بلوچستان: بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ہلاکتوں کی تعداد 57 ہوگئی

مشیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو کے مطابق: ’اب تک چھتیں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے 57 افراد جان سے جا چکے ہیں۔‘

کوئٹہ میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بعد تباہی کے مناظر (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

صوبہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں کاسلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ قلات، خضدار، آواران، تربت، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، لسبیلہ، کوژک ٹاپ، چمن اور کوہلوسمیت دیگراضلاع میں بارشیں ہوئی ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے (پی ڈی ایم اے) پاکستان فوج اور ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر ادارے متاثرہ اضلاع میں ریلیف اور ریسکیوآپریشن میں مصروف ہیں۔

لورالائی کے نواحی علاقے میں قائم ڈیم ٹوٹ گیا ہے۔ لسبیلہ میں سیلابی ریلے میں 37 کسانوں کے پھنس جانے کی اطلاح پر لسبیلہ انتظامیہ اور ایف سی کا مشترکہ ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ افتخار بگٹی کے مطابق اوتھل کے دیہی علاقے سالاری میں پھنسے37 افراد ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب پی ڈی ایم اے حکام کی رپورٹ کے مطابق  گذشتہ رات چمن کے قریب کوژک ٹاپ پر شدید بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ کوئٹہ چمن شاہراہ کو بھی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ پری مون اور مون سون کے دوران اب تک متاثرہ اضلاع میں 4 ہزار 165 خیمے پہنچا دیے گئے ہیں۔

متاثرہ اضلاع میں امداد کے لیے 25 سو کمبل، 743 سولر لائٹس، 34 سو سے زیادہ افراد کے لیے خوراک سمیت دیگرامدادی سامان بھی پہنچادیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کل تک بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

مشیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو کے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے بیان میں میں کہا گیا ہے کہ ’اب تک چھتیں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے 57 افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کو فی کس پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان