یورو کپ ویمنز کے سیمی فائنل میں کون کامیاب ہو گا؟

انگلینڈ کے پاس یورپی چیمپئن شپ کی فاتح ڈچ کوچ سرینا ویگ مین ہیں جنہوں نے پانچ سال قبل نیدرلینڈز کی سرزمین پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

23 جولائی 2022 کی اس تصویر میں فرانس اور نیدرلینڈز کی فٹ بال کھلاڑی یورو 2022 کے کوارٹر فائنل کے دوران بال حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں(اےا یف پی)

ویمنز یورو کپ 2022 کے سیمی فائنلز میں انگلینڈ کا مقابلہ سویڈن سے ہوگا اور جرمنی کی ٹیم اگلے اتوار کو ویمبلے میں فائنل میں جگہ کے بنانے کے لیے فرانس سے ٹکرائے گی۔

کوارٹر فائنل میں انگلینڈ اپنی ہی سرزمین پر اس ایونٹ سے باہر ہو جاتا لیکن میچ ختم ہونے سے چھ منٹ پہلے ایلا ٹون کے گول میچ برابر کر دیا اور سپین کے خلاف اس اعصاب شکن میں جارجیا سٹین وے کی شاندار سٹرائیک نے پھر میزبان ٹیم کو لگاتار چوتھی بار اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچا دیا۔

انگلینڈ گذشتہ تینوں سیمی فائنلز ہار گیا تھا لیکن اس بات پر یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ 1966 کے بعد سے مردوں یا خواتین کے پہلا بڑا ٹائٹل جتنے کے لیے بے چین قوم کے لیے یہ وقت مختلف ہو سکتا ہے۔

شیفیلڈ یونائیٹڈ کے برامل لین سٹیڈیم میں منگل کو ہونے والے سیمی فائنل کے لیے ہوم ٹیم کو تقریباً 30 تماشائیوں کی حمایت حاصل ہو گی۔

انگلینڈ کے پاس یورپی چیمپئن شپ کی فاتح ڈچ کوچ سرینا ویگ مین ہیں جنہوں نے پانچ سال قبل نیدرلینڈز کی سرزمین پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

سرینا ویگ مین نے یورو کپ میں بطور کوچ دو مختلف ممالک کے ساتھ 10 میں سے 10 گیمز جیتے ہیں اور اس کی کھیل کو تبدیل کرنے کی صلاحیت بہت اہم ہے جس کا مظاہرہ بدھ کو کھیلے گئے سپین کے خلاف میچ میں بھی کیا گیا تھا۔

یورو 2022 میں پہلی بار میزبان انگینڈ اب فیفا رینکنگ میں اپنے سے اوپر کی ٹیم کے خلاف کھیلے گی۔

سویڈن کو لگتا ہے کہ تین سال قبل ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور گزشتہ موسم گرما میں اولمپک فائنل میں پہنچنے کے بعد یہ ان کا وقت ہے۔

تاہم سویڈش مینیجر پیٹر گیرہارڈسن کی خواتین ابھی تک انگلینڈ میں ٹاپ فارم حاصل نہیں کر پائی ہیں۔ کوارٹر فائنل میں سویڈن کی جانب سے آخری لمحات میں گول نے بیلجیئم کو ایک صفر سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن مارچ 2020 میں کینیڈا سے شکست واحد موقع تھا جب سویڈن کسی بھی ٹیم سے ہارا تھا۔ عالمی چیمپئن امریکہ کے خلاف بھی وہ ایک میچ میں فتح اور دوسرے کو ڈرا کر چکے ہیں۔

سویڈش مینیجرگیرہارڈسن نے کہا ہے کہ ’ہمارے پاس ایک منصوبہ ہوگا کیوں کہ ہمیں ایک اچھے میچ پلان کی ضرورت ہوگی۔‘

ان کے بقول ’ہم نے انگلینڈ کے تمام کھیل دیکھے ہیں اور وہ مڈفیلڈ میں بہت تیز رفتار اور ہنر مند کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ یہ ایک دلچسپ چیلنج ہونے والا ہے۔‘

جرمنی کا دعویٰ ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں اب تک کی سب سے زیادہ مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم ہے۔

جرمنی نے اپنی چاروں گیمز بغیر کسی گول کے جیت لیے ہیں لیکن آسٹریا کے خلاف کوارٹر فائنل میں دو صفر سے فتح کے باوجود جرمن دفاع میں کچھ دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

لیس بلیوز کو کوارٹر فائنل میں نیدرلینڈز کو ایک صفر سے شکست دینے کے لیے اضافی وقت کی ضرورت تھی لیکن دفاعی چیمپئنز پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد انہیں اس سے کہیں زیادہ واضح فاتح ہونا چاہیے تھا۔

ادھر فرانس کی خواتین ٹیم نے یورو کپ پہلے سیمی فائنل میں پہنچ کر تاریخ رقم کر دی ہے لیکن وہ اضافی 30 منٹ سے پہلے ڈچ ٹیم کو نہ ہرانے پر افسوس کا اظہار ہی کر سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال