قطر میں ملا برادر کا وزن چار کلو کم کیوں ہوا؟

دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان آج سے شروع ہونے والے مذاکرات منگل تک موخر کر دیے گئے ہیں لیکن طالبان کے اہم رہنما ملا عبدالغنی برادر کہتے ہیں کہ ملک کے بارے میں تشویش کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہوئی۔

طالبان تحریک کے بانیوں میں سے ایک ملا عبدالغنی برادر  ماسکو میں ایک کانفرنس میں شرکت کے دوران (اے ایف پی)

افغان طالبان تحریک آج کل خلیجی ملک قطر میں امریکہ کے ساتھ کسی امن معاہدے کی جستجو میں ہیں لیکن دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کہتے ہیں کہ قطر آنے کے بعد سے ’ملک اور اپنے لوگوں کی فکر‘ میں انہوں نے چار کلو وزن کھویا ہے۔

ایک افغان شیخ ایوب کو بھیجے گئے ایک صوتی (آڈیو) پیغام میں جو انڈپینڈنٹ اردو کو بھی ملا ہے، ملا برادر کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ آج کل اپنے ملک سے دور قطر میں مقیم ہیں لیکن ان کے دل و دماغ پر اپنے لوگوں کی حالت زار حاوی رہتی ہے۔

’ہمارا بھی دل قوم اور مجاہدین پر دکھتا ہے۔ وہاں ہمارے ملک کی، لوگوں کی کیا حالت زار ہے کبھی بھی نہ ہمارے ذہنوں سے نکلی ہے اور نہ نکلے گی۔ اکثر کسی جگہ کھانے پر بیٹھتے ہیں تو بھوک انہی خیالات کی وجہ سے مر جاتی ہے۔ جب سے دوحہ آئے ہیں ہر وقت یہی سوچ گھیرے رہتی ہے۔‘

اس پشتو زبان میں تقریبا ساڑھے چھ منٹ کی آڈیو میں ان کا مزید کہنا تھا ’جب سے یہاں آیا ہوں اس وقت میرا وزن 83 کلوگرام تھا جو اب چار کلوگرام کم ہوکر 79 کلو رہ گیا ہے۔‘

یہ پیغام دوحہ میں اتوار سے طالبان اور امریکہ کے درمیان چند روزہ وقفے کے بعد مذاکرات کے آغاز سے قبل سامنے آیا۔ مذاکرات کا نیا راونڈ اب اطلاعات ہیں کہ منگل تک موخر کر دیا گیا ہے۔ اگرچے کسی بڑے معاہدے کی امید کم ہے لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے تین ماہ میں کسی نتیجے پر پہنچنے کا خواہش مند ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ وہ افغانستان سے فوجیوں کا انخلا جلد چاہتے ہیں لیکن ان کی جگہ ایسا انٹیلجنس نظام چھوڑ کر جائیں گے جو ’طالبان کے ہارورڈ‘ کا مقابلہ کرسکے۔ ادھر طالبان اپنی عسکری کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور حالیہ افغان وزارت دفاع پر حملے میں چھ افراد ہلاک کر دیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملا عبدالغنی برادر نے یہ پیغام اپنے ساتھی شیخ ایوب کو ان کی شادی پر مبارک باد کے لیے بھیجا تھا لیکن اس میں انہوں نے کئی اہم مسائل پر بات کرتے ہوئے اس پیغام کو تحریک کے لوگوں تک پہنچانے کی بات بھی کی۔

یہ آڈیو پیغام انہوں نے بظاہر بعض حلقوں میں بڑھتے ہوئے اس تاثر کو رد کرنے کے لیے جاری کیا ہے کہ وہ اور ان کے دفتر کے دیگر اہلکار قطر میں بڑی ’پرآسائش‘ زندگیاں گزار رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’لوگوں کا تاثر یہ ہوگا کہ یہ لوگ وہاں گئے ہوئے ہیں اور ان کے حالات اچھے ہوں گے، حیثیت اچھی ہوگی، عزت ہوگی، لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں۔ عزت اپنے ملک میں ہے، حیثیت اپنے ملک میں ہے سب کچھ اپنے ملک میں ہے۔ وہاں خمیے میں بھی اپنے لوگوں کے ساتھ زندگی مزا دیتی ہے۔ اصل مزا وہیں ہے۔ دوسرے ملک میں بنگلے بھی ہو تو وہ حالت نہیں۔ یہاں ہم بہت عزت سے رہ رہے ہیں لوگ بہت احترام بھی کرتے ہیں لیکن بس مزا نہیں دیتا۔ سب (خوند) مزا وہاں ہے۔‘

طالبان تحریک کے بانیوں میں سے ایک ملا عبدالغنی برادر کا مزید کہنا تھا وہ قطر میں جس حیثیت سے بیٹھے ہیں اس میں انہیں اپنے ملک کی یاد زیادہ ستا رہی ہے۔ ’ملک کے حالات اور لوگوں کی صورتحال ہمارے دل و دماغ پر ہر وقت چھائی ہوتی ہے۔‘

یہ واضح نہیں کہ ان کے جسمانی وزن میں کمی کی وجہ واقعی ملک کی فکر ہے یا قطر کی مختلف آب و ہوا اور خوارک۔  

اپنے پیغام کے اختتام پر ملا برادر نے طالبان عسکریت پسندوں کے لیے ایک پیغام دیا کہ ’وہ آپس میں اتفاق اور احترام کا رشتہ رکھیں۔ ایک دوسرے سے متعلق کوئی بات نہ کریں۔ جو مشر (سینیئر) بات کرتے ہیں ان کی بات تسلیم کریں اور اپنے بس کے مطابق اس پر عمل درآمد کریں۔‘

افغان طالبان نے قطر میں سیاسی دفتر کھولنے کا سب سے پہلے فیصلہ 2013 میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیا تھا۔ افغانستان کی جانب سے شدید اعتراض کے بعد یہ دفتر فورا بند کرنا پڑا لیکن اکثر سینیئر طالبان رہنما وہیں قطری امیر کے ’مہمان خصوصی‘ کے طور پر مقیم رہے۔ ملا برادر بھی گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کی قید میں آٹھ برس گزارنے کے بعد رہا ہوئے تھے اور جنوری میں قطر چلے گئے۔

انہوں نے اس سال مارچ میں بھی ایک آڈیو پیغام میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں امید کا اظہار کیا تھا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان رہنماؤں کو ناصرف امیر قطر کی جانب سے مبینہ طور پر ماہانہ اخراجات ملتے ہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کو دو، دو لینڈ کروزر گاڑیاں اور ڈرائیور بھی مہیا کیے گئے ہیں۔

ایک سابق طالبان کارکن کے مطابق موجودہ وقت میں 35 طالبان اور ان کے اہل خانہ دوحہ میں مقیم ہیں۔ ان پانچ طالبان رہنماؤں کے علاوہ جن کی امریکی قید خانے گوانتناموبے سے رہائی ہوئی تھی، باقی اکثر کے اہل خانہ بھی قطر میں ان کے ساتھ مقیم ہیں۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق انہیں قطر میں رہنے پر مجبور کرکے قطر نے امریکہ کے لیے آسانی پیدا کی ہے کہ اب وہ ان سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔

قطر میں مقیم بعض افغانوں کو طالبان کا یہ طرز زندگی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ان کا اعتراض ہے کہ انہیں اس عرب ملک میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کافی محنت کرنی پڑی تھی لیکن ان کو یہ آسائشیں باآسانی ملی ہیں۔

افغان طالبان نے اس سال جنوری میں ملا برادر کی پاکستان سے رہائی کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ تنظیم کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزاد کے سیاسی امور کے لیے نائب ہوں گے۔ اس کے علاوہ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کی قیادت بھی انھیں سونپی گئی تھی۔

اکثر طالبان رہنماؤں کی طرح ملا بردار بھی سیدھے سادھے سے انسان ہیں۔ گذشتہ دنوں ماسکو میں ایک کانفرنس میں جب روسی وزیر خارجہ کمرے میں داخل ہوئے تو دیگر مہمانوں کے برعکس ملا برادر اپنے نشست پر بیٹھے رہے جسے ان کی سفارتی ادب آداب سے ناواقفیت قرار دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا