امریکی ارب پتیوں کے لیے گذشتہ دن برا رہا

امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق منگل کو امریکہ کے امیر ترین ارب پتی افراد کے اثاثوں میں 93 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی

نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں 13 ستمبر 2022 کو ایک بروکر مندی کی صورت حال پر پریشان ہے۔ (تصویر: اے ایف پی)

امریکہ میں منگل ارب پتیوں کے لیے برا دن ثابت ہوا جب لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کی گئی کنزیومر پرائس انڈیکس رپورٹ نے منگل کو امریکی سٹاک مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق منگل کو امریکہ کے امیر ترین ارب پتی افراد کے اثاثوں میں 93 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی جو اب تک کا نواں بدترین یومیہ نقصان ہے۔

سب سے زیادہ نقصان ایمازون کے بانی جیف بیزوس کا ہوا۔ ان کی دولت میں 9.8 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کو 8.4 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

مارک زکربرگ، لیری پیج، سرگئی برن اور اسٹیو بالمر کے اثاثوں میں چار ارب ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی جبکہ وارن بفے اور بل گیٹس کو بالترتیب 3.4 ارب ڈالر اور 2.8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکہ کے تینوں بڑے سٹاک انڈیکس میں تیزی سے کمی واقع ہوئی جو کہ جون 2020 کے بعد سے کورونا وبا کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ کمی تھی۔

بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے ہر بڑے شعبے بشمول ٹیکنالوجی سے منسلک مارکیٹ کے بڑے لیڈرز، ایپل انک، مائیکروسافٹ اور ایمازون کا بھی بھاری نقصان ہوا۔

مجموعی طور پر دنیا کے 500 امیر ترین افراد کی مالیت سال کے آغاز کے مقابلے میں تقریبا 1.2 ٹریلین ڈالر کم ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ کو 68.3 ارب ڈالر یعنی ان کی دولت کا تقریبا 54 فیصد نقصان ہوا ہے جبکہ بائینانس کے سی ای او چانگ پینگ ژاؤ کی دولت 61 ارب ڈالر یعنی تقریبا 64 فیصد کم ہوئی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق  توقع سے زیادہ آنے والے کنزیومر پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار کی وجہ سے امکان ہے کہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ  کرے گا۔

گذشتہ ماہ ہی فیڈرل ریزرو کے چیئر جیروم پاول کی آٹھ منٹ کی تقریر کے بعد امریکی ارب پتی افراد کے اسی گروپ کو ایک دن میں 78 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

تجزیہ کار امریکی معیشت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو سسٹم کی جانب سے سخت پالیسی کے طویل دورانیے سے معیشت کساد بازاری کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ