خیبر پختونخوا: کچرے سے مچھلی اور پولٹری کی خوراک کی تیاری

یہ تجربہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے زوالوجی ڈپارٹمنٹ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم یاسین نسیم نے کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایک طالب علم گلی، کوچوں اور بازاروں میں پڑے کچرے سے مچھلیوں، لائیوسٹاک اور پولٹری کے لیے پروٹین بھری خوراک تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے خیال میں اس سے ماحول کو صاف کرنے میں اور بیماریوں میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

یہ تجربہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے زوالوجی ڈپارٹمنٹ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم یاسین نسیم نے کیا ہے۔

یاسین نسیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے پی ایچ ڈی ریسرچ میں اس آئیڈیا پر کام کیا کہ کس طرح کچرے کو کارآمد بنایا جا سکتا۔

’اس آئیڈیا پر ریسرچ کے بعد میں نے کام شروع کیا اور ایک  کیڑے کا انتخاب کیا جس کی افزائش نسل کے ذریعے کچرے کو کارآمد بنایا گیا۔‘

یاسین نسیم کہتے ہیں کہ بازاروں اور گلیوں سے روزانہ ہماری گاڑی کچرا اکھٹا کرکے لاتی ہے اور اس کچرے کو ایک عمل کے ذریعے کمپوسٹ کر کے اس میں کیڑے کے ہیچینگ کی جاتی ہے۔ اس کمپوسٹ کچرے کو لاروا کے ذریعے کارآمد بنایا جاتا ہے اور پروٹین سے بھرے کیڑے تیار ہوتے ہیں جس کو خشک کر کے فیڈ تیار کی جاتی ہے جبکہ دیگر کچرا آرگینک کھاد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

’چھ ماہ پہلے اس ریسرچ میں ایک کلو کچرے پر کام شروع کیا اور ابھی روزانہ 450 کلو کچرا کارآمد بنایا جاتا ہے جس سے مچھلی، لائیوسٹاک اور پولٹری کے لیے پروٹین سے بھری خوراک تیار کی جاتی ہے جبکہ زراعت میں استعمال ہونے والی آرگینک کھاد بھی تیار کی جاتی ہے۔‘

کیا اس منصوبے پر پاکستان میں کہیں اور بھی کام ہو رہا ہے؟

پی ایچ ڈی کے طالب علم یاسین نسیم نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار اس طرح سے پروٹین سے بھری خوراک تیار کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے فشریز فارمنگ، پولٹری اور لائیو سٹاک کے لیے سمندر سے مچھلیوں کو پکڑ کر انہیں خشک کر کے پروٹین کے لیے خوراک میں شامل کرتے تھے جس سے قدرتی طور پر پلنے والی مچھلیوں کی افزائش کی کمی پڑ سکتی تھی۔

’اس منصوبے سے ماحول بھی صاف ہوگا، بیماریاں بھی کم ہوں گی اور ماحول سے معدوم ہونے والی سپیشیز کی افزائش کا تحفظ بھی کیا جائے گا۔‘

پی ایچ ڈی طالب علم نے کہا کہ اس پروجیکٹ سے یونیورسٹی کے دیگر طالب علموں کو بھی اپنی ریسرچ میں فائدہ ملے گا جبکہ ’ یونیورسٹی کے پروفیسروں نے بھی مجھ سے رابطے کیے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس  پروجیکٹ کو ایکڈیمیا کے ساتھ لنک کروں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس