احساس پروگرام کو ’منفرد‘ قرار دینے والے مقالے میں کیا ہے؟

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک ذیلی ادارے کا مکالے میں احساس پروگرام کا دنیا بھر میں ایسے پروگراموں کے ساتھ تقابلی جائزہ ہے۔

پشاور میں 12 اپریل 2021 کو رمضان سے قبل احساس پروگرام کے کیش ٹرانسفر کے لیے ایک خاتون کی انگلیوں کے نشان لیے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ کی معروف سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک ذیلی ادارے نے ایک مقالے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے شروع کیے گئے احساس پروگرام کو دنیا میں غربت کے خاتمے کے پروگرامز میں ایک منفرد پروگرام قرار دیا ہے جس میں غربت کے خاتمے کو صرف کیش ٹرانسفر تک محدود نہیں کیا گیا ہے بلکہ مختلف چیزوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے فریمین سپوگلی انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر رواں ماہ شائع ہونے والے مقالے کے محقق مائیکل باربر اور مقیط شہزاد ہیں۔ مائیکل 2001 سے 2005 تک برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے مشیر رہے ہیں، جبکہ مقیط کنسلٹنگ کمپنی ڈلیوری ایسوسی ایٹس سے منسلک ہیں۔

ان کا مقالہ احساس پروگرام کا دنیا بھر میں ایسے پروگراموں کے ساتھ تقابلی جائزہ ہے جس میں اس بات پر تجزیہ کیا گیا ہے کہ احساس پروگرام پاکستان میں ماضی میں غربت کے خاتمے کے پروگراموں سے کیسے مختلف ہے۔

تحقیقی مقالے میں پاکستان میں غربت کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان دنیا کا 51واں غریب ترین ملک ہے جس کی 35 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔

مقالے میں اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ملک کے امیر لوگ ٹیکس کم دیتے ہیں اور ٹیکسوں کا سارا بوجھ مڈل کلاس اور غریب لوگوں پر ڈالا گیا ہے جبکہ ملک کی آبادی میں ہر سال دو فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جو دنیا میں آبادی کے اضافے کی شرح کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔

مقالے کے مطابق پاکستان میں غربت کے خاتمے کے پروگراموں پر جی ڈی پی کا صرف دو فیصد لگایا جاتا ہے جو پڑوسی ممالک جیسے سری لنکا اور بھارت سے کم ہے۔

اسی طرح غربت کے خاتمے کے حوالے سے جو منصوبے بنائے جاتے ہیں، ان پر باقاعدگی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ غربت کے خاتمے کے منصوبے کامیاب بنانے کے لیے باقاعدہ ڈیزائن اور اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان میں منصوبوں کی تاریخ

تحقیقی مقالے میں تقسیم ہند کے بعد غربت کے خاتمے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور سب پہلا پانچ سالہ منصوبہ 1956 سے لے کر 1960 تک ’ویلج ایڈ پروگرام‘ کے نام سے بنایا گیا جس کے تحت دیہی علاقوں میں سکول، مراکز صحت اور پینے کے پانی کے منصوبے شامل تھے۔

اس کے بعد 1970 میں ملک میں سیاسی حالات تب خراب ہوگئے جب بنگلہ دیش جدا ہوگیا اور اس کے بعد 1973 میں عالمی منڈی میں تیل کے بحران کے نتیجے میں پاکستان میں بھی بحران پیدا ہوگیا۔

انہی حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ذولفقار علی بھٹو نے غربت کے خاتمے کے لیے ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ لگایا اور اسی دور میں ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ جیسے پروگرامز کا آغاز بھی ہوا لیکن زیادہ توجہ لینڈ ریفارمز پر تھی۔

مقالے کے مطابق ضیاءالحق کے دور میں بیرون امداد میں اضافے کے ساتھ ملک کے معاشی حالات بھی بہتر ہوگئے تاہم غربت کے خاتمے پر کم دھیان دیا گیا اور زیادہ دھیان زکوۃ پر مرکوز رکھا گیا۔

تاہم مقالے کے بعد 1990 میں غربت بڑھتی گئی اور اسے ختم کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں لیے گئے لیکن اس دور میں بیت المال ادارے کی بنیاد رکھی گئی جو زیادہ تر زکوۃ پر دھیان دیتا ہے۔

بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام

مقالے کے مطابق 2008 میں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے اجرا سے غربت کے خاتمے کے پالیسیوں میں خاطر خواہ تبدیلی آگئی اور اس پروگرام سے 50 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہونا شروع ہوگئے۔

اسی پروگرام کے تحت پھر وسیلہ تعلیم پروگرام کا اجرا کیا گیا جس میں غریب خاندانوں کے بچوں کو تعلیمی وظائف دیے گئے اور یہی بی آئی ایس پی بعد میں احساس پروگرام کو چلانے کے لیے ایک بنیادہ ادارہ بن گیا۔

احساس پروگرام کیسے مختلف ہے؟

مقالے میں محققین نے اس بات پر بھی تجزیہ کیا ہے کہ احساس پروگرام ماضی میں شروع کیے گئے پروگراموں سے کیسے مختلف ہے۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام میں سوشل پروٹیکشن کے 134 چھوٹے منصوبے شامل کیے گئے ہیں اور اس پروگرام کو صرف ایک کیش ٹرانسفر پروگرام تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ اس میں صحت، تعلیم اور طرز زندگی پر بھی دھیان دیا گیا ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ میں غربت کے خاتمے کا ایک ’بہترین پروگرام‘ ہے۔

مقالے کے مطابق احساس پروگرام میں صحت، تعلیم، بے روزگاری اور صحت کے مسائل کو چار ستون کے تحت رکھا گیا، اور ان مسائل کو ان کی متعلقہ وزارتوں کو حل کرنے کے لیے دیا گیا۔

احساس پروگرام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس میں غربت کے مختلف پیرایوان کا احاطہ کیا گیا ہے اور اسی ڈیزائن کی وجہ سے اس پروگرام کی مدد سے آئندہ آنے والے نسلوں میں غربت کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔

مقالے کے مطابق: ’احساس پروگرام صرف کیش ٹرانسفر کا پروگرام نہیں ہے بلکہ اس پروگرام کو ڈیزائن سائنٹیفک طریقے سےکیا گیا ہے تاکہ غربا کی کیش ٹرانسفر کے ذریعے مدد بھی کیا جا سکے اور ساتھ میں وہ مستقبل میں غربت سے نکل بھی سکیں۔ احساس پروگرام دنیا میں غربت خاتمے کے پروگرامز میں ایک منفرد پروگرام ہے۔‘

مقالے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام میں کرپشن پر کنٹرول کرنے کے لیے باقاعدہ ایک مکینزم بنایا گیا ہے تاکہ اس فلاحی پروگرام سے صرف مستحق افراد مستفید ہو سکے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہر معاشیات اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ اس مقالے میں زیادہ تر ذاتی رائے کا اظہار کیا گیا ہے اور ریسرچ کمیونٹی میں اس قسم کے مقالوں کو زیادہ معتبر نہیں سمجھا جاتا۔

ان کا کہنا تھا: ’مقالے میں دیے گئے ریفرنس بھی زیادہ تر احساس پروگرام کی سابق سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تحریریں ہیں، جس کی وجہ سے اس میں جانب داری کا عنصر ضرور موجود ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی مقالہ جب تک متعلقہ موضوع کے جریدے میں شائع نہ ہو جائے اور متعلقہ ماہرین کی جانب سے اس پر باقاعدہ نظرثانی نہ کی جائے تو وہ مستند نہیں سمجھا جاتا۔

سلیم سے جب پوچھا گیا کہ کیا احساس پروگرام واقعی دنیا کا ایک منفرد پروگرام ہے، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا احساس پروگرام تو اصل میں بی آئی ایس پی ہی ہے اور  2010 میں منظور ہونے والے بی آئی ایس پی ایکٹ کے تحت کام کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جس طرح بی آئی ایس پی میں وقتاً فوقتاً اصلاحات کی گئیں ہیں، تو اسی طرح پی ٹی آئی نے اس کا نام تبدیل کیا اور ساتھ میں کچھ تبدیلیاں بھی کیں لیکن بنیادی طور پر یہ وہی بی آئی ایس پی پروگرام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے نام کو تبدیل کرنے کی کوشش پاکستان مسلم لیگ نے بھی کی تھی لیکن چونکہ یہ نام ایکٹ میں موجود ہے اور اس وقت حکومت میں موجود ن لیگ اس کو پیپلز پارٹی کی سپورٹ کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتی تھی تو نام تبدیل نہیں ہو سکا۔

کیا احساس پروگرام میں کچھ ایسی تبدیلی کی گئی ہیں جو بی آئی ایس پی میں نہیں تھی؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اب اس پروگرام کو ایک دفتر کے نیچے کردیا گیا ہے اور اس کا اپنا ایک وزیر بھی ہوتا ہے جو ایک اچھا اقدام ہے۔

انہوں نے کہا: ’مقالے میں کہا گیا ہے کہ بی آئی ایس پی صرف کیش ٹرانسفر کا پروگرام تھا جبکہ احساس مختلف ایریاز کو کور کرتا ہے، تو اصل میں اب بھی احساس پروگرام کے تحت 90 فیصد فنڈ کیش ٹرانسفر ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان