سیلاب سے تباہی اعمال کا نتیجہ یا ایسا بیان دینے والے ہماری غلطیوں کا؟

بہتر کون ہے، وہ لوگ جنہیں منتخب کر کے ہم کرسیوں پر بٹھاتے ہیں اور آسمانی آفت آنے پر وہ اپنی انگلی بھی آسمان کی طرف کھڑی کر دیتے ہیں یا وہ زمینی خوار کہ جو اپنی چلتی نوکریاں چھوڑ کے سب سے پہلے مصیبت میں پھنسے اللہ کے بندوں کی مدد کو پہنچتے ہیں؟

فرض کریں آپ سڑک پہ جا رہے ہیں، کسی سفر میں ہیں اور بس یا گاڑی کے شیشے سے آپ کو اچانک کوئی ایسا انسان نظر آتا ہے جو کسی شدید بیماری یا حادثے کا شکار ہوا ہے۔ اس کا چہرہ، اس کا جسم، دیکھنے والے کو ناقابل بیان اذیت میں ڈال دیتا ہے۔

آپ کا پہلا ری ایکشن کیا ہو گا؟ عام طور پہ کسی بندے کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ سب کچھ ہمارے ساتھ نہیں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ہم شکر کس چیز کا ادا کرتے ہیں۔

اس کا مطلب تو یہ ہو گا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہوا تو شاید وہ اس کا حق دار تھا، ہمیں بہرحال کوئی ٹینشن نہیں۔ یا اس کے حالات بھول بھال کر چونکہ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو اس لیے ہم شکر کرتے ہیں؟

یا ہم لوگ وقتی طور پر بے حس ہو جاتے ہیں اور اس کی تکلیف دیکھ کر ہم خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ایسی تکلیف ہمارے اوپر آتی تو کیا ہم اسے بھگت سکتے تھے؟ اور خود کو اس مصیبت میں دیکھ کر، لرز کے، کانپ کر، ہم شکر کرتے ہیں کہ جو بھی ہوا اس بندے کے ساتھ ہوا اور ہمارے ساتھ نہیں ہوا۔

اس رویے کی نرم ترین آخری وجہ یہ دی جا سکتی ہے کہ وہ انسان جو تھا اسے دیکھ کر ہمیں اس سے ہمدردی محسوس ہوئی، اس کی تکلیف کا سوچ کر ہم کانپ گئے اور پھر ہم نے شکر کیا کہ اس بندے کی جگہ ہم نہیں تھے۔

تھوڑی دیر میں وہ سب کچھ ہم بھول جاتے ہیں۔ یاد کریں ایسا کئی بار آپ کے ساتھ ہوا ہو گا لیکن کوئی شکل، کوئی چہرہ، کوئی انسان یاد ہے آپ کو؟

کیا اس شکر ادا کرنے اور سامنے والے بندے کی تکلیف کو بھلانے میں کوئی گڑبڑ آپ کو نظر آتی ہے؟

سیلاب آیا ہوا ہے، کروڑوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ بے تحاشا ایسے خاندان ہیں جو ایک رات اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے اور اگلے دن اٹھتے ہیں تو بس جان بچا کے بھاگتے ہیں اور ہوش سنبھلتا ہے تو کسی خشک جگہ پر اپنے آپ کو پاتے ہیں۔ کسی کا باپ ڈوب گیا، کسی کے بھائی مر گئے، کوئی مکان کے ملبے تلے دب گیا اور شدید زخمی ہوا، کسی کے مال مویشی بہہ گئے اور کسی کی ساری جمع پونجی، کل کائنات، اس کے بچے گم گئے یا ڈوب گئے۔  

سوچیں کہ یہ سب آپ کے ساتھ ہو جائے، وجہ بے شک سیلاب نہ ہو، زندگی میں کس کے ساتھ کیا نہیں ہوتا؟ تو آپ کے ساتھ ہو جائے اور ایسے میں کوئی بندہ کہے کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا یہ تمہارے اعمال کا نتیجہ تھا۔

آپ کسی کو کیا صفائی دیں گے؟ کس سے گلہ شکوہ کریں گے؟ دعا بھی کیا مانگیں گے جب آپ کو زمینی مددگاروں نے ان سارے واقعات کا ذمے دار ٹھہرا دیا ہو کہ جو سراسر موسمی تبدیلیوں یا انہی کی اپنی ظالمانہ پالیسیوں کا نتیجہ تھے۔

ہمارے دور دراز علاقوں میں ایک محاورہ یہ بھی ہے کہ فقیر کوئی مانگنے آئے تو اسے دھتکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ تجھے اوپر والے نے اس حال میں پیدا کیا تھا اب میں تیرے ساتھ کیا اچھا کر سکتا ہوں۔ جو زیادہ سخت بات کی جاتی ہے وہ یہ کہ تیرے ساتھ بھلا کروں تو کیا میں خدا کی دشمنی مول لوں؟

یہ ساری چیزیں ہمارے دماغوں میں اتنی زیادہ بیٹھی ہوئی ہیں کہ ہمیں ان پر بات کرنا بھی عقل کے خلاف لگتا ہے۔

آپ یقین کریں گے؟ قسم بہ خدا میں اس وقت یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر میری جگہ کوئی انگریز بس میں بیٹھا ہو اور سڑک پر ایک انسان کو دیکھے جو کسی لاعلاج اذیت میں ہو تو وہ کیا سوچے گا؟ اس کا پہلا ذہنی رسپانس کیا ہو گا؟

کسی کی مدد نہ کر سکتے ہوں تو اسے دیکھ کر اپنے حق میں شکر ادا کرنا، یا ایسے ہی کہہ دینا کہ سب کچھ اس کے اعمال کا نتیجہ ہے، اور آگے بڑھ جانا ۔۔۔ یہی چیزیں ’آل از ویل‘ ہونے کا الارم دماغ میں پہنچاتی ہیں اور کوئی آواز تک نہیں اٹھائی جاتی۔ ہاں جن پہ گزرتی ہے وہ اپنی تکلیف بہتر جانتے ہیں اور انہیں یاد بھی رہتا ہے!

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہی رویوں کی وجہ سے ہم لوگ ان جانے میں وکٹم بلیمنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ یعنی جس بے چارے کے ساتھ حادثہ ہوا ہے، الزام بھی سارا ہم اسی پر لگا رہے ہوتے ہیں۔

اگر یہ سب اعمال کا نتیجہ ہے تو ایمانداری سے بتائیں کہ ایک غریب آدمی کو برے اعمال کا موقع ہی کتنا ملتا ہے؟ امیر جو شہروں میں رہتے ہیں، بڑی بڑی گاڑیاں رکھتے ہیں، اعمال خراب کرنے کا چانس ان لوگوں کو زیادہ ملتا ہے یا بے چارے کمی کمین لوگوں کو، جو پہلے ہی بربادی کی پہلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں؟

چھوڑیں ساری باتیں، اس وقت آپ کسے اچھا سمجھیں گے، وہ لوگ جو سیلاب سے دربدر ہونے والے غریبوں کی مدد کر رہے ہیں یا وہ کہ جو اس ساری تباہی کو اعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور رات کا کھانا کھا کے سکون سے اپنے پیٹ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے سو جاتے ہیں؟

وہ لوگ کہ جنہیں آپ سالہا سال سے منتخب کر کے اسمبلیوں میں پہنچاتے ہیں اور آسمانی آفت آنے پر وہ اپنی انگلی بھی آسمان کی طرف کھڑی کر دیتے ہیں یا وہ زمینی خوار کہ جو اپنی چلتی روزی چھوڑ کے زلزلہ ہو یا سیلاب، سب سے پہلے مصیبت میں پھنسے اللہ کے بندوں کی مدد کو پہنچتے ہیں؟

وہ کہ جو فیس بک یا ٹوئٹر پہ امدادی کام کرنے والوں کو ہی لعنت ملامت کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ تم اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کر رہے ہو یا وہ لوگ کہ جو اپنے ٹھنڈے کمرے چھوڑ کے حبس والی اس گرمی میں آفت کے مارے ان مظلوموں تک پہنچتے ہیں، انہیں روزمرہ ضرورت کی چیزیں پہنچاتے ہیں، ان کی عارضی رہائش کا بندوبست کرتے ہیں اور انہیں تسلی دیتے ہیں؟

آپ جو مرضی توجیہہ پیش کریں لیکن اتنا یاد رکھیں کہ مصیبت جس کا گھر دیکھتی ہے وہ زمین سے پہلے آسمان ہی کی طرف دیکھتا ہے۔ جب آسمان نامہربان ہو تو واحد آسرا زمین کا رہ جاتا ہے۔ جس پہ زمین بھی مہربان نہ رہے وہ کہاں جائے گا؟

اور ’وہ‘ کبھی نہ کبھی ’آپ‘ بھی ہو سکتے ہیں!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ