لاہور ایئرپورٹ کے اطراف کبوتروں کی اٹاریاں ختم

پرندوں کے جہازوں سے ٹکرا کر کسی بڑے حادثے کا سبب بننے کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایئرپورٹ کے ارد گرد کی آبادیوں میں گھروں کی چھتوں پر پرندے رکھنے پر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کبوتروں کی اٹاریوں کو ہٹوا دیا گیا ہے۔

پاکستانی کارکن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے کی کاک پٹ ونڈو صاف کر رہا ہے جو 19 مئی 2007 کو لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کھڑا ہے  (تصویر: اے ایف پی فائل)

لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مینیجر چوہدری نظیر کا کہنا ہے کہ رواں لاہور ایئرپورٹ پر 29 بار مختلف ایئرلائنز کے جہازوں سے مختلف پرندے ٹکرائے تھے۔

پرندوں کے جہازوں سے ٹکرا کر کسی بڑے حادثے کا سبب بننے کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایئرپورٹ کے ارد گرد کی آبادیوں میں گھروں کی چھتوں پر پرندے رکھنے پر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کبوتروں کی اٹاریوں کو ہٹوا دیا گیا ہے۔

بدھ کی رات ایئرپورٹ کے ارد گرد کے علاقوں میں یہ آپریشن اسسٹنٹ کمشنر کینٹ ذیشان ندیم کی سربراہی میں کیا گیا۔

اسسٹنٹ کمشنت کینٹ ذیشان ندیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس آپریشن کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ علامہ اقبال ایئرپورٹ سے اڑنے والے جہاز ان پرندوں کے سبب خطرے میں ہیں۔ دوسرا چھ ستمبر کو لاہور میں یوم دفاع کے موقعے پر ایئر شو ہونا ہے جس میں ایئر فورس کے جہاز اسی ایئر پورٹ سے اڑنے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس آپریشن سے پہلے جب پاکستان ایئر فورس سے ہماری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اگر ایک چھوٹی سی چڑیا بھی جہاز سے ٹکرا جائے تو جہاز کو کم از کم 20 سے 30 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔‘

ذیشان کا کہنا تھا کہ اس بار یوم دفاع پر ہونے والا ایئر شو تین برس کے بعد ہو رہا ہے۔

’ایئر فورس کے جہازوں کی رفتار عام جہازوں سے زیادہ ہوتی ہے اور اگر ان سے کوئی پرندہ ٹکرا جائے تو اس کا نقصان عام جہاز کے نقصان سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔‘

ذیشان ندیم کہتے ہیں کہ ’ہم نے صرف اس آپریشن میں صدر کینٹ، ضرار شہید روڈ اور بہار شاہ کے علاقے کو ٹارگٹ کیا ہے۔ باقی ارد گرد کے علاقوں کے لیے ہم نے لاہور کینٹ، اور ڈی ایچ اے اور ضلعی انتظامیہ کو شامل کیا ہے کہ وہ اپنے انڈر آنے والے علاقوں کو چیک کروائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یوم دفاع کے سلسلے میں ایئر پورٹ کے پانچ کلومیٹر کے ریڈیئس میں 27 اگست سے 10 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اسی سیکشن کی 144 پر عمل درآمد کے لیے ہم نے آپریشن کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے صرف کبوتروں پر فوکس نہیں کیا بلکہ ارد گرد کے علاقے میں بنے ریستوران اور شادی ہالوں کو بھی وارننگ دی ہے کیوں کہ وہاں بچا ہوا کھانا اکثر ہوٹل کی چھت پر پھینک دیا جاتا ہے جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس کھانے کی لالچ میں پرندے جن میں خاص طور پر چیلیں شامل ہیں وہ وہاں آتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسسٹنٹ کمشنر کینٹ ذیشان ندیم نے بتایا کہ ایئر پورٹ کے ارد گرد کے علاقوں میں جہاں کبوتروں کی اٹاریاں تھیں ’ہم نے ان لوگوں کو پہلے ہی نوٹیفکیشن بھیج دیا تھا کہ وہ اپنے پرندوں کو وہاں سے ہٹا لیں۔ اب آپریشن ہم نے ان لوگوں کے خلاف کیا ہے جنہوں نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے اٹاریاں ان کی چھتوں سے ہٹا لی ہیں اور اس آپریشن میں پولیس بھی ہمارے ساتھ تھی جنہوں نے متعدد لوگوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جنہوں نے اپنے پرندے نہیں ہٹائے تھے۔‘

لاہور ائیر پورٹ کے مینیجر چوہدری نظیر کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے یہ بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔

چوہدری نظیر نے بتایا کہ ’یہ پرندے مون سون کے موسم میں زیادہ نکلتے ہیں کیوں کہ بارشوں میں حشرات باہر نکلتے ہیں اور انہیں کھانے کے لیے یہ زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔‘

’لاہور ایئرپورٹ شہر کے بیچ و بیچ بنا ہوا ہے، اس کے ارد گرد کلبز ہیں ہوٹلز ہیں جہاں بڑے بڑے درخت ہیں جن پر پرندے رہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہاں صرف کبوتروں کا مسئلہ نہیں بلکہ بڑی بڑی چیلیں بھی ہیں۔ کبوتر بہت اونچی اڑان بھر سکتا ہے اس لیے وہ لینڈ کرتے یا اڑان بھرتے جہاز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

چوہدری نظیر کا کہنا تھا: ’ انتظامیہ ائیر پورٹ کے اندر کی ذمہ دار ہے اور ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان پرندوں کو یہاں سے ہٹایا جائے جس کے لیے ہم نے 26 نشانہ باز رکھے ہیں جو فلائٹس کے وقت پرندوں کو ڈرانے کے لیے فائر کریکرز شوٹ کرتے ہیں یا پریشر ہارنز بجاتے ہیں لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ پرندے بھی ان کے عادی ہو گئے ہیں۔ وہ اب ان چیزوں سے نہیں ڈرتے۔‘

ایوی ایشن کے ایک اور سینیئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’گذشتہ کچھ عرصے سے یہ خبریں بہت زیادہ سامنے آرہی ہیں کہ جہازوں سے پرندے ٹکرا رہے ہیں اور یہ انتہائی خطرناک ہے۔ یہ کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ دراصل سول ایوی ایشن اور منسٹر ایوی ایشن خواجہ سعد رفیق نے ہدایات جاری کی تھیں کہ کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا جائے کہ ایئر پورٹ کے ارد گرد پرندے کم سے کم ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان