ پالیسی نئے حالات میں بھی کبھی ایک ملک کے لیے اور کبھی دوسرے ملک یا کسی شخصیت کے لیے بروئے کار رہے گی، کہ اسی سے ’ھل من مزید‘ کی صورت ممکن ہو سکے گی۔

 

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ