ماسکو پر دباؤ کا راستہ ریاض سے ہو کر گزرتا ہے

امریکی اپیلوں کے باوجود سعودی عرب اور امارات تیل کی پیداوار بڑھانے سے کیوں انکار کر رہے ہیں؟

دنیا کی سب سے بڑی کمپنی سعدی آرامکو کی ایک تنصیب جسے پمپ 3 کہا جاتا ہے (اے ایف پی) 

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

یوکرین جنگ کا نیا مرحلہ سامنے آ رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں روسی افواج کوشش کریں گی کہ مقبوضہ علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھائیں اور اندر کی جانب بڑھیں۔ یوکرین فوج اور عوام سخت مزاحمت پیش کریں گے۔

غالب امکان ہے کہ ہلکے درجے کی لڑائیاں جاری رہیں گی۔ دونبیس کا علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ یہ 2014 سے جاری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ روس پر دباؤ میں بتدریج اضافہ کیا جائے اور مجبور کیا جائے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے۔ وہ پابندیوں میں ریلیف چاہے اور امن کے بدلے یہ مقصد حاصل ہو سکے۔

اس دباؤ کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ روس مخالف اتحاد کی مدد کی جائے تاکہ وہ میدان جنگ میں ٹھہرا رہے جب کہ روس کے خلاف پابندیوں میں اضافہ کیا جائے۔ یہ سب ایک ایسے منظر میں ہی ممکن ہے جس میں توانائی کی قیمتیں کم ہوں، جو اس وقت بلند سطح پر ہیں۔

اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل پر رہتی ہے، اور یہ قیمت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، تو یورپ جلد ہی کساد بازاری سے دوچار ہو جائے گا۔ عالمی معیشت کی نشو و نما سست پر جائے گی اور پابندیوں کے خلاف سیاسی احتجاج شروع ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ روس مخالف اتحاد دھڑام سے گر جائے گا۔ دنیا سستی توانائی کی تلاش میں سرگرداں ہو جائے گی۔ ولادی میر پوتن یہی چاہتے ہیں۔

روس پر دباؤ کا واحد راستہ یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں کم رہیں اور عالمی معیشت بھی ڈانواں ڈول ہونے سے محفوظ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پائیدار کام یہ ہو گا کہ تیل پیدا کرنے والا سعودی عرب اور دوسری خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات اور کویت تیل کی پیداوار بڑھائیں۔

امریکہ نے تیل پیدا کرنے کی اپنی رفتار ممکنہ حد تک بڑھا دی ہے۔ دوسرے راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وینزویلا پر پابندی ہٹا دی جائے اور ایران سے جوہری معاہدے کی طرف بڑھا جائے، جب کہ خلیجی ممالک آسانی سے پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔ وہ ملین کے حساب سے زیادہ بیرل پیدا کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ سپلائی کو مستقبل میں بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی بار بار اپیلوں کے باوجود سعودی عرب اور امارات نے پیداوار بڑھانے سے انکار کر دیا ہے۔

اس صورت حال میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ایک بار پھر نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ ماضی میں صدر جو بائیڈن سعودی عرب کو ’فرعون‘ قرار دے چکے ہیں۔ ابھی انہوں نے محمد بن سلمان سے ایک حتمی ملاقات کرنی ہے۔ محمد بن سلمان نے تیل کی پیداوار بڑھانے کی متعدد درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔ اس کے بجائے وہ روس اور چین سے تعلقات بڑھا رہے ہیں۔

جلد ہی شائع ہونے والی امریکی کونسل آف فارن ریلیشنز کی خصوصی رپورٹ میں سٹیون کک اور مارٹن انڈیک نے ایک بڑے سمجھوتے کی تجویز دی ہے جس سے امریکہ محمد بن سلمان سے تعلقات بہتر بنا سکتا ہے۔ امریکہ، سعودی عرب کے تحفظ کا خصوصی وعدہ کر کے اعتماد بحالی کے کاموں کا آغاز کر سکتا ہے۔ مارٹن انڈیک کئی برس تک اسرائیل میں امریکی سفیر رہے ہیں۔

دبئی سے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے پین عرب سیٹلایٹ ٹی وی العربیہ نیوز کے فلیگ شپ پروگرام ’البعد الآخر‘ میں سینیئر اینکر پرسن منتہی الرمحی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مارٹن انڈیک نے کہا، ’امریکی تحفظ کی یقین دہانی کے بدلے میں سعودی عرب کو چند اقدامات کرنا ہوں گے، مثال کے طور پر یمن سے جنگ کا خاتمہ سے لے کر اسرائیل سے مذاکرات کیے جائیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہماری رائے میں مارٹن انڈیک کی جانب سے اپنی گفتگو میں اٹھایا گیا مؤخر الذکر نکتہ سعودی عرب کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے، جس پر سعودی حکومت فی الحال بات نہیں کرنا چاہتی۔

سعودی عرب چاہتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ’عرب امن منصوبے‘ کی روشنی میں حل کیا جائے جس کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل 1967 کی جنگ میں زیر قبضہ جانے والے علاقوں سے نکل جائے تاکہ وہاں آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جا سکے، جس کا دارلحکومت بیت المقدس ہو۔

اس خیال پر کام ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں کو اس میں شامل کر لیا جائے۔ مصر کو بھی شامل کیا جائے۔ واشنگٹن کے ساتھ ان کے بظاہر عدم اتفاق دور کیے جائیں۔ مشرقی وسطیٰ کی بڑھتی عدم استحکام کی کیفیت دور کی جا سکتی ہے۔

سعودی عرب کو تاہم اس بات کا رنج ہے کہ 2019 میں ان کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایرانی حمایت والے حوثیوں کی مدد سے کیے گئے۔ جواب میں ٹرمپ انتظامیہ کچھ نہ کر سکی۔ متحدہ عرب امارات کو بھی امسال جنوری میں ایک ایسے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں بھی افسوس ہے کہ بائیڈن انتظامیہ زیادہ تیزی سے متحرک نہ ہو سکی۔

امریکہ کو اس خطے میں سلامتی کی نئی چھتری فراہم کرنا ہو گی۔ اس میں مصر اور خلیجی ریاستوں سمیت دوسرے تمام سٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا جائے۔ اس سے سلامتی کی فضا بہتر ہو گی اور خطے میں کسی جوہری دوڑ کا خاتمہ ہو گا۔ اس طرح سے صنعتی دنیا کو توانائی فراہم کی جا سکے گی۔ لیکن اس راستہ پر چلنے کے لیے سعودی عرب کے ڈی فیکٹو حکمران محمد بن سلمان سے تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ محمد بن سلمان آئندہ 50 برس تک سعودی عرب حکمران ہیں۔ وہ اس وقت بھی عملاً مملکت کے فرمانروا کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں انہیں ماڈرن ترقی کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ وہ سعودی جوانوں میں بہت مقبول ہیں۔ وہ تفریح، سیاحت کے لیے ملک کھول رہے ہیں اور خواتین کو زیادہ بااختیار بنانے کے سعودی ثقافت اور روایات سے ہم آہنگ اقدامات کر رہے ہیں۔

جو محمد بن سلمان کی اس قوت کے قائل ہیں، وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ کب اور کس طرح ان کی مقبولیت کو جمود کے شکار امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، تاہم حال ہی میں ترک صدر طیب اردوغان کے دورہ ریاض کے موقعے پر انقرہ نے جس عملیت پسندی کا مظاہرہ کر کے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافی مسائل کے حل کی راہ تراشی ہے، وہ واشنگٹن کے لیے بھی رول ماڈل کا کام دے سکتی ہے۔

عالمی تعلقات اکثر حکمت عملی کو نظریے پر فوقیت دیتے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران میں واشنگٹن نے ماؤ کے چین سے مشترکہ مقصد پر تعاون کیا۔ اس تزویراتی تعاون کا اصل مقصد سوویت یونین پر دباؤ بڑھانا تھا۔ اگر واشنگٹن نے اس دنیا میں آگے رہنا ہے، جس میں روس سے سرد جنگ ہو رہی ہے تو امریکہ کو ایسی ہی تزویراتی حکمت سے کام لینا ہو گا۔


نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ