صحت کی نگرانی کرنے والے ٹیٹو

جنوبی کوریا میں مائع دھات اور کاربن نینو ٹیوبز کو کام میں لا کے بنائی گئی اس سیاہی سے دل کی دھڑکن اور صحت کی دوسری اہم علامات پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

جنوبی کوریا کے ایک محقق نے ’برقی ٹیٹو سیاہی‘ تیار کی ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے جسم پر تتلیوں کی شکل کے یا دیگر ڈیزائنوں کے ٹیٹو بنائے جاسکتے ہیں۔

مائع دھات اور کاربن نینو ٹیوبز کو کام میں لا کے بنائی گئی اس سیاہی (روشنائی) سے دل کی دھڑکن اور صحت کی دوسری اہم علامات پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی اب بھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن کوریا کے ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کے اے آئی ایس ٹی) کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم کو امید ہے کہ ایک دن یہ ٹیکنالوجی لوگوں اور ڈاکٹروں کو صحت پر نظر رکھنے کا ذاتی نوعیت کا اور ایسا طریقہ پیش کرے گی، جس میں بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں ہو گی۔

یہ روشنائی جلد پر برقی سرکٹ بنا کر مؤثر طریقے سے کام کرتی ہے۔ اسے الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی) جیسے آلات سے منسلک کیا جا سکتا ہے تاکہ دل کی دھڑکن کی نگرانی کی جا سکے۔ اس میں ایسے سینسر موجود ہیں جو پسینے کا تجزیہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی فزیو تھراپی کے لیے ہیٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

کے اے آئی ایس ٹی میں میٹیریلز سائنس اور انجینیئرنگ کے پروفیسر سٹیو پارک کے بقول: ’سابقہ آلات (ای ٹیٹو) جو پیچ کی شکل میں ہوتے ہیں، کے مقابلے میں ہم اسے جلد پر براہ راست لگا سکتے ہیں۔ یہ صارفین کے لیے کہیں زیادہ آرام دہ ہے۔‘

پروفیسر سٹیو پارک نے ڈاکٹریٹ کرنے والے لی گن ہی کی ساتھ مل کر اس تحقیق کی قیادت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روشنائی بنانے کے لیے محققین نے گیلیئم پر مبنی مائع دھات کے ذرات کا استعمال کیا۔ یہ ایک نرم اور چاندی جیسی دھات ہے جو نیم موصل (سیمی کنڈکٹرز) یا تھرمومیٹر میں بھی پارے کے غیر زہریلے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور پلاٹینم سے مزین کاربن نینو ٹیوبز پائیداری کے ساتھ ساتھ بجلی کے گزرنے کے عمل میں معاونت کرتی ہیں۔

پروفیسر سٹیو پارک نے زور دے کر کہا کہ روشنائی کو بائیو کمپیٹیبل سمجھا جاتا ہے، یعنی یہ زندہ بافتوں کو نقصان نہیں پہنچاتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب اسے جلد پر لگایا جاتا ہے تو رگڑنے سے بھی ٹیٹو نہیں مٹتا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ روشنائی صابن سے صاف ہوتی ہے اور 10 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں جلد پر خشک ہوجاتی ہے، تاہم موجودہ ٹیکنالوجی اس حقیقت تک محدود ہے کہ اسے اب بھی ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے وائرنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔

پارک کے مطابق: ’مستقبل میں، ہمیں اس روشنائی کے ساتھ ایک بلٹ ان وائرلیس چِپ منسلک کرنے کی امید ہے تاکہ ہم اس سے رابطہ قائم کر سکیں یا اپنے جسم کے درمیان سگنلز کو آگے پیچھے اور کسی بیرونی آلے کو بھیج سکیں۔‘

یہ تحقیق جولائی میں جریدے ’ایڈوانسڈ میٹریلز‘ کے پرنٹ ورژن میں شائع ہوئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس