قومی اسمبلی: مرحلہ وار 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کی منظوری

وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے آئندہ مالی سال میں مرحلہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں 50 روپے اضافے کی ایوان سے منظوری مانگی جو کہ منظور کر لی گئی۔

وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا 29 جون 2022 کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے  خطاب کر رہی ہیں (تصویر: سکرین گریب پی ٹی وی پارلیمنٹ)

پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے بدھ کو پیٹرولیم لیوی کی قیمت میں ایک سال کے دوران مرحلہ وار 50 روپے فی لیٹر کے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری قومی اسمبلی کے اجلاس میں فنانس بل 2022- 23 کی منظوری کی تحریک کے دوران دی گئی ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے آئندہ مالی سال میں مرحلہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں 50 روپے اضافے کی ایوان سے منظوری مانگی جو کہ منظور کر لی گئی۔

اس موقع پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت لیوی صفر ہے۔ 50 روپے فی لیٹر لیوی یکمشت عائد نہیں کی جائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگانے کا اختیار قومی اسمبلی نے حکومت کو دے رکھا ہے۔‘

قومی اسمبلی نے تاجروں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس وصول کرنے سے متعلق شق کی بھی منظوری دی۔‘

اس کے علاوہ  تنخواہ دار طبقے کا ریلیف ختم کرکے تنخواہ دار طبقے کے لیے  ٹیکس کی شرح کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

ماہانہ 50 ہزار روپے تک تنخواہ لینے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے جبکہ ماہانہ 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ تک تںخواہ لینے والوں پر 2.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیے جانے کی ترمیم بھی منظور کر لی گئی ہے۔

ماہانہ ایک سے دو لاکھ تنخواہ والوں پر 15 ہزار روپے فکس ٹیکس سالانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ اس سے زائد رقم پر اضافی رقم پر12.5  فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

ماہانہ دو سے تین لاکھ تنخواہ والوں پر ایک لاکھ 65 ہزار سالانہ جبکہ دو لاکھ سےاضافی رقم پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی بطھی منظوری دے دی گئی ہے۔

ماہانہ تین سے پانچ لاکھ روپے  تںخواہ لینے والوں پر چار لاکھ پانچ ہزار روپے سالانہ جبکہ تین لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 25 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ماہانہ پانچ سے 10 لاکھ روپے  تنخواہ والوں پر 10 لاکھ روپے سالانہ اور 5 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر32.5  فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کے لیے فننانس بجٹ کی شق کی منظوری دے دی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہانہ 10 لاکھ روپے سے زیادہ تںخواہ لینے والوں پر 29 لاکھ روپے سالانہ جبکہ 10 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 35 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

ایئر لائنز، آٹوموبائل، مشروبات، سیمنٹ، کیمیکل، سگریٹ، فرٹیلائزر، اسٹیل، ایل این جی ٹرمینل، آئل مارکیٹنگ، آئل ریفائننگ، فارماسوٹیکل، شوگر اور ٹیکسٹائل پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری بھی ایوان سے حاصل کر لی گئی ہے۔

بینکنگ سیکٹر پرمالی سال 2023 میں 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

فنانس بل 23 2022 میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز مزید مہنگے کر دیے گئے ہیں۔

موبائل فونز کی درآمد پر 100 روپے سے 16 ہزار روپے تک لیوی عائد کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

بجٹ میں 30 ڈالر کے موبائل فون پر 100 روپے لیوی عائد ہوگی، 200 ڈالر کے درآمدی موبائل فون پر 600 روپے لیوی عائد ہوگی۔

فننانس بجٹ میں 350 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 18 سو روپے لیوی عائد ہوگئی ہے، 500 ڈالر کے موبائل فون پر چار ہزار لیوی جبکہ بجٹ میں 701 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 16 ہزار روپے لیوی عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت