فیصل آباد: مزدوروں کے لیے رعایتی کھانا

فیصل آباد میں تاریخی گھنٹہ گھر کے قریب مارکیٹوں کے تاجر دکانوں کے ملازمین اور مزدوروں کے لیے لنچ باکس سروس چلا رہے، جس میں انہیں ایک وقت کا کھانا 30 روپے کی رعایتی قیمت میں دیا جاتا ہے۔

فیصل آباد کے تاریخی گھنٹہ گھر کے قریب بازاروں کے تاجروں نے دکانوں پر کام کرنے والے سیلزمین، مزدوروں اور سفید پوش طبقے کو رعایتی قیمتوں پر دوپہر کا کھانا فراہم کرنے کے لیے لنچ باکس سروس شروع کی ہے۔

اس حوالے سے موٹرسائیکل رکشوں پر چار موبائل کیبن بنائے گئے ہیں جو ہر روز تقریباً 12 بجے کچہری بازار، کارخانہ بازار، ریل بازار اور فیکٹری ایریا کے علاقے میں مخصوص مقام پر پہنچ جاتے ہیں اور ان کے ذریعے شہریوں کو 30 روپے فی باکس میں ایک وقت کا کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔

اس لنچ باکس سروس کے عطیہ دہندگان میں شامل کچہری بازار کے تاجر شیخ سلمان عارف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر تاجر دوستوں نے تین، چار ماہ پہلے یہ کام شروع کیا تھا۔

'پہلے ایک پوائنٹ لگایا، جب وہاں پر رسپانس دیکھا پھرساتھ ہی اس کے دوسرا پوائنٹ شروع کیا اور آج ماشااللہ یہ چوتھا پوائنٹ ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس کام کا سہرا ان کے تاجر دوست مسیب خالد کو جاتا ہے جنہوں نے دیگر لوگوں کو اس کام میں شامل ہونے پر راغب کیا۔

انہوں نے بتایا کہ لنچ باکس میں ایک سالن اور دو روٹیاں یا چاول کی ایک پلیٹ 30 روپے میں دی جاتی ہے جو دکانوں پر کام کرنے والے سیلزمین، راہگیر یا کوئی بھی شخص لے  جا سکتا ہے۔

’اس مہنگائی کے دور میں 30 روپے کا لنچ باکس دینے کا مطلب ہے کہ ہم تقریباً 40 سے 50 فیصد قیمت لیتے ہیں اور 50 سے 60 فیصد خرچ ہم لوگ مل کر اپنی جیب سے ڈالتے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مفت کھانا کئی جگہوں پر لوگ دیتے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص جس کے اندر عزت نفس اور خودداری کا عنصر موجود ہے وہ اس جگہ سے کھانا نہیں کھائے گا۔

’وہ شخص کوشش کرے گا کہ جب میرے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں اور میں محنت کرسکتا ہوں تو مفت کھانا نہ کھاؤں۔ یہ ایسے لوگوں کا حق ہے جو خدانخواستہ معذور یا معذور ہیں  اوران کے پاس کام کرنے کی ہمت یا طاقت نہیں ہے ۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آٹھ بازاروں میں تقریباً 40 سے 50 ہزار دکانیں ہیں اور ہر دکان پر چار، پانچ سیلز مین کام کر رہے ہیں۔

’یہ سیلزمین دکان سے 100 یا 80 روپے کھانے کا خرچہ لیتے ہیں لیکن ان کے لیے یہ بڑی سہولت ہے کہ وہ یہاں آتے ہیں 30 روپے کا لنچ باکس لے کر باقی پیسے وہ اپنے کرائے یا پٹرول وغیرہ پر خرچ کر لیتے ہیں۔‘

سلمان عارف کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ کھانا مفت دینے کی بجائے 30 روپے رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی یہاں سے آکر کھانا لے گا اس کو یہ محسوس ہوگا کہ وہ پیسے دے کر چیز لے رہا ہے۔

’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک قیمت کم رکھ لیں لیکن قوم کے اندر ایک مزاج ایسا آئے کہ ہم نے خود کر کے کھانا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’قرآن پاک میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ صاحب حیثیت افراد معاشرے کے کمزور لوگوں پر خرچ کریں۔ اس لیے لنچ باکس سروس پر وہ سب دوست مل کر اخراجات کرتے ہیں اور اسی کے ذریعے یہ نظام چلتا ہے۔

اس لنچ باکس سروس کے منتظم مسیب خالد خود بھی کپڑے کے تاجر ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید روز بروز کم ہو رہی ہےاور وہ خود یہ دیکھتے تھے کہ دکانوں پر کام کرنے والے سیلزمین مالی مشکلات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے انہیں یہ کام شروع کرنے کا خیال آیا تاکہ لوگوں کو ایک وقت کا اچھا کھانا مناسب قیمت پر فراہم کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ لنچ باکس سروس کے ذریعے روزانہ تقریباً ایک ہزار سے 12 سو افراد کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

کھانے کی تیاری اور اس پر آنے والے اخراجات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تاجروں نے ہفتے میں ایک دن، دو دن  یا تین دن کھانا دینے کی ذمہ داری اٹھائی ہوئی ہے جبکہ کچھ تاجر نقد رقم بھی جمع کروا دیتے ہیں جس پر وہ راشن خرید کر ایک پکوان سینٹر والے کو دے دیتے ہیں اور وہ بغیر کوئی خرچ لیے انہیں یہ کھانا مفت تیار کردیتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ لنچ باکس سروس سے ہر شخص ایک وقت میں کم ازکم پانچ افراد کا کھانا خرید سکتا ہے۔

’ہر دکان پر کم از کم چار، پانچ لوگ تو کام کرتے ہی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنے گھر والوں کے لیے کھانا لے کر جانا ہے تو اس کے لیے بھی سہولت ہو جاتی ہے کہ ایک ہی بندہ پانچ افراد کا کھانا لے جاتا ہے۔‘

کچہری بازار گول کلاتھ مارکیٹ میں پلے داری کا کام کرنے والے محمد ذکریا کا کہنا تھا کہ وہ لنچ باکس سروس کے آغاز سے بہت خوش ہیں۔

’ہم یہاں پر کام کرتے ہیں، گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ غریب عوام کے لیے یہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ 30 روپے لیتے ہیں، غریب آدمی پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتا ہے اور کھانا بھی ان کا بہت اچھا ہوتا ہے۔‘

مندر گلی کی ایک دکان پر کام کرنے والے عمر فاروق کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ یہاں سے کھانا لے کر جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’روزانہ نیا کھانا ہوتا ہے، کبھی چاول ہوتے ہیں، کبھی حلیم، کبھی نان چنے، روزانہ ہی اچھی چیز ہوتی ہے۔ یہ اچھا کام ہے غریبوں کے لیے، ان کا معیار اچھا ہے اور 50 روپے کی بچت بھی ہو جاتی ہے کیونکہ باہر سے ہم 80 روپے کا کھاتے ہیں۔‘

کھوکھا مارکیٹ میں پلے داری کا کام کرنے والے محمد عمران  نے بتایا: ’باہر سے کھائیں تو 100 روپے کا پڑتا ہے، یہاں سے 30 روپے میں مل جاتا ہے۔ مزدوری کرتے ہیں اس لیے یہاں سے کھاتے ہیں کہ چلیں بچت ہو جائے گی۔‘


  بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہماری ویب سائٹ پر کچھ لفظ درست طریقے سے دکھائی نہیں دے رہے۔ ہم اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  

ادارہ اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہے۔ 
 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا