رتی گلی پاس: دو بڑی اور دو چھوٹی جھیلوں کا دیدار

رتی گلی پاس کی بلندی سطح سمندر سے 4100 میٹرز سے زائد ہے۔ نوری ناڑ کیمپ سائٹ سے عمودی پہاڑوں کو عبور کر کے کُل چار جھیلوں کا دیدار ہوتا ہے۔

ناران سے کشمیر کے ٹریک میں رتہ سر پاس ہمارے سفر کا آخری بڑا پہاڑ تھا۔ اسے رتی گلی پاس یا نورانی پاس بھی کہا جاتا ہے۔

رتی گلی پاس کی بلندی سطح سمندر سے 4100 میٹرز سے زائد ہے۔ نوری ناڑ کیمپ سائٹ سے عمودی پہاڑوں کو عبور کر کے کُل چار جھیلوں کا دیدار ہوتا ہے۔

نوری ناڑ کیمپ سائٹ سے نکلنے کے بعد راستہ قدرے آسان ہے سرسبز چراگاہوں اور آبشاروں کے اونچے نیچے ٹریک سے گزرنا ہے۔

تقریباً آدھے گھنٹے بعد پہاڑ کی چڑھائی شروع ہو جاتی ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے 80 ڈگری پر چلی جاتی ہے۔

یہ ہمارے مسلسل طویل ٹریک کا پانچواں دن تھا اور ہماری طاقت آخری سطح پر پہنچ چکی تھی لیکن صرف ایک بات چلنے کا باعث بن رہی تھی کہ آج شام ہم رتی گلی بیس کیمپ پہنچ جائیں گے جہاں جا کر انٹرنیٹ بھی مل جائے گا اور دنیا سے رابطہ بھی ہو سکے گا۔

تیز کڑک دھوپ کی وجہ سے ٹریک کی سختی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ سن بلاک کی تہیں ہم نے چہرے اور ہاتھوں پر جمائیں اور چل دیے۔ دل ہی دل میں دُعا کی کہ بارش ہی ہو جائے یا کم از کم بادل آجائیں تاکہ ٹریکنگ آسان ہو جائے۔ بہرحال ہم چلتے رہے پہاڑ کو عبور کیا چوٹی پہ پہنچے تو پیچھے دو ساتھیوں کی طبعیت خراب ہو گئی جن کا وہاں بیٹھ کر انتظار کیا۔ چوٹی سے زرا نیچے کالا سر جھیل کا نظارہ تھا۔ اور کالا سر جھیل سے کچھ فاصلے پر تالاب اور دو اور جھیلیں تھیں جنہیں کالاسر ون اور کالاسر ٹو کا نام دیا گیا۔

پہاڑ سے گلیشیئر کے نظارے بھی ہو رہے تھے۔ جب پہاڑ سے پیچھے دیکھا تو حیران ہوئے کہ ہم کتنا راستہ عبور کر آئے۔ پہاڑ کی اترائی شروع کی تو ہلکی بارش شروع ہو گئی ہم نے شکر کیا کہ موسم اچھا ہوا۔ پہاڑوں میں موسم کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔

اس کے بعد چٹانوں کا سلسلہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ چٹانوں کے پہاڑ جو بڑے بڑے پتھروں پر مشتمل تھے اس پر چڑھ کر اترائی کی بس ایک ڈر تھا کہ لینڈ سلائیڈنگ نہ ہو۔ چٹانوں کو پھلانگتے ہوئے ہم چراگاہوں میں داخل ہو گئے۔

مشکل مرحلہ ہم کر چکے تھے اب بس ہلکی پھلکی اترائیاں چڑھائیاں تھی۔ اس کے بعد ہنس راج جھیل کا نظارا کیا اور وہاں سے گائیڈ نے بتایا کہ بس اب پگڈنڈی پر چلتے جائیں یہ سیدھی رتی گلی بیس کیمپ جائے گی۔

ہنس راج جھیل کے بعد دو گھنٹے کے سبزے والے راستے پر گزرتے ہم رتی گلی بیس کیمپ پہنچے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راستے میں چرواہوں کے گھر بھی تھے۔ اس وقت ہلکی بارش بھی شروع ہو چکی تھی۔ انہوں نے ہمیں خالص مکھن والی لسی کی پیشکش کی تو ہم نے بغیر ہچکچاہٹ کے حامی بھر لی کہ چلو کوئی اینرجی اینرجی لیول تو بڑھے گا۔

کشمیر کے گاؤں کے خالص لوگوں کی طرح لسی بھی بہت خالص تھی اور یقینی طور پر اس میں سیاحوں کے لیے اُن کا خلوص بھی شامل تھا۔

لسی پینے کے 45 منٹ بعد کے ٹریک کے بعد نیلے پیلے سرخ رنگ نظر آئے غور کرنے پر علم ہوا یہ تو رتی گلی بیس کیمپ ہے جہاں ایک جہان آباد تھا۔

اتنے دنوں بعد بیرونی دنیا کے لوگوں کو دیکھ کر کافی خوشی ہوئی۔ اور ساتھ ہی منزل پر پہچنے کی بھی خوشی تھی کہ ناران سے کشمیر تک پیدل ٹریک خیریت سے مکمل کر لیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا