’مشکل’ نے ہیرو کو ایک بار پھر ہیرو بنا دیا

ہمارے ڈرامے میں ایک عرصہ سے ہیرو سٹف غائب ہے۔ ولن نما ہیرو دیکھنے پڑ رہے تھے۔ یہ ڈراما بصارت اور سوچ دونوں میں ہیروازم کے تمام عناصر لے کر آیا ہے۔

ڈراما مشکل میں خوشحال خان، صبور علی اور زینب شبیر نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں (مشکل ڈرامہ پوسٹر)

واقعات حادثات میں کیسے بدل جاتے ہیں؟ زندگی کا ایک واقعہ کیسے کئی خاندانوں کو متاثر کر دیتا ہے؟ یک طرفہ محبت انسان کو حسد اور شک میں کیسے مبتلا کردیتی ہے؟ 

بغض اور بدلے کی آگ میں اگر زندگی کی محرومیوں کا ایندھن بھی شامل ہو جائے تو الاؤ کی صورت یا کسی سونامی یا پہاڑی سیلاب کی صورت سب بہا کر لے جاتا ہے۔ یہ سب دیکھنے کے لیے ایک ڈراما ’مشکل‘ ہی کافی ہے جو ہر روز رات نو بجے جیو انٹرٹینمنٹ سے پیش کیا جاتا ہے۔

یقین کریں ہر تین چار اقساط کے بعد کہانی ایک ناممکن کی ممکن منزل پہ کھڑی ہوتی ہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے ایک لڑکی حریم کی یک طرفہ سے محبت سے، جو اپنی ہی یونیورسٹی کے ایک امیر زادے کو نہ صرف دل دے بیٹھتی ہے بلکہ کافی نا مناسب حرکات سے اسے متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہے، جس کے باعث وہ لڑکا فراز تنگ آکر اس سے بدتمیزی سے بات کرتا ہے تو حریم کی سہیلی ثمین اسے روکتی ہے کہ عورت سے بات کرنے کا یہ کیا سلیقہ ہے۔

حریم ایک لوئر مڈل کلاس کی لڑکی ہے۔ یونیورسٹی میں وہ آزاد لڑکیوں کو دیکھتی ہے تو ویسا ہی بننا چاہتی ہے لیکن اس کے والد اسے یہ اجازت نہیں دیتے بلکہ اس کی ماں کے بقول اگر وہ پڑھا رہے ہیں تو یہی کافی ہے۔

حریم کو اپنی سہیلی کا مڈل کلاس منگیتر بھی پسند نہیں ہے جس کا اظہار وہ ثمین سے کر دیتی ہے لیکن ثمین اس بات پر شاکر ہے کہ یہ اس کے والدین کا فیصلہ ہے۔

دوسری جانب ثمین کے منگیتر صاحب حریم کی اداؤں میں الجھ کر اپنی منگیتر پر اپنی ملکیت کی دھونس جمانے لگتے ہیں۔

شاکر ہونے سے انسان میں جو ایک سکون کی ادا پیدا ہو تی ہے، وہ بے چینی کی اداؤں پہ ہمیشہ بھاری پڑ جاتی ہیں۔

ڈراما بھی آخر اس طرف چل نکلا تھا مگر پھر رخ بدل گیا۔

قصہ مختصر حریم اپنے والدین کی پسند سے شادی سے انکار کرتی ہے تو اس کے والد اسے یونیورسٹی جانے سے بھی روک دیتے ہیں۔

ثمین اس کے گھرمعلوم کرنے آتی ہے کہ وہ یونیورسٹی کیوں نہیں آرہی تو جہاں حریم اپنا قصہ غم سناتی ہے، وہیں وہ ثمین کو مجبور کرتی ہے کہ وہ فراز کو کہے کہ اس کے گھر رشتہ بھیج دے۔

حریم کے والد اس کا موبائل بھی توڑ دیتے ہیں چنانچہ ثمین کے آنے کا جواز بن جاتا ہے۔

ثمین بادل نخواستہ فرار سے بات کرتی ہے تو وہ اسے کسی ہوٹل آنے کا کہہ دیتا ہے، جو اس کے گھر سے بہت دور ہے۔

ثمین ماں سے جھوٹ بول کر چلی تو جاتی ہے لیکن وہاں سے اس کو سواری نہیں ملتی۔ فراز اسے کہتا ہے کہ میں ایسی جگہ چھوڑ دیتا ہوں جہاں سے سواری مل جائے۔ وہ گا ڑی ریورس کرتا ہے اور اسے بٹھا لیتا ہے۔ وہ بھی بے بس ہوتی ہے، لہذا بیٹھ جاتی ہے۔

ثمین کے والد ایک صحافی ہیں۔ یہاں لگتا ہے کہ کہانی صحافت کے مسائل پہ چل نکلے گی مگر ایسا بھی نہیں ہوتا۔ یہ محبتوں کے اثرات و ثمرات پہ مبنی رہتی ہے۔ یہ بس ایک رومانوی الجھنوں و مشکلوں کی کہانی ہے، جو ہار نہیں مان رہی۔

 لیکن اس سے پہلے کہ سواری ملتی، پولیس آجاتی ہے اور بس پولیس کیس بنے نہ بنے سوشل میڈیا کیس بن جاتا ہے اور فراز اور ثمین کی ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے۔

دونوں شریف اور سمجھ دار گھرانے دکھائے گئے ہیں، جن میں بچوں کے عمومی مسائل تو چلتے رہتے ہیں مگر یہ مسئلہ خصوصی بن کر شادی تک آن پہنچتا ہے۔ نہ چاہتے ہو ئے بھی ثمین اور فراز کی شادی ہو جاتی ہے۔

اس ڈرامے میں ایک بات اچھی دکھائی گئی ہے کہ ہیرو کی تخلیق عمدہ پیمانے پہ ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کیس بننے سے پہلے اور بعد میں بھی فرازایک کیئرنگ مرد ہے، جو لڑکی کی عزت کی حفاظت کرتا دکھایا گیا ہے۔

یونیورسٹی میں اپنی غلطی پہ معافی مانگنا، سواری نہ ملنے پر اسے اپنی گاڑی میں کسی مناسب جگہ پر چھوڑنا اور پولیس کے آنے پر یہ ظاہر کرنا کہ وہ اس کی بیوی ہے تاکہ کچھ غلط نہ ہو جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل میڈیا پہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسے اپنی عزت کی بھی پروا ہے جبکہ اس کا دوست کہتا ہے کہ تم کیا لڑکیوں کی طرح ڈر رہے ہو، گھر میں چھپ کے بیٹھے ہو، مگر جس کو اپنی عزت کی پروا ہوتی ہے، وہی دوسرے کی عزت کر سکتا ہے۔

شادی کے بعد ٹھنڈی بارش میں ثمین کو نہاتے دیکھ کر کہتا کہ تم بیمار ہو جاؤ گی۔ ثمین کی حریم کے بارے میں کہی بات کو اہمیت دینا، یہ سب واقعات محبت نہیں، احساس اور تحفظ کے عکاس ہیں۔

ہمارے ڈرامے میں ایک عرصہ سے ہیرو سٹف غائب ہے۔ ولن نما ہیرو دیکھنے پڑ رہے تھے۔ یہ ڈراما بصارت اور سوچ دونوں میں ہیروازم کے تمام عناصر لے کر آیا ہے۔

جناب تو بات یوں ہے کہ فراز کو تو حالات نے ثمین کا ہیرو بنا دیا لیکن اس کی دوست حریم چونکہ ایک انتقامی کردار ہے، لہذا اب اس کی نفرت وعداوت کی آگ پہ پیٹرول پڑ جاتا ہے۔

 محنت بھی تو رائیگاں نہیں جاتی بھلے منفی راہوں پہ کی گئی ہو۔ اس کی سازشی تھیوری آخر کار اسے فراز کے بڑے بھائی کی بیوی بنا کر اسی گھر میں لے آتی ہے جہاں فراز ہر پل اس کے سامنے ہے۔

چونکہ اس کے اندر کی آگ شانت نہیں ہو رہی لہذا اب وہ گھر میں گھریلو سیاست کرنے لگتی ہے کہ پول کھل ہی جاتا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں فراز پہ عاشق تھی، جس کی وجہ سے فراز اور ثمین نہ چاہتے ہوئے بھی آج میاں بیوی ہیں لیکن ان دونوں کی بات پہ یقین نہیں کیا جارہا۔

 حریم نے گھر میں بھی فراز سے قربت کے لمحات تلاشنے شروع کر دیے ہیں اور اب وہ فراز کے بھائی اور ثمین کو رستے سے ہٹانے کا پلان کر رہی ہے۔

ڈراما جاری ہے اور کسی متجسس سیریز کی طرح ہر پل ناظر کو چونکا دینے والی صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے۔

سماج میں طبقات کے اعتبار سے ایک رہن سہن کی تقسیم ہے۔ ہر کوئی اپنے سے اوپر اور اپنے سے آزاد سماج کا متمنی ہوتا ہے لیکن اسے اگر جھگڑ کر، محنت کیے بنا، منفی راہوں سے گزر کر، جذباتیت میں ڈوب کر حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو اپنی ہی نہیں اپنے ساتھ اور آس پاس والوں کی زندگی بھی عذاب ہو جاتی ہے۔

حریم ایک ایسا ہی محرمیوں سے بھرا کردار ہے جس نے اپنی ہی نہیں، ہر کسی کی زندگی مشکل بنائی ہوئی ہے۔

ہمارا ایک جذباتی فیصلہ ہماری زندگی کے سب رخ بدل سکتا ہے، جو عموماً حادثے کی طرف جاتے ہیں۔

ڈرامے میں اگر کچھ زندگی کے رومان سے جڑے واقعات عکس بند نہ کیے جاتے تو یہ ایک ڈپریشن بن جاتا۔ اس کو ایک اچھی موسیقی نے بھی حسن عطا کیا ہے اور اسے ناظر پہ طاری ہونے سے بچایا ہوا ہے۔

عدیل رزاق نے ڈراما لکھا ہے اور مرینہ خان اس کی ڈائریکٹر ہیں۔

 کہانی کی رفتار تیز ہے، اس لیے دل کو تھام کے دیکھنا پڑتا ہے۔ ہر موڑ پہ نئی کہانی تصور کو بھی چونکا دیتی ہے لیکن اس سے یہ ضرور ہوتا ہے کہ انسان کے اندر امید جاگتی رہتی ہے، جو زندگی کی علامت ہے۔

ڈراما جگر مراد آبادی کے شعر کے جیسا ہے؎

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

 جس کا اختتام فیض صاحب کے شعر کے مطابق ہوتا دکھائی دے رہا ہے؎

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی