بلوچستان کا کوئی والی وارث ہے؟

بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ جو سطح سمندر سے پونے سترہ سو میٹر بلندی پر واقع ہے میں گرمی میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کوئٹہ ہی میں زیر زمین پانی کی سطح سو یا دو سو فٹ سے گر کر آٹھ سو فٹ پر چلی گئی ہے۔

28 اگست 2010 کی اس تصویر میں بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے علاقے ڈیرہ اللہ کے ایک رہائشی کو سیلابی پانی میں گھرے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جب سیاسی جماعتیں اپنے اپنے پنجاب اسمبلی کے اراکین کا پہرہ دے رہی تھیں، جب جوڑ توڑ ہو رہی تھی کہ پنجاب کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہو گا، جب سپریم کورٹ پر بھرپور انداز میں تنقید اس لیے کی جا رہی تھی کہ فل کورٹ بینچ نہیں بنایا، جب سیاسی جماعت کی ایک کال پر احتجاج یا تشکر کے لیے لاہور، اسلام آباد، کراچی اور دیگر شہروں میں لوگ جمع ہو رہے تھے تو صوبہ بلوچستان میں مون سون نے تباہی مچائی ہوئی تھی۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں اب تک مون سون کی تباہ کاریوں میں ایک سو سے زیادہ افراد اپنی جان کھو بیٹھے ہیں۔ جان سے جانے والے ایک سو دو افراد میں نصف تعداد عورتوں اور بچوں کی ہیں۔ اس کے علاوہ مالی نقصان جو ہوا سو ہوا۔ سڑکیں بہہ گئیں اور بلوچستان کا کراچی سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ ایسے میں صوبائی حکومت نے کیا کیا۔ وہی کیا جو ہمارے ملک میں حکومتوں کو کرنا آتا ہے۔ ورثا کو معاوضہ دینے کا اعلان کر دیا گیا۔

گذشتہ کئی سالوں سے ماحولیات کے لیے کام کرنے والوں نے بلوچستان میں مشاہدہ کیا کہ موسم میں غیر معمولی تبدیلی ہو رہی ہے۔ اگر درجہ حرارت بہت بڑھ گیا ہے تو بارشوں کے موسم کے علاوہ بھی بارشیں ہو رہی ہیں۔ گذشتہ پانچ چھ سالوں سے بلوچستان میں موسمی تبدیلی واضح دکھائی دے رہی ہے۔  

بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ جو سطح سمندر سے پونے سترہ سو میٹر بلندی پر واقع ہے میں گرمی میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کوئٹہ ہی میں زیر زمین پانی کی سطح سو یا دو سو فٹ سے گر کر آٹھ سو فٹ پر چلی گئی ہے۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم آئی یو سی این کے مطابق کوئٹہ میں درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور اتنی گرمی پانچ یا چھ دہائیوں قبل کبھی کسی نے سوچی بھی نہ تھی کہ اس شہر میں اتنی گرمی ہو گی۔

 گرمی کے علاوہ اچانک موسلا دھار بارش کا ہونا بھی غیر معمولی ہے۔ کوئٹہ میں مون سون سیزن میں تین سے چار بار بارشیں ہوتی تھیں لیکن گذشتہ کئی سالوں سے موسم تبدیلی ہو گیا ہے۔ یا تو غیر متوقع اتنی بارش ہوتی ہے کہ اربن فلڈنگ ہو جاتی ہے یا پھر پانچ پانچ ماہ تک بارش ہی نہیں ہوتی۔

ایک جانب بارش ہے تو دوسری جانب خشک سالی جس کے باعث بلوچستان میں زراعت کے لیے پانی کے قدیمی نظام کاریز بھی آہستہ آہستہ خشک ہوتا جا رہا ہے۔

 کوئٹہ اور مستونگ میں سینکڑوں کاریز تھیں جن میں سے زیادہ تر خشک ہو گئی ہیں۔ مستونگ میں 250 میں سے اب چند ہی کاریز بچی ہیں۔ لوگوں نے پانی کے لیے ٹیوب ویلز لگا لیے ہیں جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح کافی کم ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمنٹ چینج (آئی پی سی سی) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسمی تبدیلی کے باعث سیلاب اور خشک سالی میں اضافہ اور اس کے ساتھ گرمی میں اضافے سے خوراک کی فراہمی میں کمی اور قیمتوں اضافہ ہو گا اور اس وجہ سے جنوبی اور جنوب مشرق ایشیا میں انڈر نرشمنٹ میں اضافہ ہو گا۔

آئی پی سی سی کے مطابق گلوبل وارمنگ اتنی تیزی سے ہو رہی ہے کہ ہم ایک اعشاریہ پانچ ڈگری کے درجہ حرارت میں اضافے کی حد کو 2030 تک عبور کر جائیں گے۔

موسمی تبدیلی نے موسم کو کتنا تبدیل کیا ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2020 میں ژوب کا درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تھا لیکن گذشتہ سال یہاں درجہ حرارت بڑھ کر 43 ڈگری تک چلا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج کل کے شدید موسمی واقعات کو دیکھیں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ موسمی تبدیلی کے باعث دنیا میں تبدیلی آ رہی ہے اور اس کا اثر مستقبل میں کیا ہو گا۔

موسمی تبدیلی کے حوالے سے عالمی ماہرین پہلے ہی بتا چکے ہیں اور موسمی تبدیلی کے باعث پاکستان میں درجہ حرارت بڑھتے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سیلاب، قحط اور آگ لگنے جیسی آفات میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک کی مشترکہ رپورٹ ’کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں درجہ حرارت بڑھنے کا خدشہ زیادہ ہے اور اس اضافے کے نتیجے میں معاشی اور سماجی نقصانات اٹھانے ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں اوسط درجہ حرارت میں عالمی اوسط سے کہیں زیادہ اضافہ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور ملک میں 2090 تک درجہ حرارت میں 1.3 سے 4.9 سیلسیئس تک بڑھ سکتا ہے۔‘

بیسویں صدی میں پاکستان کے درجہ حرارت میں 0.57 سیلسیئس کا اضافہ ہوا جو کہ جنوبی ایشیا میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کم تھا جہاں پر 0.75 سلیسیئس کا اضافہ ہوا۔ لیکن 1961 اور 2007 کے درمیان درجہ حرارت میں اضافہ تیزی سے ہوا اور اس عرصے میں 0.47 سیلسیئس کا اضافہ ہوا۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرمی میں اضافہ موسم سرما اور مون سون کے بعد کے مہینوں میں زیادہ ہوا ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں موسم سرما کے درجہ حرارت میں 0.91 سے 1.12 سیلسیئس کا اضافہ ہوا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں 0.52 سیلسیئس کا اضافہ ہوا۔

’کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ افات کا سامنا ہے اور اسی لیے 191 ممالک میں سے رسک کے حساب سے پاکستان 18ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کو سیلابوں کا بھی سامنا ہے اور سیلابوں کے حوالے سے اس کا نمبر آٹھواں ہے، خشک سالی میں پاکستان کا نمبر 43 واں ہے۔

سیاسی دنگل تو چلتا رہا ہے، چل رہا ہے اور چلتا رہے گا لیکن بلوچستان کا کوئی پرسان حال ہے بھی یا نہیں۔ یوم تشکر یا احتجاج کے لیے کال دینے والے اگر اس پر بھی کال دے دیں کہ بلوچستان کی عوام کی مدد کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ جوق در جوق رضاکار بلوچستان کا رخ کریں گے۔

 اگر سیاسی دنگل سے تھوڑا وقت نکال لیا جائے اور بلوچستان کا دورہ کر لیا جائے تو کیا ہی بات ہے۔

لیکن یہ عارضی طور پر بلوچستان کی عوام کی مدد ہو گی۔ مستقل مدد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت موسمی تبدیلی اور اس کے نتائج کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے اور ایسے اقدامات کرے جس سے ماحول اور انسان دونوں ہی کو محفوظ رکھا جائے۔ 

تازہ رپورٹوں سے صاف ظاہر ہے کہ موسمی تبدیلی سے روزگار اور صحت دونوں ہی پر اثر پڑے گا۔ اس وقت بھی 39 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت میں مبتلا ہے اور موسمی تبدیلی کے باعث روزگار جانے سے ان کی زندگی اور صحت پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات