سٹیٹ بینک کے نئے گورنر کو کیا معاشی چیلینجز در پیش ہوں گے؟

جمیل احمد کو 25 اکتوبر 2018 کو تین سال کے لیے ڈپٹی گورنر تعینات کیا گیا تھا، انہیں بینکنگ سیکٹر میں تین دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔

نئے گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے برطانیہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک کے مالیاتی اداروں سے مختلف تربیتی کورسز بھی کر رکھے ہیں(سٹیٹ بینک آف پاکستان ٹوئٹر)

حکومت پاکستان نے سابق ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد کو مرکزی بینک کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ نئے گورنر کو اپنی تعیناتی کے فوری بعد کئی معاشی چیلینجز کا سامنا ہو گا جن میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی اور افراط زر کی شرح میں اضافے سمیت کئی دیگر معاشی مسائل شامل ہیں۔

جمعے کو وزارت خزانہ پاکستان نے اپنے ایک نوٹیفیکیشن میں جمیل احمد کی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے گورنر کے طور پر تعیناتی کا اعلان کیا۔ حکومت نے یہ تقرری تقریباً ساڑھے تین ماہ کی تاخیر کے بعد کی ہے۔

سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی تین سالہ مدت رواں سال مئی میں مکمل ہونے کے بعد نئی آنے والی وفاقی حکومت نے انہیں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور چار مئی کو ڈپٹی گورنر مرتضیٰ سید کو بطور قائم مقام گورنرمقرر کر دیا گیا تھا۔

سٹیٹ بینک کے قانون کے مطابق وفاقی حکومت گورنر سٹیٹ بینک کی مدت پوری ہونے کے بعد ایک مہینے میں بینک کے گورنر کو تعینات کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ مگر روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قدر میں تاریخی ااضافے کے بعد نیا گورنر مقرر نہیں کیا گیا تھا لیکن اب ساڑھے تین ماہ کی تاخیر کے بعد نیا گورنر سٹیٹ بینک مقرر کر دیا گیا ہے۔

مرکزی بینک کے نئے گورنر جمیل احمد کو پہلے دن سے ہی روپے اور ڈالر کی قیمت اور معاشی بحران کو حل کرنے کے چیلینجز کا سامنا ہو گا۔

مرکزی بینک کے نئے گورنر کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھیجی گئی سمری میں چھ مختلف نام تجویز کیے گئے تھے۔

سمری میں شامل دیگر ناموں میں صدر بینک آف پنجاب ظفر مسعود، قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک مرتضی سید، ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک محمد جمیل، سابق گورنر سٹیٹ بینک محمد اشرف خان، سابق صدر نیشنل بینک آف پاکستان سعید احمد اور عاصم معراج حسین کے نام شامل تھے۔

نئے گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کون ہیں؟

 سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ کے مطابق جمیل احمد کو 25 اکتوبر 2018 کو تین سال کے لیے ڈپٹی گورنر تعینات کیا گیا تھا، انہیں بینکنگ سیکٹر میں تین دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔ 

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 جمیل احمد گذشتہ تین دہائیوں کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سعودی مرکزی بینک کے مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔

جمیل احمد نے 1988 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ وہ انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ سیکریٹریز آف پاکستان یا ایف سی آئی ایس کے 1992، انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان یا ایف آئی بی پی کے 1993 اور انسٹی ٹیوٹ آف کوسٹ اینڈ مینیجمنٹ اکاؤنٹس آف پاکستان یا ایف سی ایم اے کے 1994 سے فیلو ہیں۔

جمیل احمد نے بطور ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک کی ڈیجیٹلائزیشن میں بھی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

اپنی تعلیم کے دوران انہوں نے دو گولڈ میڈل حاصل کیے اس کے علاوہ انہوں نے برطانیہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک کے مالیاتی اداروں سے مختلف تربیتی کورسز بھی کر رکھے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت