ریچل کوری سے شیریں ابو عاقلہ اور امریکی بلڈوزرز سے برطانوی ڈرونز تک

یورپ اور امریکہ میں فلسطینیوں کے ہر احتجاج کی قیادت عملاً ریچل کوری اور شیریں ابو عاقلہ کی روحیں کر رہی ہیں کہ ان دونوں امریکی خواتین نے ڈیموکریٹس سے بڑھ کر ڈیموکریٹ ہونے کا ثبوت دیا۔

شیریں ابو عاقلہ (دائیں) اور ریچل کوری (بائیں)۔ (اے ایف پی)

یہ تحریر کام نگار کی آواز میں سننے کے لیے کلک کیجیے

 

ریچل کوری ایک 23 سالہ امریکی طالبہ تھی جسے اس کے انسانی جذبے، انسانیت کی خاطر تڑپ اور انسانی حقوق کے لیے قربانی نے امر کر دیا۔

اس نے اسرائیلی فوج کے ظلم وجبر کے شکار فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھانے کے لیے امریکہ سے فلسطینی شہر غزہ تک کا سفر کیا۔

کوری کو اسرائیلی فوج کی ان کارروائیوں سے نفرت تھی جو اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے گھروں اور املاک کی مسماری ہی نہیں، کھیتوں اور کھیلیانوں کی تباہی کے لیے امریکی کیٹر پلرز نامی کمپنی کے بلڈوزرز استعمال کر کے کرتی تھی اور اب بھی کر رہی ہے۔

قابض اسرائیلی فوج نے تعمیر وترقی کے لیے بنائے گئے ان بلڈوزورں کو انسانی تباہی کا تباہ کن ہتھیار بنا لیا ہے۔

کوری انسانی حقوق کے ایک گروپ سے امریکہ میں رہتے ہوئے وابستہ ہوئیں تو اس بہادر طالبہ نے اپنے لیے جدوجہد کا میدان فلسطین کو بنانا قبول کر لیا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب امریکی افواج انسانی وعوامی تباہی کے ہتھیاروں کے خلاف کیل کانٹے سے لیس ہو رہی تھی کہ علاج بالمثل کی طرح عوامی تباہی کے ان مفروضہ ہتھیاروں کا توڑ ان سے بھی بدترین اور جدید ترین ہتھیاروں سے کرنے کی تیاری سے گزر رہی تھی۔

اس غرض کے لیے امریکہ اپنے اہم ترین اتحادی برطانیہ و دیگر مغربی ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر جنگ کرنا چاہتا تھا۔ آج دیکھا جائے تو ریچل کوری اور امریکی انتظامیہ کے خیالات میں زمین اور آسمان کی طرح فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔

کوری انسانی بستیوں کو تباہ کرنے والوں کے خلاف اپنی آواز بلند کر کے نہ صرف کمربستہ تھی بلکہ اسی کے لیے اپنی آخری چیخ بھی بلند کرنے کے لیے حاضر تھی۔

اس کے اسی جرم کی بنا پر 16 مارچ ، 2003 کو اسرائیلی فوج کے زیر استعمال بلڈوزر کے فوجی ڈرائیور نے اسے اس وقت جان بوجھ کر کچل ڈالا جب وہ اسی بلڈوزر اور اس جیسے درجنوں بلڈوزروں سے فلسطینی عوام کے گھروں کی مسماری اور اور تباہی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہی تھی۔

اسرائیلی فوج کے بلڈوزر سوار ڈرائیور نے نہ صرف اپنے سامنے کھڑی ریچل کوری کو اس ’جسارت‘ پر کچل ڈالا بلکہ اس کو اپنے آہنی قدموں تلے روندنے کے بعد ریورس گئیر میں آ کر پھر سے اس بہادر امریکی بیٹی کی رہی سہی ہڈی پسلی کو بھی پیس ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

ایک طرف ریچل کوری تھی جو غیر جنگی اور غیر فوجی حالات یا مشینری کو جنگی ہتھیاروں کے طور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کرنے کے بعد قربان ہو گئی تھی۔ 

بعد ازاں قاتل اسرائیلی فوجی کے اس دعوے کو اسرائیلی عدالت نے سچ مان لیا کہ اس نے کوری کو دیکھا تھا نہ اس کی بلڈوزر کے نیچے کچلے جانے کے دوران کی چیخیں سنی تھیں۔

اگرچہ ریچل کوری بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہونے کے لیے نارنجی رنگ کے جیکٹ نما اپر زیب تن ہی اس لیے کر کے آئی تھی تاکہ امریکی ساختہ بلڈوزر کے اسرائیلی ڈرائیور کو دور سے نظر آ جائے کہ وہ کوئی اور نہیں انسانی حقوق کے کیے کام کرنے والی امریکی طالبہ ہے۔

 ہاتھ میں میگا فون پکڑ کر مسلسل چیخ پکار بھی اسی لیے کر رہی تھی کہ بلڈوزر چلانے والے اسرائیلی فوجی کو متوجہ کرے اور فلسطینیوں کے گھر مسمار کرنے سے روک سکے۔

مگر اسرائیلی عدالت نے 28 اگست 2012 کو اپنے اس قاتل فوجی کو بے گناہ قرار دے دیا۔ اس سے قبل اسرائیل کی نام نہاد فوجی تحقیقات میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ فوجی کی نیت ریچل کوری کو قتل کرنے کی ہرگز نہیں تھی۔

19 برس بعد امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک اور امریکی شہری اور صحافی خاتون شیریں ابو عاقلہ کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ’شہادت‘ پر بعینہ یہی موقف اختیار کیا ہے۔ آج سے 19 سال پہلے اسرائیلی فوج کے موقف اور اب شیریں ابو عاقلہ کے قتل کے حوالے سے امریکی موقف میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔

ریچل کوری کی فلسطینی عوام کے حق میں اس آواز اور قربانی کو اقوام متحدہ کی جانب سے قبول کر لیا گیا ہے اور جون 2003 کو ہی امریکی بلڈوزر بنانے والی کمپنی کو اپنے بلڈوزر اسرائیل کو فروخت کرنے سے روک دیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے عہدیدار نے اپنے ایک خط میں امریکی کمپنی کو لکھا کہ اس کے بلڈوزر اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے گھر اور کھیت کھلیان مسمار کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

ریچل کوری پر بعد ازاں دنیا کے آزادی پسندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بہت ساری دستاویز فلمیں بنائیں، اس کی قربانی اور جذبے کو سراہا گیا۔ آئر لینڈ نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے کئی سال بعد ایک جہاز بھیجا تو اس کا نام ریچل کوری رکھ دیا۔

شیریں ابو عاقلہ بھی امریکی شہری ہونے کے باوجود فلسطینیوں کے لیے ریچل کوری کی طرح ایک ہیرو کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ بھی فلسطینیوں پر چلتی گولیوں کے درمیان آ کر اپنے الجزیرہ ٹی وی کے لیے کوریج کر رہی تھیں۔

ریچل کوری کی قربانی سے فلسطینیوں کے گھر مسمار ہونا تو نہ رک سکے کہ 2004 سے 2022 تک اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے 2000 سے زائد گھر مسمار کر دیے ہیں۔ بس ایک تبدیلی ہے کہ پہلے صرف امریکی ساختہ بلڈوز کو اسرائیلی فوجی فلسطینیوں کے گھر تباہ کرنے، کھیت کھلیان اجاڑنے یا املاک گرانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

البتہ ایک تبدیلی یہ سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اب برطانوی فیکٹریوں میں تیار ہونے والے ڈرون بھی اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

مطلب یہ کہ فلسطینی عوام کے گھروں کی مسماری میں اسرائیل کو پہلے بالواسطہ امریکی سہولت کاری میسر تھی تو اب برطانوی سہولت کاری بھی حاصل ہو گئی ہے۔

اسی وجہ سے فلسطینیوں نے بھی اب اپنے احتجاج کے دائرے کو فلسطین اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں رہنے دیا ہے۔ بلکہ فلسطینی شہریوں کے احتجاجی مظاہرے اب امریکہ ویورپ میں بھی دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلسطینیوں نے گذشتہ سال برطانوی شہر لیسٹر میں اس فیکٹری کے باہر بھرپور احتجاج کیا جس میں ڈرون طیاروں کے پرزے بن کر اسرائیل کو فروخت کیے جاتے ہیں۔ یہ فلسطینی شہری اس برطانوی فیکٹری کی چھت پر بھی چڑھ گئے اور عالمی برادری کو باور کراتے رہے کہ اسرائیل کو ہماری موت اور تباہی کا سامان فروخت کرنا بند کیا جائے۔

فلسطینیوں کے احتجاج کا یہ سلسلہ جولائی 2005 شروع ہوا اس میں اب مغربی ممالک اور امریکہ تک میں وسعت آ رہی ہے۔ ’بی ڈی ایس‘ نامی مہم کے تحت اسرائیلی مصنوعات کے خلاف یورپ اور امریکہ میں پہلے ہی مہم سالہاسال سے جاری ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔

فلسطینیوں کی اس کوشش اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی وجہ سے کئی یورپی ملکوں نے اسرائیلی ساختہ کے طور ان اشیاء کو خریدنا روک بھی دیا ہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی جاتی ہیں مگر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان پر اسرائیلی ساختہ لکھ دیتا ہے۔

اس پر انسانی حقوق کے حامی یورپی ممالک اور حکومتیں ہی نہیں انسانیت اور انسانی حقوق پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی سٹینڈ لینا شروع کر دیا ہے۔

عرب دنیا میں بھی ایک عرصے تک اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی آواز موثر رہی ہے، مگر اب حکومتوں کی سطح پر تبدیلی کے آثار ہیں۔ اس کے باوجود فلسطینی اور عالم اسلام کے ہر ملک سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہی نہیں ریچل کوری اور شیریں ابو عاقلہ کے راستے کے راہی اسرائیلی ظلم و جبر کو بے نقاب بھی کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بھی بلند کر رہے ہیں۔

یورپ اور امریکہ میں فلسطینیوں کے ہر احتجاج کی قیادت عملاً ریچل کوری اور شیریں ابو عاقلہ کی روحیں کر رہی ہیں کہ ان دونوں امریکی خواتین نے ڈیموکریٹس سے بڑھ کر ڈیموکریٹ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

وہ امریکیوں اور فلسطینیوں دونوں کی ہیرو ہیں۔ جب جب یورپی ممالک اور امریکہ میں فلسطینی یا انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاج کے لیے نکلیں گی، ریچل کوری اور شیریں ابو عاقلہ کی آوازیں بھی بلند ہوتی رہیں گی۔

امریکی ساختہ بلڈوزروں یا برطانوی ساختہ ڈرونز کو فلسطینی عوام کے خلاف استعمال کی مذمت بھی ہوتی رہے گی۔ یقیناً یہ دونوں ملک اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے جون 2003 کے کیٹر پلرز کے لیے خط کو سامنے رکھ کر اپنی اسرائیلی نوازی میں کمی کریں گے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جن سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ