بے قابو چینی راکٹ کے بحر ہند میں گرنے پر ناسا کی شدید تنقید

چینی راکٹ واپس زمین پر آتے ہوئے ایسٹرن ٹائم زون کے مطابق ہفتے کو دن 12 بجکر 45 منٹ پر ملائیشیا کے قریب بحر ہند کے اوپر جل کر تباہ ہو گیا تھا۔

21 ٹن وزنی لانگ مارچ بی فائیو بوسٹر 24 جولائی 2022 کو چین کے تیان گونگ خلائی سٹیشن پر ایک نیا ماڈیول پہنچانے کے لیے لانچ کیا گیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ہفتے کو بحر ہند کے اوپر چین کے بے قابو راکٹ کے گرنے کے واقعے پر تنقید کی ہے۔

بے قابو چینی راکٹ ’لانگ مارچ‘ کا مرکزی حصہ ہفتے کے روز بحر ہند کے اوپر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

21 ٹن وزنی لانگ مارچ بی فائیو بوسٹر 24 جولائی کو چین کے تیان گونگ خلائی سٹیشن پر ایک نیا ماڈیول پہنچانے کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔ لیکن دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ بوسٹر کے برعکس جو کہ سپیس ایکس فالکن 9 کی طرح تیزی سے نیچے آسکتے ہیں، لانگ مارچ راکٹ کو اس وقت تک کنٹرول کے بغیر چھوڑ دیا گیا جب تک کہ یہ اپنے مدار سے قدرتی طور نیچے آئے اور واپس زمین پر گر جائے۔

امریکی سیپس کمان کے مطابق چینی راکٹ واپس زمین پر آتے ہوئے ایسٹرن ٹائم زون کے مطابق دن 12 بجکر 45 منٹ پر ملائیشیا کے قریب بحر ہند کے اوپر جل کر تباہ ہو گیا۔

ہفتے کو متعدد ٹوئٹر اکاؤنٹس نے ملائیشیا کے آسمان پر راکٹ ٹوٹنے کی ویڈیو شیئر کرنا شروع کیں لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ آیا ویڈیو میں واقعی راکٹ کی باقیات دکھائی دے رہی تھیں یا یہ کچھ اور تھا۔

اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق بڑے راکٹ بوسٹر اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ وہ عام طور پر زمین پر گرنے کے عمل کے دوران مکمل طور پر جل کر تباہ نہیں ہو پاتے اور ان کا 40 فیصد سے زیادہ ملبہ زمین تک پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر حرارت سے بچنے والے آلات جیسے ٹینک اور انجن کے پرزے۔ یہ ملبہ زمین پر انسانی جانوں اور املاک کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ہفتے کو دوپہر دو بجے کے فوراً بعد ناسا کے منتظم بل نیلسن نے ای میل اور ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا جس میں چین کو اس کے راکٹ کے دوبارہ زمین کی جانب گرنے کے متوقع راستے کے بارے میں بہتر معلومات فراہم نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیلسن نے اپنے بیان میں کہا: ’تمام خلائی سفر کرنے والی اقوام کو پہلے سے متعین بہترین طریقوں پر عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کی معلومات کو پیشگی شیئر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ممکنہ ملبہ گرنے کے اثرات کے خطرے کی قابل اعتماد پیشگوئیاں کی جا سکیں خاص طور پر لانگ مارچ بی فائیو کی طرح ہیوی لفٹ خلائی گاڑیوں کے لیے، جو انسانوں کی جان و مال کے لیے ایک اہم خطرہ ہو سکتی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا کرنا خلا کے ذمہ دارانہ استعمال اور یہاں زمین پر لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔‘

یہ تیسرا موقع ہے جب چین نے کسی راکٹ کو زمین کی فضا میں بے قابو داخل ہونے کی اجازت دی ہو۔

اس سے قبل مئی 2021 میں بھی چینی خلائی سٹیشن کا کچھ حصہ لے جانے والے ایک اور راکٹ کو تقریباً ایک ہفتے بعد بحر ہند پر ٹوٹنے سے پہلے ہر 90 منٹ میں ایک بار زمین کے گرد چکر لگانے کے لیے بے قابو چھوڑ دیا گیا تھا۔ 2020 میں ایک اور لانگ مارچ راکٹ نیویارک شہر سے ٹکرانے سے صرف 13 منٹ کے فاصلے پر بحر اوقیانوس میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی