سعودی جیلوں سے 155 پاکستانیوں کو رہا کرانے والے ناصر اقبال

ناصر اقبال نامی پاکستانی شہری نے قیدیوں کی رہائی کے لیے ساڑھے 27 لاکھ ریال کا انتظام کرکے جرمانوں کی ادائیگی کی جس کے بعد یہ رہائیاں عمل میں آئی ہیں۔

سعودی عرب کے شہر جدہ میں پاکستانی قومصل جنرل خالد مجید سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری ناصر اقبال سے 27 اکتوبر 2021 کو 100 قیدیوں کی رہائی کے موقع پر ہاتھ ملا رہے ہیں (تصویر: ناصر اقبال)

سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی نے گذشتہ دو سالوں کے دوران سعودی عرب کی جیلوں سے 155 پاکستانی قیدیوں کی رہائی میں مدد فراہم کی ہے۔

ناصر اقبال نامی پاکستانی شہری نے اس کام کے لیے ساڑھے 27 لاکھ ریال کا انتظام کرکے جرمانوں کی ادائیگی کی جس کے بعد یہ رہائیاں عمل میں آئی ہیں۔

پاکستان میں سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے آتے ہیں جہاں 25 لاکھ پاکستانی شہری مقیم ہیں۔

39 سالہ ناصر اقبال تقریباً 20 سال قبل پاکستان کے شہر گجرات سے سعودی عرب گئے تھے اور جدہ میں معدن البینا نامی کنٹریکٹ کمپنی میں بطور پروجیکٹ مینیجر کام کر رہے ہیں۔

ناصر اقبال نے عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا: ’میں نے یہ پروجیکٹ (فلاحی سرگرمی) ستمبر 2020 میں شروع کیا تھا اور پوری (پاکستانی) کمیونٹی کی مدد سے ہم ابھی تک 155 پاکستانی قیدیوں کو رہا کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق: ’اس کے لیے ہم نے مجموعی طور پر ساڑھے 27 لاکھ سعودی ریال کے جرمانے ادا کیے ہیں۔‘

ناصر نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں قید ایک پاکستانی شہری کی پریشان والدہ کی ایک فون کال نے انہیں یہ اقدام کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے ایک بزرگ خاتون کا فون آیا جو گذشتہ چھ سالوں سے اپنے بیٹے کے سعودی عرب کی جیل میں قید ہونے کی وجہ سے انتہائی پریشان تھیں جن پر معمولی جرائم کے الزام میں ساڑھے چھ ہزار ریال جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔‘

ناصر اقبال نے بتایا کہ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان مالی مجبوریوں کی وجہ سے جرمانہ ادا کرنے سے قاصر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے فوری طور پر قیدیوں کے حوالے سے چھان بین کی جس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ 107 ایسے پاکستانی قیدی ہیں جو مالی طور پر اتنے محفوظ نہیں تھے کہ وہ اپنے جرمانے ادا کر سکیں اور پاکستان میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جا سکیں۔‘

ناصر نے جدہ میں پاکستانی قونصل خانے اور قیدیوں کے اہل خانہ سے ہر مقدمے کی تفصیلات کی انفرادی طور پر تصدیق کی اور پھر سعودی سپانسر (کفیل) کے ساتھ تصفیہ کے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا: ’میں نے تمام متعلقہ تفصیلات اکٹھی کیں اور اس سلسلے میں جدہ میں پاکستانی قونصل جنرل خالد مجید سے رابطہ کیا۔ خالد مجید نے ہر ایک کیس میں گہری دلچسپی لی اور تمام قانونی معاملات میں میری مدد کی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناصر نے کہا: ’ایک بار جب معاہدے کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو سعودی حکومت ایک تنفیز/صداد (الیکٹرانک ادائیگی کا کوڈ) تیار کرتی ہے جسے میں کیس کی تفصیلات کے ساتھ مختلف سوشل میڈیا گروپس میں شیئر کرتا ہوں اور عطیہ دہندگان سعودی حکومت کے ادائیگی کے نظام (صداد) کو براہ راست ادائیگی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

صداد سعودی عرب میں الیکٹرانک ادائیگیوں کا ایک مرکزی نظام ہے جو مملکت میں تمام بینکنگ چینلز پر الیکٹرانک طریقے سے جرمانوں اور دیگر ادائیگیوں کے عمل کو تیز کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان ادائیگیوں کے لیے براہ راست یا بالواسطہ نقد رقم جمع نہیں کرتے ہیں کیوں کہ عطیہ دہندگان سعودی حکومت کے ادائیگی کے نظام کو اپنی استعداد کے مطابق براہ راست ادائیگی کرتے ہیں۔

ناصر مکمل ادائیگی کی دستاویزات موصول ہونے کے بعد جدہ میں پاکستانی قونصل خانے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ اس کے بعد قونصل خانہ جیل کے ساتھ مل کر ان دستاویزات پر کارروائی شروع کرتا ہے۔

تمام کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد قیدی کو جیل سے رہا کر دیا جاتا ہے۔

ناصر اقبال نے کہا کہ سعودی حکومت پاکستان واپس بھیجے جانے والے تمام قیدیوں کے ٹکٹوں کی ادائیگی کرتی ہے۔

جدہ میں پاکستانی قونصل خانے کے ترجمان حمزہ گیلانی نے تصدیق کی ہے کہ ناصر اقبال سعودی عرب میں پاکستانی مشن کے ساتھ مل کر یہ فلاحی کام سرنجام دے رہے ہیں۔

حمزہ گیلانی نے عرب نیوز کو بتایا: ’وہ بہترین کام کر رہے ہیں اور قونصل خانے نے ہمیشہ جہاں بھی ضرورت پڑی مدد فراہم کی ہے۔‘

حمزہ گیلانی نے کہا کہ ناصر نے جرمانے اور دیگر قانونی اخراجات کے لیے تمام رقم عطیہ کنندگان کے ذریعے حاصل کی جو براہ راست سعودی حکومت کو صداد نظام کے ذریعے ادا کی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قونصل خانے نے انہیں متعلقہ تمام معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ جرمانے کی ادائیگی کے بعد قونصل خانے کی ٹیمیں قیدی کی رہائی کے لیے درکار ضروری دستاویزات کا بندوبست کرنے میں بھی مدد فراہم کر رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا