محمد زبیر: بھارتی عدالت کا فیصلہ لیک ہونے پر تنازع

عدالت کے فیصلے سے قبل اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب جج کے حکم سنانے سے کم از کم تین گھنٹے قبل ایک سینیئر پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ محمد زبیر کی ضمانت مسترد کر دی گئی ہے اور ان کا دو ہفتے کا عدالتی ریمانڈ دیا گیا ہے۔

آلٹ نیوزکے شریک بانی محمد زبیر (سفید ٹوپی میں) پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں پٹیالہ کورٹ ہاؤس میں 2 جولائی 2022 کو پیش ہو رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی ترجمان کے متنازع بیان کی طرف عالمی توجہ مبذول کروانے والے بھارتی صحافی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی ہے جنہیں چند دن قبل دہلی پولیس نے کر لیا تھا۔

فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوزکے شریک بانی محمد زبیر کا ان کے 2018 کے ایک ٹویٹ میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں 14 دن کا عدالتی ریمانڈ دیا گیا ہے۔

عدالت کے فیصلے سے قبل اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب جج کے حکم سنانے سے کم از کم تین گھنٹے قبل ایک سینیئر پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ محمد زبیر کی ضمانت مسترد کر دی گئی ہے اور ان کا دو ہفتے کا عدالتی ریمانڈ دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کے پی ایس ملہوترا نے بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا جب زبیر کے وکیل نے پولیس پر عدالتی حکم ذرائع ابلاغ کو افشا کرنے کا الزام عائد کیا۔

ملہوترا کے  بقول: ’میں نے اپنے (تفتیشی افسر) کے ساتھ بات کی۔ شور کی وجہ سے مجھے غلط سنائی دیا اور غیر ارادی طور پر میرا بیان نشر ہو گیا۔‘

زبیر کے وکیل سوتک بینرجی نے اس لیک کو ’رسوا کن‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا: ’ہم نے دلائل دیے تھے اور حکم کا انتظار کر رہے تھے۔ جج نہیں بیٹھے تھے لیکن میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ ڈی سی پی، کے پی ایس ملہوترا نے میڈیا میں یہ بات لیک کی کہ ہماری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے اور 14 دن کی عدالتی تحویل دی گئی ہے۔‘

بینرجی نے ’معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ‘ لینے کا مطالبہ کیا اور کہا: ’یہ انتہائی گھٹیا ہے اور یہ آج ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی کی حالت بیان کرتا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے بیٹھنے اور حکم سنانے سے پہلے ہی پولیس نے  حکم کو میڈیا پر افشا کر دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کے پی ایس ملہوترا کو کیسے معلوم ہے کہ یہ حکم مجھ سے بالاتر ہے اور یہ معاملہ سنجیدگی سے جائزے کا تقاضہ کرتا ہے۔‘

اس سے پہلے دن میں خصوصی پبلک پراسیکیوٹر اتل سری واستو نے عدالت کو غیر ملکی فنڈ لینے سے متعلق زبیر کے خلاف تین نئے الزامات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے زبیر کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی۔ انہوں نے دلائل دیے کہ پولیس ان عطیات کی تحقیقات کر رہی ہے جو  زبیر کو مبینہ طور پر پاکستان اور شام سمیت دیگر ممالک سے موصول ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زبیر کو 27 جون کو ایک ٹوئٹر صارف کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ صارف نے شکایت کی کہ زیبر نے چار سال پہلے ایک طنزیہ ٹویٹ میں ہندوؤں کے دیوتا ہنومان کا مبینہ طور پر مذاق اڑایا تھا۔

[email protected] کے ٹوئٹر ہینڈل کے ساتھ گمنام اکاؤنٹ سے کی گئی شکایت میں 2018 کے ٹویٹ کو فلیگ کیا گیا تھا۔ شکایت میں 1983 کی فلم ’کسی سے نہ کہنا‘ کا سکرین گریب بھی شامل تھا۔ قبل ازیں ہندی زبان میں ہوٹل کے سائن بورڈ ’ہنی مون‘ کے الفاظ کو ہندو دیوتا ہنومان میں تبدیل کیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا ادارے ’دا وائر‘ کی ایک رپورٹ نے اب گمنام ٹویٹر ہینڈل کو وکاش اہیر کے ساتھ جوڑا ہے جو ہندو یووا وہینی کے ریاستی صدر اور بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے شریک کنوینر ہیں۔ یہ تنظیم مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا یوتھ ونگ ہے۔

زبیر کی گرفتاری صحافیوں اورسماجی کارکنوں کے شدید غم و غصے کا باعث بن گئی کیوں یہ بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع اور گستاخانہ بیان کو نمایاں کیے جانے کے چند دن بعد عمل میں آئی۔ نوپور شرما اب معطل ہیں۔

بھارت کو اسلامی ممالک اور امریکہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا جس پر بی جے پی کو معافی مانگنی اور شرما سے دوری اختیار کرنی پڑی۔

قبل ازیں زبیر کی وکیل ورندا گروور نے عدالت میں اس بنیاد پر ضمانت کی درخواست دائر کی کہ ان کے مؤکل کی مزید تفتیش کے لیے ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے زبیر کی جانب سے کہا کہ’میں کوئی دہشت گرد نہیں ہوں کہ انہیں میری موجودگی کی ضرورت ہو۔‘

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کسی پولیس سٹیٹ میں نہیں رہتے۔ ان کی طرف سے بادی النظر میں مقدمہ سامنے لانے کی صورت میں، اگر ایسا ہوتا ہے تو میں قانون کے سامنے سر جھکاؤں گا۔ لیکن اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہ کوئی پولیس سٹیٹ نہیں ہے۔‘

گروور کا استدلال کا تھا کہ اب پولیس ان کے مؤکل پر پیسے لینے کا الزام لگا رہی ہے صرف اس وجہ سے کہ ٹوئٹر سے متعلق اصلی تحقیقات ’بند گلی‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں (زبیر) بیان دے رہا ہوں: میں نے رقم نہیں لی بلکہ کمپنی (آلٹ نیوز) نے لی۔‘

’یہ کمپنی کا معاملہ ہے میری ذات کا نہیں۔ رقم میرے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوئی۔ میں واضح بیان دے رہا ہوں۔‘

عدالت کو بتایا گیا کہ زبیر کا فون کسی نامعلوم شخص نے چوری کیا اور پولیس کی جانب سے قبضے میں لیا گیا فون زیر بحث ٹویٹ  کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

وکیل کے بقول: ’کیا اپنا موبائل فون یا سم کارڈ تبدیل کرنا جرم ہے؟ کیا اپنے فون کو ری فارمیٹ کرنا جرم ہے؟ یا ہوشیار ہونا جرم ہے؟ ضابطہ فوجداری کے تحت ان میں سے کوئی بھی جرم نہیں ہے۔ اگر آپ کسی کو پسند نہیں کرتے ہیں تو یہ ٹھیک ہے لیکن آپ کسی پر چالاک ہونے کا الزام عائد نہیں کر سکتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹویٹ ایک فلم کی تصویر تھی اور ان کے مؤکل نے ایک لفظ نہیں کہا۔ ’میرے ٹویٹ میں کسی مذہب یا مذہبی گروہ کا حوالہ نہیں ہے۔ اس میں کسی بھی دیوتا کے حوالے سے اشتعال انگیز کوئی بات نہیں۔‘وکیل نے مطالبہ کیا کہ اگر پراسیکیوٹرز کو فلم سے کوئی مسئلہ ہے تو وہ سینسر بورڈ کے خلاف مقدمہ دائر کریں جس نے اسے سرٹیفکیٹ دیا۔

’اگر ہم کسی حس مزاح سے محروم ہو چکے ہوں تو اس صورت میں ضابطہ فوجداری بھی ہماری مدد نہیں کرے گا۔‘

اس کے جواب میں پراسیکیوٹر نے طنزیہ طور پر کہا کہ ’ایسی اور فلمیں بھی ہیں جن میں بہت سی بے ہودہ باتیں ہوتی ہیں۔ کیا ہم جو چاہیں اپ لوڈ کر سکتے ہیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اب بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی الزام ترک کر دیا جائے یا نیا شامل کر دیا جائے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا