سیاست دانوں کو گدھے سے تشبیہ دینے پر درخواست دائر

کراچی کے ایک شہری نے گدھوں کو سیاست دانوں سے تشبیہ دینے کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے جس پر عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے جواب طلب کر لیا ہے۔

20 جنوری 2020 کو راولپنڈی میں مزدور گدھوں پر ریت اور مٹی لاد کر لے جا رہے ہیں ( اے یف پی/ فائل)

کراچی کے ایک شہری نے گدھوں کو سیاست دانوں سے تشبیہ دینے کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے جس پر عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے جواب طلب کر لیا ہے۔

کراچی کے ضلع جنوبی کی سیشن اور ڈسٹرکٹ عدالت میں 29 جون کو ایک مقامی وکیل بیریسٹر اختر حسین جبار کے خلاف گدھوں کے لیے ’غیراخلاقی‘ زبان استعمال کرنے پر درخواست دائر کی گئی ہے۔

درخواست ایڈوکیٹ سندھ ہائی کورٹ صابر بھٹی کے بیٹے سرور بھٹی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ 26 جون کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا جو سندھ کے شہر لاڑکانہ میں جاری ایک سیاسی مہم کے دوران بنایا گیا تھا۔ ’اس ویڈیو میں محنتی جانور گدھے کا نام غلط طریقے سے استعمال کیا گیا۔‘

’اختر حسین نامی شخص کی جانب سے فیس بک پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ سیاسیدان گدھے ہیں۔ جب کہ گدھا تو کافی محنت کرنے والا جانور ہے جو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ اس جانور کے خلاف ایسی زبان استعمال کی گئی جو کہ اس معاشرے کے اخلاقی دائرے سے باہر ہے۔‘

درخواست کنندہ کی جانب سے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل گلستان جوہر اور ایس ایس پی کمپلینٹ سیل میں اس کیس کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی گئی تھی لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا۔

فیس بک پر 26 جون کی شام بیریسٹر اختر حسین کے اکاؤنٹ سے ایک لائیو ویڈیو جاری کی گئی۔ اس ویڈیو میں ناصرف گدھے بلکہ بندروں اور کتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جب کہ کیس صرف گدھوں کے خلاف غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے پر کیا گیا۔

قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

اس کیس کے حوالے سے معاشرتی مسائل اور انسانی حقوق پر کام کرنے والی قانونی ماہر ایڈووکیٹ سندھ ہائی کورٹ ردا طاہر کا کہنا ہے کہ ’اس کیس کے ذریعے عدالت کا وقت ضائع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’پولیس نے اس کیس میں ایف آئی آر اس لیے درج نہیں کی کیوں کہ یہ کوئی مجرمانہ کیس نہیں ہے۔ ایک مجرمانہ کیس تب شروع ہوتا ہے جب کسی کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی جاتی ہے۔‘

’پولیس صرف cognisable offences یعنی قابل شناخت جرائم میں ہی ایف آئی آر درج کرتی ہے جس میں پولیس کسی وارنٹ کے بغیر ملزم کو گرفتار کرسکتی ہے۔ مگر پولیس non-cognisable offences یعنی ناقابل شناخت جرائم یا پھر nonserious offences چھوٹے جرائم میں ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ درخواست سی آر پی سی (کرنمل پروسیجر کوڈ) کے سیکشن 22 اے اور 22 بی کے تحت سیشن عدالت کے جسٹس آف پیس کو بھیجی گئی تھی۔ سیشن عدالت نے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کے ایس ایچ او اور ایڈٰیشنل ڈائریکٹر کو حکم دیا ہے کہ اس معاملے پر ایک تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں۔‘

’عدالت کا احترام کرتے ہوئے ایک وکیل کی حیثیت سے میرا یہ ماننا ہے کہ عدالت میں اس طرح کے کئی کیسز آتے ہیں مگر انہیں Frivolous Litigation یعنی غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کیس اتنا مضبوط نہیں ہے۔ مگر اکثر وکیل یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ان کے دلائل مضبوط نہیں ہیں پھر بھی عدالت میں ایسے کیس چلاتے ہیں جس سے اس کا وقت ضائع ہوتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان