سیلاب کے بعد سموگ کا خطرہ: محکمہ ماحولیات کتنا تیار ہے؟

ماہرین کے خیال میں جنوبی پنجاب میں سیلاب کے کھڑے پانی سے بخارات فضا میں شامل ہو کر آلودگی اور نمی میں اضافہ کر سکتے ہیں، اور بارشیں بند ہونے کی صورت میں سموگ کے زیادہ ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

پنجاب کے جنوبی اضلاع میں ابھی بارشوں اور سیلاب کا پانی خشک ہونے نہیں پایا تھا کہ ایک اور قدرتی آفت سموگ کا خطرہ بھی سر پر منڈلانے لگا ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق اس مرتبہ سموگ کا ماضی کی نسبت زیادہ ہونے کا امکان موجود ہے۔

لاہور سمیت پنجاب کے دوسرے صنعتی شہروں میں ماحولیاتی آلودگی موجود ہے، اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں کھڑے پانی سے نکلنے والے بخارات کے باعث ہوا میں نمی کا تناسب معمول سے زیادہ بڑھے گا، جس سے شدید دھند کا پڑنا خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پنجاب میں ابھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، اور محکمہ موسمیات کے مطابق اکتوبر کے وسط تک باران رحمت کے جاری رہنے کی صورت میں سموگ کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

محکمہ ماحولیات کے مطابق لاہور میں منگل کی دوپہر تک ایئر کوالٹی انڈکس 144 تک ریکارڈ کی گئی، اور یہ لیول انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔

محکمہ ماحولیات پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے کاروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جن میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، فیکٹریوں اور بھٹہ خشت پر نظر رکھنا، اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں ایکشن لینا شامل ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہا ان کے محکمے نے صوبے میں ماحولیاتی آلودگی کی حوصلہ شکنی کو یقینی بنانے کے لیے ایک سپیشل ٹاسک فورس بھی تشکیل دی ہے۔

دوسری جانب کئی فیکٹری مالکان جرمانوں اور چھوٹی فیکٹریوں کی بندش کے باعث پریشان ہیں۔

فیکٹری مالکان نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ ماحولیات کی ٹیمیں ایسے کارخانوں پر بھی جرمانے عائد کرنے کے علاوہ بند کر رہے ہیں، جہاں ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے آلات استعنمال کیے جا رہے ہیں۔    

سموگ میں اضافہ کا خدشہ کیوں؟

ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کام کرنے والی سروت علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے میدانی علاقوں مین سیلاب کا پانی ابھی کھڑا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ درجہ حرارت کے باعث سیلاب کا کھڑا پانی بخارات میں تبدیل ہو رہا ہے، جو ہوا میں نمی کے تناسب میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

سروت علی کا کہنا تھا کہ سیلاب کے گندے پانی سے بننے والے بخارات میں آلودگی کا خدشہ بھی موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان بخارات سے نہ صرف صوبے کے جنوبی اضلاع میں دھند بڑھنے کا امکان ہے، بلکہ سیلابی پانیوں سے اوپر جانے والی کثافتوں کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو گا، اور نمی اور ماحولیاتی آلودگی کا امتزاج سموگ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

سروت علی کے مطابق پاکستان مین پہلے سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس سال بھی شہری ماضی کی طرح سموگ سے متاثر ہوں گے۔

ماہر ماحولیات رافع عالم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت کی سنجیدگی میں کمی ہے، جو اس کی رسمی کاروائیوں سے بڑی حد تک واضح ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب سموگ کا معاملہ بھی سنجیدہ شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

رافع عالم کے خیال میں ماضی کی طرح اس سال بھی گاڑیوں، فیکٹریوں اور فصلوں کی باقیات کے جلانے کے اضافے کی وجہ سے سموگ کی شدت بھی بڑھ جائے گی۔

ماہر ماحولیات نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھڑے پانی سے فضائی آلودگی مین اضافے کے امکان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امسال ایسے علاقوں میں دحند بھی ماضی کی نسبت زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ سموگ کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات کی غیر موجودگی میں ہر سال اس پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں کا ایئر کوالٹی انڈکس بڑھ چکا ہے، جس سے مختلف بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔

رافع عالم کے خیال میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ میں اضافے کے کنٹرول نہ ہونے کی اہم وجہ محکمہ موسمیات اور دوسرے حکومتی اداروں کی ان مسائل سے متعلق غیر سنجیدہ اپروچ اور محض رسمی کاروائیاں ہیں۔

‘چھوٹی فیکٹریوں یا گاڑیوں کے خلاف ایکشن ہوتا ہے، جبکہ بڑی انڈسٹری کا ہاتھ تک نہیں لگایا جاتا، جبکہ گاڑیوں کی تعداد میں بے ہنگم اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور غیر معیاری ایندھن کا دھواں فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔’  

انہوں نے کہا کہ بھٹہ خشت مالکان ہو یا فصلیں جلانے سے متعلق بھی حوصلہ افزا اقدامات ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں، کیونکہ صرف جرمانوں اور دوسری سزائیں ہی حل نہیں ہیں، بلکہ انہیں موحول دوست معاشی امداد سے پالیسی دینے کی ضرورت ہے۔

محکمہ ماحولیات کیا تیاری کر رہا ہے؟

محکمہ ماحولیات پنجاب کے ترجمان ساجد بشیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سموگ  پر قابو پانے کے لیے اس سال پہلے سے کاروائیاں شروع کر دی گئیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے لاہور،ملتان، فیصل آباد، گجرانوالہ اور سیالکوٹ میں سات اینٹی سموگ سکواڈ تشکیل دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو کارخانے دھواں کنٹرول کرنے والے سکربر استعمال نہیں کر رہے ان پر جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، اور دو ہفتوں میں ایک کروڑ سات لاکھ روپے مالیت کے جرمانے کیے جا چکے ہیں۔

ساجد کے بقول جن فیکٹریوں میں سکربر کے بغیر کوئلہ، ٹائر یا پلاسٹک جلایا جاتا تھا انہیں 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک جرمانہ کر کے سیل کیا جا رہا ہے۔

‘فیکٹریوں کی ہفتہ وار مانیٹرنگ کے علاوہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو جرمانے، انہیں بند کرنا، اور فصلیں جلانے والے کاشت کاروں کو بھی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔’

انہوں نے مزید کہا کہ بھٹہ خشت مالکان کو بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ انہیں منظور شدہ ڈیزائن کے علاوہ بھٹہ چلانے کی صورت میں جرمانے اور سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔

محکمہ موسمیات پنجاب کے عہدیدار اجمل شاد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ہونے والی بارشوں کا اکتوبر تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارشوں کے زیادہ ہونے کے باعث فضا کے صاف رہنے کا امکان موجود ہے، اور شاید اسی وجہ سے سموگ کی شدت بھی کم ہو۔ تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہو گا، کیونکہ موسم کسی بھی وقت تیور بدل سکتا ہے۔ 

ان کے خیال میں بارشوں سے ہوا صاف رہے گی اور سموگ اگر ہوتی بھی ہے تو زیادہ نقصان دہ ثابت نہیں ہو گی کیونکہ خشک موسم میں پڑنے والی سموگ خطرناک ہوتی ہے۔

لاہور کے بند روڈ پر واقع تعمیراتی سریہ بنانے والے کارخانے کے مالک غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ سکربرز کے استعمال کے باوجود محکمہ ماحولیات کی ٹیم نے ان پر جرمانہ عائد کیا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 50 ہزار روپے کے جرمانے کے علاوہ حکوم نے ان کا کارخانہ بھی بند کر دیا، جس سے انہیں لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

محکمہ ماحولیات کے ترجمان ساجد بشیر کے مطابق عام طور پر خلاف ورزی کرنے والے خارخانوں کی انتظامیہ جرمانے عائد ہونے پر سکربر کی موجودگی سے متعلق دروغ گوئی سے کام لیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اکثر کارخانوں کے مالکان سکربر موجود ہونے کے باوجود بند رکھتے ہیں تاکہ بجلی بچئی جا سکے، اور چھاپہ مار ٹیم کو کہتے ہیں کہ ابھی بند کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات