بلوچستان میں سیلاب سے 136 اموات، ساڑھے 13 ہزار مکان تباہ

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے وضاحت کی ہے کہ سوشل میڈیا پر صوبے میں تباہی کے حوالے سے وائرل کئی تصاویر پرانی ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے آواران میں امدادی کام جاری رکھا ہوا ہے (محکمہ اطلاعات بلوچستان)

بلوچستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مون سون بارشوں کے دوران سیلابی ریلوں سے 31 اضلاع میں اب تک 136 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ان اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی کی بعد سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت کے خلاف تنقید جاری ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق تباہ شدہ علاقوں میں سے بعض میں رسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے، صوبے بھر میں سڑکوں کے ساتھ ضلع چاغی میں ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمںٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی، خضدار،کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور سبی سے رپورٹ ہونے والی ان 136 ہلاکتوں میں 56 مرد، 33 خواتین اور 47 بچے شامل ہیں۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مجموعی طور پر 13 ہزار 535 مکانات مکمل اور جزوی طور پر منہدم ہوئے جبکہ 640 کلومیٹر پر چھ مختلف شاہراہیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سیلابی ریلوں سے صوبے کے مختلف علاقوں میں 16 پل ٹوٹے اور 23 ہزار 13 مال مویشی ہلاک ہوئے۔

سب سے زیادہ نقصان فصلوں کو ہوا جس میں اب تک 19 لاکھ 79 ہزار 30 ایکڑ پر مشتمل کھڑی فصلیں، شمسی پلیٹس، ٹیوب ویلز کو شدید نقصان پہنچا۔

دوسری جانب ضلع چاغی میں کوئٹہ سے ایران جانے والی ریلوے کی پٹڑی کو بھی سیلابی ریلوں نے نقصان پہنچایا۔ چاغی سے صحافی فاروق بلوچ نے بتایا کہ ریلوے حکام سے ملنے والی ابتدائی معلومات کے مطابق دو سے ڈھائی ہزار فٹ پٹڑی متاثر ہوئی ہے۔

فاروق بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریلوے حکام کے مطابق دالبندین سے یک مچ، جوجکی تک ریلوے کی پٹڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ دو مال بردار ٹرینیں دالبندین سٹیشن اور ایک ٹرین یک مچ میں کھڑی ہے۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ ٹریک کی بحالی میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے ٹوئٹرپر کہا کہ دیگر اضلاع کی طرح ضلع آواران بھی شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوا اور زمینی راستوں سے کٹ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر آواران کی قیادت میں انتظامیہ زمینوں راستوں کی بحالی کے لیے مصروف عمل ہے۔

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں شاہراہوں کے متاثر ہونے اور سیلابی ریلوں سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے اتوار کو ضلع کا ہنگامی دورہ کیا۔   

محکمہ اطلاعات بلوچستان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران انہوں نے صورت حال کے حوالے سے بریفنگ بھی لی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمشنر قلات ڈویژن داؤد خلجی اور ڈی سی لسبیلہ نے بریفنگ میں مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریوں، جانی اور مالی نقصانات کے حوالے سے تفصیل سے بتایا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ چیف سیکریٹری کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مون سون بارشوں کے دوران سیلاب سے  ضلع لسبیلہ میں 19 اموات ہوئی ہیں، اور قومی شاہراہ سے منسلک 75 رابطہ سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں زمینی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے  ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریلیف آپریشن پاکستان فوج کے تعاون سے جاری ہے۔

چیف سیکریٹری کو بتایا گیا کہ لسبیلہ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے لائیو سٹاک کے پیشے سے وابستہ دیہی علاقوں کے مالداروں کی30 ہزار مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد ایکٹر زرعی اراضیات تباہ ہوئیں۔  ابتدائی سروے کے مطابق پانچ سے آٹھ ہزار لوگ جزوی طور پر اور دو سے تین ہزار لوگ مکمل بے گھر ہوئے ہیں۔ لاکھڑا  اور کنراج کے  دیہی لوگوں تک رسائی میں مشکلات درپیش ہیں۔

چیف سیکرٹری نے احکامات جاری کیے کہ این ایچ اے اور پاکستان فوج کے تعاون سے رابطہ سڑکوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خاص طور سے سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو بلوچستان کو حکم دیا کہ وہ  نجی ہیوی مشینری کا بندوبست کریں تاکہ وزیراعظم پاکستان کے اعلانات کی روشنی میں متاثرہ علاقوں میں نقصانات کی درست اور بروقت ڈیٹا کلیکشن ممکن اور لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جاسکے۔

سوشل میڈیا پر تنقید

دوسری جانب ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ اور کچھ تصاویر کے حوالے سے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جس پر ترجمان حکومت بلوچستان نے وضاحت جاری کی ہے۔

حکومتی ترجمان نے بیان میں کہا سوشل میڈیا پر وائرل بعض تصاویر کو بلوچستان سے منسلک کیا جارہا ہے، جو درست نہیں۔  

بیان میں کہا گیا: ’دریا کنارے ایک کمسن بچے کی لاش کی تصویر نوشہرہ میں دریائے کابل کے کنارے سے ملی تھی۔ ایک اور تصویر، جس میں کشتی میں ایک بوڑھا شخص اپنے خاندان کے ساتھ ہے، 2014 میں جھنگ میں آنے والے سیلاب کی ہے جو کہ اس وقت مختلف اخبارات میں شائع ہوئی۔

اسی طرح ایک تصویر، جو سیلاب سے ہلاک ہونے والے  چار لڑکوں کی لاشوں کی ہے، اس کا تعلق ایران سے ہے اور یہ تصویر 2019 میں اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔‘

ترجمان نے سوشل میڈیا پر ان تصاویر کا تعلق بلوچستان کے حالیہ سیلاب سے جوڑنے کی کوششوں کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کے ’منفی اور بےبنیاد پروپیگنڈے کا مقصد سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریسکیو کرنے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے صوبائی حکومت اور اس کے اداروں کی دن رات جاری کاوشوں کو ناکام بنانا ہے۔‘

انہوں نے ان تصاویر کی بنیاد پر ’ڈوبتا بلوچستان خاموش انتظامیہ‘ کے ٹرینڈ کو سوشل میڈیا کے ’منفی استعمال کی بدترین مثال‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا: ’اس ٹرینڈ کو چلانے والے بلوچستان اور یہاں کے عوام کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔‘

 ترجمان نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے حکومتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی ہمت بڑھانے کے علاوہ پوری قوم کو آگے بڑھ کر متاثرین کی امداد بحالی  کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا جزبہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان