سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے: چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔

حالیہ دنوں کے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد میں غیر آئینی طور پر دیے گئے سپیکر کےفیصلے کو کالعدم قرار دیا(سپریم کورٹ آف پاکستان)

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے جمعے کو بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ  معاملات آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔’قانون کی حکمرانی پر عمل درآمد کروانا صرف عدلیہ کی نہیں دیگر ریاستی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔

’ایک تہائی ججز کی کمی پورا کر کے زیر التوا مقدمات کی کمی کو پورا کریں گے، میں پر اعتماد ہوں کہ موجودہ ججز کسی کو بھی آئین کی نفی نہیں کرنے نہیں دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آئین سے متعلق فیصلوں پر حکومت کو مکمل عمل درآمد کرنا چاہیے کیونکہ ’قانون کی حکمرانی بنیادی حقوق کی فراہمی کےبغیر ممکن نہیں ہے۔

’قانون کی حکمرانی پر عملدرآمد کروانا صرف عدلیہ کا کام نہیں بلکہ یہ دیگر ریاستی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔‘

ماضی میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ آئین کی بالادستی اور قانون پر عمل درآمد کا ادارہ ہے۔

’یہ دائرے میں رہتے ہوئے عوام کے مفاد کے لیے کام کرتی ہے۔ یوسف رضا گیلانی کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ کوئی آئین سے بالاتر نہیں۔

’سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز بنانے سے متعلق اہم فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لا کے خلاف فیصلہ دیا۔‘

’سپریم کورٹ مقدمے کے فیصلے کے بعد تنقید کی پرواہ نہیں کرتا‘

حالیہ دنوں کے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’تحریک عدم اعتماد میں غیر آئینی طور پر دیے گئے سپیکر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں سپیکر کا فیصلہ غیر آئینی تھا اوروزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے کیس میں بھی قانون کے مطابق فیصلہ دیا۔‘

پارلیمان کے کردار سے متعلق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ عوام کے مفاد کے لیے قانون سازی کرنے کا ادارہ ہے۔

’پارلیمنٹ بھی غیر قانونی کام نہیں کر سکتی۔ عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے، یہ اپنی ذمہ داری سے اچھی طرح واقف ہے۔ سپریم کورٹ مقدمے کے فیصلے کے بعد تنقید کی پرواہ نہیں کرتا۔‘

’حالیہ سیلاب ایگزیکٹو اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ‘

موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے متعلق سپریم کورٹ نے اہم فیصلے دیے ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو سوچنا ہوگا۔ ملک میں سیلاب کی وجہ سے تباہ کن صورت حال ہے جو ایگزیکٹو اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم سب نے مل کر سیلاب زدگان کی مدد کرنی ہے۔‘

’تعلیم اور صاف ماحول سمیت بنیادی حقوق کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گڈ گورننس عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے بہت اہم ہے۔ معیشت سے متعلق مقدمات میں سپریم کورٹ احتیاط سے کام لیتی ہے جبکہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں عدالت نے قانون میں ترمیم کا حکم دیا۔‘

’رواں سال سب سے زیادہ مقدمات نمٹانے گئے‘

ٹیکنالوجی کی مدد سے مقدمات کی سماعت سے متعلق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات سننا جدید ٹیکنالوجی کی طرف اہم قدم ہے۔ گذشتہ دس سالوں کے دوران رواں سال میں سب سے زیادہ مقدمات نمٹائے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا ’زیر التوا مقدمات میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ تمام ہائی کورٹس کی ذمہ داری ہے کہ ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیں، فوجداری مقدمات میں تفتیشی نظام بہتر نہ ہونے سے کم سزائیں ہوتی ہیں۔ نئے ججز کی تقرری سے عدالت کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان