بھارت کے پانچ اگست کے اقدام نے مذاکرات کا راستہ بند کر دیا: پاکستان

نیویارک سے انٹرویو میں منیر اکرم نے بتایا کہ ’پانچ اگست کے بھارتی اقدامات نے سمجھوتے کے لیے راستہ بند کر دیا ہے اور اس لیے بھارت کو ان اقدامات کو واپس لینا ہوگا۔‘

اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب منیر اکرم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد 16 اگست 2021 کو نیو یارک میں افغانستان کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی فائل)

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارت کے اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سمجھوتے کے لیے راستہ بند کر دیا ہے۔

جمعے کو عرب نیوز کو زوم کے ذریعے دیے جانے والے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کسی تعمیری مذاکرات کے لیے نئی دہلی کو یہ قدم واپس لینا چاہیے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس حریفوں کے درمیان تعلقات ہندو قوم پرست نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے تین سال قبل کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کیے جانے کے بعد نچلی ترین سطح پر ہیں۔

نیویارک سے زوم انٹرویو کے دوران منیر اکرم نے مزید بتایا: ’پانچ اگست کے بھارتی اقدامات نے سمجھوتے کے لیے راستہ بند کر دیا ہے اور اس لیے بھارت کو ان اقدامات کو واپس لینا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے حقیقی مذاکرات سے پہلے کچھ بنیادی شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا: ’بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا ہوگا اور کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کو روکنا ہوگا۔‘

پاکستان نے بھارت پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر کشمیری بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل حقوق دے کر اپنے زیر کنٹرول واحد مسلم اکثریتی خطے کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کر رہا ہے دوسری جانب بھارت اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

منیر اکرم نے کہا کہ اس کے بجائے نئی دہلی مقامی کشمیریوں کو ڈومیسائل دینے سے انکار کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ نقشے وہی ہیں جو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی مندوب نے یہ بھی بتایا کہ جموں و کشمیر کے متنازع مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا تین بار اجلاس ہوا جب کہ عالمی ادارے میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے کشمیر کی صورتحال پر کم از کم 10 بار بات کی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہائی کمشنر نے اقوام متحدہ کے اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے لیے جموں و کشمیر تک رسائی کی درخواست کی تاکہ زمینی صورتحال کو دیکھا جا سکے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تصدیق کی جا سکے۔‘

منیر اکرم نے کہا کہ نئی دہلی کی طرف سے پانچ اگست کو کیے گئے فیصلے ’غیر قانونی اور غیر منصفانہ‘ تھے اور چوں کہ یہ سیاسی فیصلہ تھا اس لیے انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ بھارتی حکومت کو، چاہے وہ کسی بھی جماعت کی بھی ہو، کشمیر پر پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے قائل کرنا ہے اور یہ تسلیم کرنا ہے کہ پانچ اگست کا فیصلہ نہ صرف غیر قانونی اور یکطرفہ ہے بلکہ غیر منصفانہ بھی ہے۔‘

منیر اکرم نے کشمیری عوام کے ساتھ مسلسل اظہار یکجہتی کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی تعریف بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پر او آئی سی ایک رابطہ گروپ ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اس مسئلے پر مستقبل کے اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے دوبارہ ملاقات کرے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا