جنوبی پنجاب: سیلاب کسی کے بچے تو کسی کا جہیز بہا لے گیا

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ہر سال رود کوہیوں سے ان جڑواں اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں سیلاب آتا ہے مگر اس سال زیادہ بارشوں سے بڑے پیمانے پر سیلاب آیا۔

جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں مون سون بارشوں کے باعث سیلابی ریلے کہیں کسی کے بچے بہا لے گئے تو کہیں کھڑی فصلیں۔ متاثرین اب کھلے آسمان تلے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل فیصل فرید کے مطابق ان اضلاع میں دو بچیوں سمیت آٹھ افراد پانی کے ریلے میں بہہ گئے، جبکہ اب تک 23 افراد ہلاک اور اڑھائی لاکھ ایکڑ تک کھڑی فصلیں زیر آب آئیں جس سے لوگوں کا کروڑوں کا نقصان ہوا۔

ضلع راجن پور میں کوہ سلیمان کی رود کوہیوں سے سیلابی ریلا آیا اور محمد پور گم والا کے رہاشی محمد دین کا گھر بہا کر لے گیا جہاں انہوں دو سالوں سے بچوں کی شادی کے لیے سامان جمع کیا ہوا تھا۔ 

اسی طرح روجھان میں ہی خاتون سنتو لجوانی کے بقول ان کی دو بچیاں، جن کی عمر سات اور پانچ سال تھی، پانی میں بہہ گئیں۔

ان کے مطابق بچیاں گھر سے باہر نکلیں، پانی کا ریلا آیا اور انہیں بہا کر لے گیا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ برساتی پانی سے سیلاب آتا ہے جو کوہ سلیمان کی پہاڑیوں کی رود کوہیوں سے آبادیوں میں بھی داخل ہوتا ہے اور زرعی زمین کو بھی متاثر کرتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’دریائے سندھ اور چناب میں پانی کی سطح ضرور بلند ہوئی مگر سیلاب کی یہ صورت حال دریاؤں سے پیدا نہیں ہوئی۔‘

جنوبی پنجاب میں رود کوہیوں سے سیلاب کیسے آتا ہے؟

حکومتی ریکارڈ کے مطابق جنوبی پنجاب کا آخری ضلع راجن پور ہے جس کے مشرق میں دریائے سندھ اور مغرب میں تقریباً 120 کلو میٹر طویل کوہ سلیمان کا پہاڑی سلسلے ہیں۔

کوہ سلیمان کے پہاڑ بلوچستان اور پنجاب میں مشترکہ طور پر تقسیم ہیں۔ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے بلوچستان اور پنجاب میں بارشوں کا سارا پانی کوہ سلیمان کے نشیبی علاقوں میں سات راستوں سے داخل ہوتا ہے۔

راجن پور کے مقامی صحافی شہزاد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان سات راستوں کو دروں کا نام دیا گیا ہے یعنی دو پہاڑوں کے درمیان والا راستہ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضلع راجن پور میں سات درے لگتے ہیں: درہ کاہا سلطان، درہ چھاچھڑ، درہ پٹوخ، درہ سوری شمالی، درہ سوری جنوبی، درہ زنگی اور درہ کالا بگا کوہ سرا۔

شہزاد کے مطابق ہر سال درہ کاہا سلطان سے بارشوں کے بعد سیلابی ریلے گزرتے ہیں اور ہر سال  تقریباً 30 سے 40 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر جاتا ہے جو مختلف نالوں سے ہوتا ہوا دریائے سندھ میں داخل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ درہ کاہا کی آبی گذرگاہوں پر ہر سال حکومت اربوں روپے کے فنڈز لگاتی ہے۔

شہزاد کے بقول حکومتی محکمے رود کوہی سیم نالہ حفاظتی بند اور برساتی نالوں کے پشتے مضبوط کرتے ہیں اور گذشتہ کچھ سال سے بارشیں نہیں ہوئیں لیکن اس بار جب بارش ہوئی تو تمام نالوں کی پشتے کمزور تھے جو پانی کے دباؤ سے ٹوٹ گئے۔

رود کوہیوں سے آنے والے پانی نے راجن پور کی تحصیل روحجھان اور ڈیرہ غازی خان ضلع میں بھی تباہی پھیلائی ہے۔

امدادی سرگرمیاں

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ہر سال رود کوہیوں سے ان جڑواں اضلاع میں سیلاب آتا ہے مگر اس سال زیادہ بارشوں سے بڑے پیمانے پر سیلاب آیا۔

 پی ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ سے مل کر کشتیوں سے امدادی کارروائیاں جاری رکھیں تاہم سیلاب اتنے بڑے پیمانے پر آیا ہے تو بعض مقامات پر لوگوں کو ٹریکٹر ٹرالیوں سے محفوظ مقام تک پہنچنا پڑا۔

انہوں نے کہا: ’ہم نے بھی ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا ہے لیکن سیلاب سے جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد افراد اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔‘

ان کے بقول سیلابی علاقوں میں امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں اور متاثرین کو کھانے پینے اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ 

ان کا مزید کہنا ہے کہ جب تک بحالی کام مکمل نہیں ہوتا یہ کیمپ لگے رہیں گے۔ خواتین کو الگ کیمپوں میں رکھا جا رہا اور حکومتی سطح پر بھی متاثرین کی امداد کی جا رہی ہے تاہم بحالی میں وقت لگے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان