شہباز گل کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، پنجاب اور وفاق کی رسہ کشی

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں زیر حراست پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل کو ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر پنجاب اور وفاق کے ماتحت اداروں کے درمیان بدھ کو رات گئے تک رسہ کشی جاری رہی۔

10 اگست کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیشی کے موقعے پر لی گئی پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی تصویر (فوٹو: انڈپینڈنٹ اردو)

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں زیر حراست پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل کو ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر پنجاب اور وفاق کے ماتحت اداروں کے درمیان بدھ کو رات گئے تک رسہ کشی جاری رہی۔ بالآخر شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

ایک طرف اسلام آباد پولیس کے اہلکار، تفتیشی افسر طلعت محمود کی سربراہی میں عدالتی روبکار لے کر شہباز گل کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے جبکہ دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے ایک خط کے ذریعے، شہباز گل کو جیل سے راولپنڈی کے مقامی ہسپتال متنقل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

اسلام آباد پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے عدالت کا فیصلہ جیل حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے ہیں۔ اسلام آباد پولیس عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کرے گی اور خوش اسلوبی سے تعاون کی امید رکھتی ہے۔‘

واضح رہے کہ مقامی عدالت نے شہباز گل کو بدھ کو ہی دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا تھا۔

دوسری جانب بدھ کی رات وفاقی وزارت داخلہ نے رینجرز کی نفری کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت کی۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق شہباز گل کی حوالگی کے لیے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران اڈیالہ جیل گئے جبکہ راولپنڈی پولیس کے تمام افسران بھی اپنی نفری سمیت وہاں موجود تھے۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اور عملہ پنجاب حکومت کے ماتحت ہے جہاں پی ٹی آئی برسراقتدار ہے جبکہ شہباز گل کے خلاف مقدمے کی کارروائی اسلام آباد پولیس کے دائرہ اختیار میں ہو رہی ہے جو وفاق کے ماتحت ہے۔

اڈیالہ جیل کے میڈیکل آفیسر نے شہباز گل کو ہنگامی بنیادوں پر مقامی ہسپتال منتقل کرنے کے لیے پولیس کے محافظ فراہم کرنے کی درخواست دی تھی۔

اڈیالہ جیل کے میڈیکل آفیسر کی تحریری درخواست کے مطابق شہباز گل ’جیل ہسپتال میں داخل ہیں۔ انہیں سانس میں دقت کا مسئلہ ہے اور آج انہیں کھانسی بھی رہی۔‘

درخواست کے میں لکھا گیا کہ کھانسی کی وجہ سے ان کی حالت اچانک بگڑ گئی۔

’انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی ہے لیکن ان کی حالت سنبھل نہیں رہی ہے۔ اس لیے انہیں آکسیجن لگا کر ہنگامی بنیادوں پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال راولپنڈی منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی زندگی بچانے کا مزید بندوبست کیا جا سکے۔‘

آخرکار شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا جس کے حکام کے مطابق انہیں اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا جائے گا جہاں ان کا میڈیکل ٹیسٹ ہو گا۔
شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ

طبی بنیادوں پر اڈیالہ جیل میں ہونے والی پیش رفت سے قبل بدھ کو ہی اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کے لیے مقامی عدالت سے 48 گھنٹوں کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔ 

فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری نے کہا کہ وہ پولیس کی نامکمل تفتیش کی دلیل سے متفق ہیں۔ انہوں نے کیس کی تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید 48 گھنٹوں کے لیے شہباز گل کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔

تشدد کا الزام

سماعت کے دوران شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے ان کے موکل کے جسم کے پرائیویٹ حصوں پر تشدد کیا جس کی تصاویر بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔

شہباز گل کے وکیل صفائی سلمان صفدر نے اپنے موکل کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں نظرثانی کی درخواست کی سماعت میں کہا کہ پولیس کی حراست کے دوران تشدد کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو استغاثہ کی درخواست پر سیشن کورٹ کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے خلاف درخواست کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے مجسٹریٹ عمر شبیر کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے خلاف استغاثہ کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا تھا۔

شہباز گل کے خلاف گذشتہ ہفتے اے آر وائی چینل پر گفتگو میں ریاستی اداروں کے اہلکاروں کو مبینہ طور پر بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اگر مجسٹریٹ کی عدالت ان کے موکل کا جسمانی ریمانڈ نہ دیتی تو مقدمے کی نوعیت مختلف ہوتی، اور ان کے خیال میں یہ کیس محض ضمانت تک رہے گا، اس کا ٹرائل کبھی مکمل نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جو کیس لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے لیے بنائے جاتے ہیں ان میں جلدی ریلیف دے دیا جانا چاہیے۔ ’ایسے کیسز صرف تضحیک كے لیے بنائے جاتے ہیں۔‘

اس سے قبل استغاثہ نے عدالت كے سامنے دلائل دیتے ہوئے كہا كہ شہباز گل كے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی غرض سے اسلام آباد كے چیف کمشنر سے اجازت حاصل کی گئی تھی۔  

تاہم اس موقع پر شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے نکتہ اٹھایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں چیف کمشنر اسلام آباد بغاوت کے مقدمے کے اندراج کے سلسلے میں مجاز اتھارٹی نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر بغاوت کا مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا، اس لیے استغاثہ عدالت کو بتائے کہ کیا وفاقی کابینہ کی اجازت لی گئی تھی؟

انہوں نے کہا کہ پچھلی تاریخوں میں بہت سی چیزیں کر دی جاتی ہیں اس لیے عدالت کے سامنے حقائق رکھے جانا چاہیے۔

پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے خلاف کراچی میں جو مقدمہ درج ہوا وہ غلط تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر شہباز گل پر پولیس حراست کے دوران تشدد ہوا تو وہ غلط تھا، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اور کسی بھی زیر حراست ملزم پر تشدد نہیں کیا جانا چاہیے۔

رضوان عباسی نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق شہباز گل پر حراست کے دوران تشدد نہیں ہوا۔  انہوں نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل ایک مجرمانہ سازش میں ملوث ہوئے ہیں اور اس میں ایک سے زیادہ لوگ ملوث ہیں۔

شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر پولیس ٹارچر کی ایک دلیل ہی ان کے کیس کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ٹی وی چینل سے کوئی تفتیش نہیں کی کہ کس نمبر پر کال کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص بری ہو کر گھر چلا جائے تو اس کو واپس بلانا بہت مشکل ہوتا ہے، اسی طرح جو شخص جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا جا چکا ہو اس کو واپس جسمانی ریمانڈ پر نہیں بھیجا جا سکتا۔

سلمان صفدر نے مزید کہا کہ اگر شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تو یہ کیس متاثر ہو گا اور مجسٹریٹ نے بہترین فیصلہ کیا جو قوانین پر مبنی تھا۔

وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ پولیس نے شہباز گل کے موبائل کی ان کے ڈرائیور کے پاس موجودگی کا مقدمہ بھی درج کیا اور اگر موبائل فون ڈروائیور کے پاس ہے تو ان کی حراست کی کیا ضرورت پیش آ رہی ہے۔

وکیل صفائی نے شہباز گل کے بیان پر کہا کہ عام طور پر اپنے رشتہ داروں کو بھی کہا جاتا ہے کہ غلط حکم نہیں ماننا چاہیے۔ انہوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’میڈم آپ بتائیں، کیا اس تقریر پر سزائے موت کی دفعات بنتی ہیں۔‘

انہوں نے كہا كہ شہباز گل کے انٹرویو کا کچھ حصہ نکال کر اس پر مقدمہ درج کر لیا گیا جبكہ انہوں نے اپنی تقریر میں مسلم لیگ ن کے آٹھ رہنماؤں کے نام لیے۔

ان کے خیال میں شہباز گل کے خلاف کیس سیاسی انتقام کی غرض سے وفاقی حکومت نے بنایا ہے، ان کے موکل کی تقریر محب وطن تقریر ہے، اس کے کچھ حصے نکال لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موکل نے ٹی وی پر پوچھے گئے سوال کا لمبا جواب دے دیا، جس میں کچھ باتیں غلط کہہ دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ استغاثہ کے مطابق شہباز گل نے اپنی تقریر تسلیم کر لی ہے، تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ استغاثہ کا موقف ہے کہ شہباز گل نے کسی کے کہنے پر تقریر کی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹی وی اینکرز روزانہ سیاسی رہنماؤں کو ٹی وی پر بلاتے ہیں اور وہ روزانہ بولتے ہیں، جس میں کچھ چیزیں غلط ہو سکتی ہیں لیکن وہ بغاوت، سازش یا جرم میں نہیں ہوتیں۔

وکیل صفائی نے کہا کہ استغاثہ کو شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ شریک ملزم تک پہنچنے کے لیے چاہیے۔

استغاثہ کے وکیل نے اپنے جواب الاجواب میں کہا کہ پولیس نے شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ پر ان کے حوالے کرنے کی استدعا کر رکھی ہے کیونکہ ان پر اداروں میں بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست