’جس شخص نے بھوک دیکھی ہو وہ ہر دانے کی قیمت جانتا ہے‘

2011 سے ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا کہ بھارتی شہر حیدرآباد دکن کے دبیر پورہ فلائی اوور کے نیچے قطار میں انتظار کرنے والوں کو دوپہر کا کھانا نہ ملا ہو اور اس سب کے روح رواں اظہر مقصوصی ہیں۔

اظہر مقصوصی نے 2011 میں اس کام کا آغاز 30 افراد کو کھانا کھلانے سے کیا تھا(فوٹو: ویڈیو سکرین گریب)

بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد دکن کے دبیر پورہ فلائی اوور کے نیچے ہر روز ایک دلچسپ نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

دوپہر کے 12 بجتے ہی تقریباً 150 لوگ اپنی بھوک مٹانے کے لیے قطار میں لگ جاتے ہیں۔

2011 سے ایسا ایک دن بھی نہیں گزرا کہ شہر کے اس فلائی اوور کے نیچے قطار میں انتظار کرنے والے ان مفلس لوگوں کو دوپہر کا کھانا نہ ملا ہو۔

اس سب کے روح رواں اظہر مقصوصی نامی ایک مقامی شخص ہیں جو ان غریب اور ضرورت مند لوگوں کے اداس چہروں کی مسکراہٹ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

اظہر مقصوصی کا تعلق پرانے شہر کے علاقے چنچل گڈا سے ہے۔ انہوں نے 2011 میں اس کام کا آغاز 30 افراد کو کھانا کھلانے سے کیا تھا اور اب نہ صرف حیدرآباد بلکہ ملک کے مختلف شہروں میں 15 سو سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہوتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’جب میں دبیر پورہ ریلوے سٹیشن کے قریب سے گزر رہا  تھا تو میں نے ایک عورت کو بری طرح روتے ہوئے دیکھا۔ پوچھ گچھ پر پتہ چلا کہ وہ پچھلے دو دنوں سے بھوکی تھی۔ میں لکشمی نامی اس عورت کی حالت کو دیکھ کر برداشت نہیں کر سکا اور ہوٹل سے کھانا خرید کر انہیں اپنے ہاتھوں سے کھلایا۔‘

کہنے کو یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا لیکن اس نے اظہر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور انہوں نے اس کام کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دیا۔

مزید پڑھیے: فیصل آباد: مزدوروں کے لیے رعایتی کھانا

اظہر کہتے ہیں کہ ’جب میں نے یہ کام شروع کیا تھا تو میری اہلیہ گھر میں کھانا بنا کر دیتی تھیں اور میں ریلوے سٹیشن پر لوگوں کو کھلاتا تھا، لیکن جب کھانے والوں کی تعداد 50 سے زیادہ ہو گئی تو میرے لیے اتنے لوگوں کا کھانا گھر سے لانا مشکل ہو گیا۔ جس کے بعد پل کے نیچے کھانا پکانے کا انتظام کیا۔ آج وہاں 150 سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور اس کام کے لیے باورچیوں کو رکھا ہے۔‘

اظہر کی اپنی کہانی بھی درد بھری ہے۔ ان کے لیے زندگی کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ چار سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور ان پانچ بہن بھائیوں کی پرورش کی ذمہ داری ماں پر آگئی۔ اظہر کو بھی پڑھائی چھوڑنی پڑی اور وہ مزدوری  کرنے لگے۔

اظہر مقصوصی ایک چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں جس سے ان کی کمائی معمولی ہے لیکن یہ معمولی کمائی ان کی سخاوت کے آڑے نہیں آتی۔

انہوں نے بتایا: ’میں دبیر پورہ میں پلاسٹر آف پیرس کی دکان چلاتا ہوں۔ کمائی کا ذریعہ اتنا نہیں تھا۔ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ پکانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ کبھی کباڑ بیچ کر اور کبھی  دکانداروں سے ادھار لے کر کھانا پکانا پڑا۔ پہلے تین سال بہت پریشانیاں جھیلنی پڑیں۔ بس سوچتا تھا کہ شاید میری ہمت ختم ہو جائے گی، لیکن جب سویرے اٹھتا تھا تو ایک نئے جذبے اور جنون کے ساتھ اٹھتا تھا۔ یہ سب اللہ کی طرف سے آزمائش تھی اور میں اس آزمائش میں کامیاب ہو گیا۔ آج تک یہ کام اسی جذبے اور جنون کے ساتھ چل رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پچھلے 10 سالوں سے غیب کی مدد سے یہ کام  چل رہا ہے۔

بقول اظہر: ’معمول کی طرح ایک دن ہم دبیر پورہ پل کے نیچے ہی کھانا کھلا رہے تھے تو ایک شخص غلطی سے راستہ بھٹک کر یہاں آیا۔ انہیں میں نہیں جانتا تھا۔ اگلے دن اس نے اپنے بھائی کو بھیج کر پتہ کروایا اور کہا کہ ہم تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ تب سے وہ شخص ہر مہینے چاول کے 15 بیگ بھیجتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے: کھانا اتنا منگوائیں جتنا کھا سکیں

انہوں نے بتایا کہ اس کام کے لیے انہوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا اور اسے اپنی طاقت بنا لیا۔ سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگ ہیں جو میرے اس کام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جس شخص نے خود بھوک دیکھی ہو، وہ ہر دانے کی قیمت جانتا ہے۔‘ شاید یہی وجہ ہے کہ اظہر لوگوں کی بھوک مٹانے کا کام تندہی سے کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’جب آپ کسی کو کھانا کھلاتے ہیں تو اگر وہ زبان سے دعا  نہیں دے گا لیکن اس کے پیٹ کی انتڑیاں دعائیں دیتی ہیں۔ جب میں سوچتا ہوں تو مجھے بے انتہا خوشی ہوتی ہے اور فخر محسوس کرتا ہوں۔‘

اظہر مقصوصی نے اپنے کام کی وجہ سے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں اپنا نام کمایا ہے۔ انہیں اس کام کی وجہ سے درجنوں اعزازات  سے نوازا گیا ہے۔ گذشتہ برس برٹش گورنمنٹ نے انہیں کامن ویلتھ پوائنٹ آف لائٹ ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا