کون کون اندر ہے؛ گرفتاریاں ہوئیں کیوں؟

گذشتہ چند مہینوں میں کئی اپوزیشن لیڈروں کی لگاتار گرفتاریوں کے بعد پاکستان کے میدان سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت موجود ہے۔

ایک سابق صدر، دو وزیر اعظم اور کئی سابق وزراء جن میں اکثریت حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ کی ہے اس وقت مختلف مقدمات اور تحقیقات میں قید میں ہیں۔

گذشتہ چند مہینوں میں کئی اپوزیشن لیڈروں کی لگاتار گرفتاریوں کے بعد پاکستان کے میدان سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت موجود ہے۔

وہ سابق وزیراعظم ہوں یا سابق صدر پاکستان، کوئی رکن قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی، سب کے سب کسی نہ کسی کیس میں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

آج بھی پاکستان مسلم لیگ کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب کی جانب سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اب تک کون کون، کس کس الزام میں حراست میں لیا جا چکا ہے، ایک نظر دیکھتے ہیں۔

1۔ نواز شریف

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم ان دنوں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

انھیں احتساب عدالت کی جانب سے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سنائی گئی ہے۔

علاج کی غرض سے نواز شریف کی سزا چھ ہفتوں کے لیے معطل کر دی گئی تھی تاہم یہ مدت پوری ہونے پر انھیں واپس کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیا گیا تھا۔

2۔ آصف علی زرداری

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی حراست میں ہیں۔

انھیں گذشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف زرداری کی جعلی اکاؤنٹس کیس میں ضمانت پانچ بار توسیع کے بعد مسترد کی تھی۔

3۔ فریال تالپور

سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو بھی جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی نیب نے حراست میں لیا تھا۔

جعلی اکاؤنٹ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر سابق صدر کو تو اسی روز گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم فریال تالپور کو بعد میں گرفتار کیا گیا۔

 اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر میں زرداری ہاؤس کے سامنے واقعے ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔

4۔ شاہد خاقان عباسی

سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نیب نے اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے ٹھوکر نیازبیگ ٹول پلازہ سے گرفتارکیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعرات 18 جولائی کو نیب کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی کیس میں طلب کیا گیا تھا لیکن انہوں نے ارجنٹ نوٹس پر فوری پیش ہونے سے معذرت کرتے ہوئے تین روز بعد پیش ہونے کا عندیہ دیا تھا۔ جس کے بعد نیب لاہور نے ان کا جواب مسترد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔

5۔ حمزہ شہباز

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی نیب کی حراست میں ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس میں تین بار ضمانت میں توسیع کے بعد حمزہ شہباز شریف کو عید الفطر کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

نیب کے مطابق لاہور کے مختلف بنکوں سے حمزہ شہباز نے 500 ملین کی ٹرانزیکشنز کیں۔

6۔ خواجہ سعد رفیق

مسلم لیگ ن کے ہی ایک اور سینیئر رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پیراگون سٹی کیس میں نیب جانب سے گذشتہ سال دسمبر میں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

نیب کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اپنی غیر حقیقی خریدار اہلیہ اور بھائی خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ مل کر قیصر امین بٹ اور ندیم ضیا کی شراکت میں ایئر ایونیو کے نام سے ایک ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا۔

قومی احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ ایئر ایونیو کو بعد میں ایک نئے ہاؤسنگ منصوبے پیراگون سٹی سے بدل دیا گیا جو ریکارڈز کے مطابق غیرقانونی منصوبہ ہے۔

خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق لاہور ہائی کورٹ کے احاطے سے حراست میں لیا گیا تھا۔

7۔ رانا ثنا اللہ

پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ ان دنوں 15 کلو گرام ہیروئن سمگل کرنے کے الزام میں حراست میں ہیں۔

انھیں اینٹی نارکوٹکس فورس نے رواں ماہ کے آغاز پر اسلام آباد، لاہور موٹروے پر سے ان کے ڈرائیور اور محافظین سمیت گرفتار کیا تھا۔

بعد میں لاہور میں منشیات کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت نے رکنِ قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں 14 دن کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

8۔ علی وزیر اور (9) محسن داوڑ:

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کو سکیورٹی فورسز نے خڑ کمر چیک پوسٹ واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔
’فوج کے ساتھ تصادم‘ کے بعد پہلے علی وزیر کو حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو بھی شمالی وزیرستان سے گرفتار کر لیا گیا۔

تاہم محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر تاحال نہیں جاری کیے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست