پنجاب: مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری، گھروں پر چھاپے

عدالتی اجازت نامے کے بعد پولیس نے ن لیگی رہنماؤں اور اراکین قومی اسمبلی سیف کھوکھر، مرزا جاوید اور رانا مشہود کے گھر پر پولیس نے چھاپے مارے مگر وہ گھروں پر موجود نہیں تھے۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے بعد حمزہ شہباز اور دیگر رہنما اس تصویر میں شامل ہیں جن کے وارنٹ گرفتاری عدالت نے جاری کیے ہیں (تصویر: حمزہ شہباز فیس بک)

پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں پنجاب پولیس کو عدالت سے مسلم لیگ ن سابق صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی کے وارنٹ گرفتاری مل گئے ہیں جس کے بعد چند رہنماؤں کے گھر پر چھاپے مارے گئے ہیں تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

عدالتی اجازت نامے کے بعد پولیس نے ن لیگی رہنماؤں اور اراکین قومی اسمبلی سیف کھوکھر، مرزا جاوید اور رانا مشہود کے گھر پر پولیس نے چھاپے مارے مگر وہ گھروں پر موجود نہیں تھے۔

وزیر اعلی پنجاب کے مشیر اطلاعات عمر سرفراز چیمہ کے مطابق: ’ان کے خلاف مقدمہ درج ہے اور قانونی طور پر عدالت سے وارنٹ حاصل کیے گئے ہیں لیکن بڑھکیں مارنے والے اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں چھپ گئے لیکن کب تک؟‘

دوسری جانب ترجمان مسلم لیگ ن پنجاب عظمی بخاری کے بقول وزیراعلی پرویز الہی اور صوبائی وزیر داخلہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے ہوئے ہیں ’شہباز گل کی گرفتاری کا بدلہ لینے کے لیے ن لیگی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

’وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان ان دنوں تناؤ بڑھتا جارہا ہے خاص طور پر جب سے شہباز گل گرفتار ہوئے ہیں، پنجاب میں بھی ن لیگی رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔‘

دوسری جانب چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افضل کو ہٹانے کے معاملہ پر بھی وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی سفارش مسترد کر کے تحریری طور پر انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

ن لیگ کے کن اراکین کے خلاف وارنٹ جاری ہوا؟

وزارت داخلہ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب پولیس نے لاہور کی مقامی عدالت سے پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے انتخاب کے دوران ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں وارنٹ حاصل کیے ہیں۔

جن اراکین کے وارنٹ جاری ہوئے ان میں ملک غلام حبیب اعوان، عطااللہ تارڑ، اویس لغاری، رانا مشہود، سیف الملوک کھوکھر، راجہ صغیراحمد، پیر خضر حیات، عبدالروف، اشرف رسول، بلال فاروق تارڑ، مرزا جاوید اور رانا منان خان شامل ہیں۔

ان 12اراکین پنجاب اسمبلی کے جمعے کو وارنٹ گرفتاری حاصل کیے گئے اور کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان مسلم لیگ ن پنجاب عظمی بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی قیادت شہباز گل کی گرفتاری سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے انہیں سمجھ نہیں آرہی کرنا کیا ہے؟‘

وزیراعلی کے انتخاب کے دوران پرویز الہی سمیت کئی پی ٹی آئی اراکین کے خلاف مقدمات درج ہیں مگر اس معاملہ کوحکومت ملتے ہی دبا دیا گیا ہے۔

عظمی کے بقول: ’ایک من گھڑت واقعہ بنا کر ن لیگی رہنماؤں کو پنجاب میں ’انتقامی کارروائی‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر ہم ڈرنے والے نہیں اور گرفتاریاں یا مقدمات پہلی بار برداشت نہیں کر رہے لیکن یہ خیر منائیں ان کے خلاف بھی قانونی کارروائیاں تیز ہوں گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے اراکین نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جلد ہی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لیں گے۔

پنجاب حکومت کا اعلان

پنجاب میں حکومت نے ن لیگی رہنماؤں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے صوبائی وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ’ان کو گرفتار ضرور کیا جائے گا اور سخت کارروائی ہوگی جہاں مرضی جاکر چھپ جائیں قانون سے نہیں بچ سکتے۔‘

مشیر اطلاعات پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردوسے گفتگو میں کہا کہ ن لیگی اراکین کے خلاف مقدمہ درج تھا اور اب عدالت سے باقائدہ وارنٹ گرفتاری حاصل کر کے چھاپے مارے جارہے ہیں مگر ملزمان اسلام آباد جاکر پارلیمنٹ لاجز چھپ گئے ہیں لیکن قانون اپنا راستہ بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کسی گرفتاری کا ردعمل نہیں بلکہ جنہوں نے ایوان کا تقدس پامال کیا اور قانون توڑا ان کے خلاف قانون تو حرکت میں آئے گا۔

عمر سرفراز نے کہا کہ ’ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں دھمکیاں لگانے والے بہادری دکھائیں اور قانون کا سامنا کریں جس طرح شہباز گل نے گرفتاری دی ہے یہ بھی خود کو پیش کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست